کاشف بھٹی: فاسٹ بولر سے لیفٹ آرم سپنر بننے کا سفر

کاشف بھٹی تصویر کے کاپی رائٹ PCB

لیفٹ آرم سپنر کاشف بھٹی کی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں پہلی بار شمولیت درحقیقت ان کی طویل اور صبرآزما محنت کا صلہ ہے۔

کاشف بھٹی نے سنہ 2007 میں اپنے فرسٹ کلاس کرئیر کا آغاز کیا تھا اور ان بارہ برسوں کے دوران وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں تین سو سے زائد وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں سو سے زائد اور ٹی ٹوئنٹی میں پچاس وکٹیں اس کے علاوہ ہیں۔

اگر ہم پاکستان کی حالیہ ٹیسٹ میچ کامیابیوں پر نظر ڈالیں تو وہ زیادہ تر سعید اجمل اور یاسر شاہ کی مرہون منت رہی ہیں۔ اس صورتحال میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لیفٹ آرم اسپنرز کا کردار فتح گر کے بجائے مددگار کے طور پر رہا ہے۔ اس کی بڑی مثالیں عبدالرحمن اور ذوالفقار بابر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا کی طرف سے کھیلنے کی ادھوری خواہش

دورہ آسٹریلیا: نوجوان ٹیم کا اعلان، عثمان قادر بھی شامل

سرفراز احمد کو کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا

شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption کاشف بھٹی نے 2017 میں قائداعظم ٹرافی کے صرف 9 میچوں میں 49 وکٹیں حاصل کی تھیں

محدود اوورز کی کرکٹ میں پچھلے کچھ عرصے سے ہم عماد وسیم، رضا حسن، محمد نواز، محمد اصغر اور ظفر گوہر کو دیکھتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاشف بھٹی مقابلے کی اس دوڑ میں ابھر کرسامنے نہیں آ سکے حالانکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کے اعداد و شمار متاثر کن رہے ہیں۔

سنہ 2017 کی قومی قائد اعظم ٹرافی میں انھوں نے سوئی سدرن گیس کی طرف سے صرف 9 میچوں میں 49 وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں فیصل آباد کے خلاف اننگز میں 50 رنز کے عوض 8 اور میچ میں 102 رنز دے کر 14 وکٹوں کی متاثر کن کارکردگی قابل ذکر تھی۔

اندرون سندھ میں کرکٹ

کاشف بھٹی سندھ کے شہر نواب شاہ میں پیدا ہوئے ہیں اور گلی محلے میں ٹیپ بال کرکٹ سے ابتدا کی۔ ان کے بڑے بھائی عارف بھٹی باقاعدہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ ایک دن کاشف بھٹی ان کے ساتھ میچ میں گئے ٹیم میں ایک کھلاڑی کم ہونے کی وجہ سے انھیں فیلڈنگ کے لیے کہا گیا۔ اچھی کارکردگی کے سبب انھیں اگلے میچ میں باقاعدہ کھیلنے کا موقع مل گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption کاشف بھٹی پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگزکی نمائندگی کر چکے ہیں

کاشف بھٹی کی ابتدائی کرکٹ میں حامد حسین خاصخیلی کا عمل دخل نمایاں رہا ہے جبکہ حوصلہ افزائی کرنے والوں میں چوہدری اکرم آرائیں بھی شامل تھے۔

کاشف بھٹی کا کرکٹ کا شوق انھیں ڈسٹرکٹ انڈر 19 تک لے آیا اور وہ حیدرآباد کی ریجنل اکیڈمی کا حصہ بنے۔ پھر ایک دن اخبار میں اشتہار دیکھ کر فوجی فرٹیلائزر کی ٹیم میں شمولیت کی درخواست دے دی۔

فاسٹ بولر سے لیفٹ آرم اسپنر

کاشف بھٹی نے کرکٹ کی ابتدا فاسٹ بولر کے طور پر کی تھی لیکن ایک میچ میں وائیڈ گیندیں کرنے کی وجہ سے انھیں سپنر بننے کا مشورہ دیا گیا، یوں وہ لیفٹ آرم سپنر بن گئے۔

کاشف بھٹی نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں یو بی ایل، سٹیٹ بینک اور سوئی سدرن گیس کی ٹیموں کی نمائندگی کی ہے۔ وہ اپنی بولنگ میں بہتری لانے کے سلسلے میں لیفٹ آرم اسپنر مسعود انوار کے معترف رہے ہیں جو پاکستان کی طرف سے ایک ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔

مسعود انوار نے ہی انھیں پہلی بار یو بی ایل کی ٹیم میں شامل کیا تھا اور ان کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی۔

کاشف بھٹی کے پسندیدہ بولر نیوزی لینڈ کے ڈینئل ویٹوری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاشف بھٹی کے پسندیدہ بولر نیوزی لینڈ کے ڈینئل ویٹوری ہیں

پی ایس ایل نہ کھیلنے کے برابر

کاشف بھٹی کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں کراچی کنگز نے حاصل کیا تھا لیکن وہ صرف ایک میچ کھیل پائے۔ پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں وہ ملتان سلطانز میں شامل ہوئے لیکن انھیں ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔

کاشف بھٹی اس سے قبل پاکستان اے کی طرف سے انگلینڈ لائنز اور نیوزی لینڈ اے کے خلاف کھیل چکے ہیں۔

عام رائے یہ ہے کہ کاشف بھٹی کی 33 برس کی عمر میں پہلی بار پاکستانی ٹیم میں سلیکشن قدرے تاخیر سے ہوئی ہے لیکن وہ خود اس سوچ پر یقین رکھتے ہیں کہ سپنر کی کوئی عمر نہیں ہوتی اگر وہ فٹ ہے تو کسی بھی عمر میں کھیل سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں