پاکستان ہاکی ٹیم کی نیدر لینڈز سے شکست: ’اولمپکس سے باہر ہونے پر اب کوئی حیرت نہیں‘

ہاکی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

1986 کے عالمی کپ میں جب پاکستان کی ہاکی ٹیم نے 12 ٹیموں میں 11ویں پوزیشن حاصل کی تو ملک کے ایک بڑے اخبار نے صفحہ اول پر یہ سرخی لگائی تھی: ’پاکستانی ہاکی کا جنازہ اٹھ گیا۔‘

چونکہ اس زمانے میں پاکستانی ہاکی ٹیم اپنے عروج پر تھی لہذا یہ شکست سب کے لیے بہت بڑا دھچکہ تھی جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔

لیکن اب ایسی شکست کوئی بڑی خبر نہیں رہی۔ اس طرح کی خبریں سننے کے اب سب عادی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہاکی صرف ہاری نہیں بلکہ برباد ہو گئی ہے‘

جب پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے دکانیں کھول دی گئی تھیں

پاکستان اور انڈیا ایشیئن ہاکی چیمپئن شپ کے مشترکہ فاتح

ایک ایسی ہی خبر پاکستانی ہاکی ٹیم کے ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کی ہے جس کے لیے اسے نیدر لینڈز کے خلاف دو میچز کھیلنے کو ملے تھے جنھیں جیت کر ٹوکیو پہنچا جاسکتا تھا۔

لیکن پہلا میچ چار، چار سے برابر کھیلنے کے بعد اسے دوسرے میچ میں ایک کے مقابلے میں چھ گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ لگاتار دوسرے اولمپکس ہیں جن میں پاکستانی ہاکی ٹیم کوالیفائی کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔

ٹوکیو اولمپکس کوالیفائنگ میچز

پاکستانی ہاکی ٹیم اپنی سابقہ کارکردگی کی وجہ سے ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شامل نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاکی کی عالمی رینکنگ میں پاکستان 17ویں نمبر پر ہے جبکہ نیدر لینڈز کی پوزیشن تیسری ہے

دراصل اسے پرو لیگ کھیلنی تھی۔ لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن مبینہ طور پر مالی مشکلات کے سبب اس لیگ میں ٹیم نہ بھیج سکی جس پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن پر جرمانہ عائد کردیا تھا۔

اس کی پہلی قسط ادا کرنے کے بعد انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کو اولمپک کوالیفائنگ مرحلے میں دو میچز کھیلنے کی اجازت دے دی تھی لیکن قرعہ ہالینڈ کے نام نکل آیا جو اس وقت عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کی عالمی رینکنگ 17ویں ہے۔

انڈیا ہاکی کی عالمی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہے اور آسٹریلیا کا نمبر پہلا ہے۔

پاکستانی ہاکی کا زوال کب شروع ہوا؟

پاکستان نے آخری بار 1984 میں اولمپکس ٹائٹل جیتا تھا جبکہ 1994 میں اس نے آخری بار عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں 2010 میں ہاکی ورلڈ کپ ہوا تو پاکستان نے اپنی تاریخ کی بدترین کارکردگی دکھائی

تاہم اس کے بعد بتدریج اس کی کارکردگی زوال پذیر ہوتی گئی لیکن آخری چند برسوں میں اس کی کارکردگی اس نہج پر پہنچ گئی جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔

2010 میں انڈیا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کی ہاکی ٹیم نے اپنی تاریخ کی بدترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 12 ٹیموں میں آخری پوزیشن حاصل کی تھی۔

2012 کے لندن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم ساتویں نمبر پر آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2013 کا ایشیا کپ سیمی فائنل ہارنے کے بعد پاکستان پہلی بار 2014 کے عالمی کپ سے باہر ہوگیا تھا

اگست 2013 میں پاکستانی ٹیم ایشیا کپ کا سیمی فائنل کوریا کے خلاف ہار گئی تھی جس کے سبب اسے اپنی تاریخ میں پہلی بار2014 کے عالمی کپ سے باہر ہونا پڑا تھا۔

جولائی 2015 میں بیلجیم میں ہونے والے اولمپکس کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں پاکستان کو آئرلینڈ کے ہاتھوں چونکا دینے والی شکست کے نتیجے میں 2016 کے ریو اولمپکس سے باہر ہونا پڑا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان ہاکی میں اولمپکس سے باہر ہوگیا تھا۔

2018 میں پاکستانی ہاکی ٹیم کامن ویلتھ گیمز میں 10 ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آئی۔ چیمپیئنز ٹرافی میں ٹیم کو وائلڈ کارڈ کی وجہ سے شرکت کا موقع ملا لیکن وہ چھ ٹیموں میں آخری پوزیشن حاصل کر سکی جبکہ انڈیا میں منعقدہ ورلڈ کپ میں وہ 16 ٹیموں میں 12ویں پوزیشن پر آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے 2014 کے ہاکی ورلڈ کپ سے باہر ہوجانے کے بعد کراچی میں لوگوں کا احتجاج

ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران کا میوزیکل چیئر

پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرح پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی تقرری بھی حکومت کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فیڈریشن حکومتوں کے پسندیدہ افراد کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں زیادہ تر سابق اولمپیئنز ہی نظر آئے ہیں لیکن ان سب کی سیاسی وابستگیاں انھیں ان عہدوں پر لاتی رہی ہیں۔

موجودہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ابتک 68 کروڑ روپے کی گرانٹ مل چکی ہے۔ اس سے پہلے جو لوگ فیڈریشن چلا رہے تھے انھیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں مجموعی طور پر ایک ارب سے بھی زائد کی گرانٹ ملی تھی۔

لیکن بدقسمتی سے ملک میں ہاکی کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق استوار کرنے کے لیے بظاہر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

ملک بھر میں اکیڈمیز کا جال بچھانے اور کوچنگ پروگرام کے بلند بانگ دعوے کیے گئے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

یہ بات بھی خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے کہ ہر وقت گرانٹ نہ ملنے اور اخراجات کا رونا رونے والے فیڈریشن کے حکام غیر ملکی دورے کرنے سے ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہر نہیں کرتے۔ بلکہ ان غیر ملکی دوروں پر حکام کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں