بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان شکیب الحسن پر دو سال کی پابندی کیوں لگائی گئی؟

شکیب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے کپتان شکیب الحسن پر ’بدعنوانی کی رپورٹ نہ دینے‘ پر دو سال کی پابندی لگا دی گئی ہے۔

32 سالہ کرکٹر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان سے ’سٹے بازی کے لیے اندرونی معلومات‘ حاصل کرنے کے لیے تین بار رجوع کیا گیا تھا۔

ان سے رجوع کرنے کا معاملہ سنہ 2018 میں ہونے والی بین الاقوامی سہ فریقی سیریز اور اسی برس انڈین پریمیئر ليگ کے دوران پیش آیا تھا۔ سہ فریقی سیریز میں سری لنکا کے ساتھ زمبابوے بھی شامل تھی۔

شکیب الحسن ون ڈے کی بین الاقوامی رینکنگ میں آل راؤنڈر کے زمرے میں پہلے نمبر پر ہیں اور انھوں نے 338 میچوں میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی ہے۔

سنہ 2019 کے ورلڈ کپ میں وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں تیسرے نمبر پر تھے اور انھوں نے دو سنچریاں بنائی تھیں جس میں ایک انگلینڈ کے خلاف کارڈف میں کھیلے جانے والے گروپ میچ میں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

امپائر پر ’چیخنے‘ پر شکیب الحسن کو جرمانہ

تعاون نہ کرنے پر ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد

سٹے بازوں کے رابطے کی تصدیق، کھلاڑی کا نام ظاہر نہیں کیا

کرکٹر شکیب الحسن پر لگنے والی دو سالہ پابندی میں سے ایک سال کو معاف کر دیا گیا ہے اور اب وہ 29 اکتوبر 2020 کو کھیل میں واپس آ سکتے ہیں۔

پابندی کے اعلان کے بعد شکیب الحسن نے کہا کہ ’جنھوں نے میری آج تک حمایت کی ہے مجھے امید ہے کہ وہ، میرے مداح، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، حکومت، صحافی وغیرہ میرے اچھے اور برے وقت میں میرا ساتھ دیں گے۔‘

'اگر آپ کی حمایت جاری رہتی ہے تو مجھے امید ہے کہ میں جلد ہی کھیل میں واپسی کروں گا۔ میں مزید مضبوط ہوں گا اور میں اپنی ذمہ داریوں کو مزید سنجیدگی کے ساتھ نبھاؤں گا۔‘

کرکٹر شکیب نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے یونٹ کو بتایا کہ ان سے جب رجوع کیا گیا تو انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا، کوئی معلومات فراہم نہیں کی، کوئی پیسے یا دوسرے انعام نہیں لیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption شکیب پر پابندی کے بعد لوگ شیر بنگلا نیشنل سٹیڈیم کے باہر جمع ہوئے اور نعرے بازی کی

ضابطہ کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں اس بات کے لیے سزا دی گئی ہے کہ ’ان سے جب رجوع کیا گیا اور بدعنوانی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئ تو انھوں نے اس کے متعلق پوری تفصیل ظاہر نہیں کی۔‘

کرکٹر شکیب جو بنگلہ دیش ٹی 20 ٹیم کے بھی کپتان ہیں نے کہا ہے کہ ’ظاہر ہے، میں بہت افسردہ ہوں کہ جس کھیل سے میں محبت کرتا ہوں اس کے کھیلنے پر مجھ پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن میں اپنی پابندی سے مکمل متفق ہوں کہ میں نے ان کے متعلق رپورٹ نہیں کیا۔‘

آئی سی سی کی انسداد بدعنوانی اکائی کے جنرل منیجر ایلکس مارشل نے کہا کہ ’شکیب الحسن انتہائی تجربہ کار بین الاقوامی کرکٹر ہیں۔ انھوں نے بہت سے تعلیمی سیشن میں شرکت کر رکھی ہے اور وہ ضابطے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں۔ انھیں ان تمام واقعات کی رپورٹ کرنی چاہیے تھی۔‘

گذشتہ ہفتے شکیب الحسن نے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کی جانب سے ہڑتال کی رہنمائی کی تھی۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کے تقریباً تمام تر مطالبات کو تسلیم کر لینے کے بعد ہڑتال فوری ختم ہو گئی۔ ان کے مطالبات میں بہتر اجرت اور بہتر سہولیات شامل تھیں۔

بنگلہ دیش کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں اب ان کی جگہ مومن الحق کپتان ہوں گے جبکہ ٹی 20 ٹیم میں محموداللہ ان کی جگہ لیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption 23 اکتوبر کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے جب کھلاڑیوں کے مطالبات تسلیم کر لیے اس کے بعد شکیب نے میڈیا سے خطاب کیا

شکیب الحسن پر پابندی کیوں لگائی گئی

آئی سی سی نے شکیب الحسن پر پابندی لگانے کی وجوہات کی فہرست تیار کی جو کہ انسداد بدعنوانی کی اکائی (اے سی یو) سے 23 جنوری اور 27 اگست کو ان کی ملاقات کے بعد تیار کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں:

  • آئی سی سی نے کہا ہے کہ شکیب الحسن نے اعتراف کیا کہ انھیں پتہ تھا کہ ان کا فون نمبر دیپک اگروال کو دیا گیا ہے۔ اگروال ’ایک ایسا شخص ہے جس کے بارے میں اے سی یو کو معلوم ہے کہ وہ کرکٹ میں بدعنوانی میں ملوث ہے۔‘
  • نومبر 2017 میں شکیب الحسن نے اگروال کے ساتھ واٹس ایپ پر پیغامات کا تبادلہ کیا جس میں اگروال نے ایک ملاقات کو طے کرنے کی کوشش کی۔
  • جنوری سنہ 2018 میں زمبابوے اور سری لنکا کے درمیان سہ رخی سیریز کے دوران ایک بار پھر شکیب الحسن کا اگروال سے واٹس ایپ پر رابطہ ہوا۔
  • 19 جنوری 2018 کو جب سہ رخی سیریز کا اس دن ایک میچ تھا اگروال نے شکیب الحسن کو پیغام بھیجا کہ ’کیا ہم اس میں کام کریں یا پھر آئی پی ایل تک انتظار کریں۔‘ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ 'کام' کا مطلب اندرونی اطلاعات فراہم کرنا تھا۔
  • شکیب الحسن نے اس کے متعلق آئی سی سی کو نہیں بتایا
  • 23 جنوری 2018 کو شکیب الحسن کو اگروال کی جانب سے ایک اور پیغام آيا کہ ’اس سیریز میں کچھ ہے کیا بھائی؟‘
  • شکیب الحسن نے اس پیغام کی رپورٹ بھی نہیں کی اور اعتراف کیا کہ اس میں اگروال نے سیریز کے متعلق اندرونی اطلاعات طلب کی تھی۔
  • 26 اپریل 2018 کو آئی پی ایل میچ کے دوران انھیں اگروال کا واٹس اپ پیغام ملا جب وہ سن رائزرز حیدرآباد کے لیے کھیل رہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایک خاص کھلاڑی اس میچ میں کھیل رہا ہے یا نہیں۔
  • اگروال نے پیغامات کا سلسلہ جاری رکھا اور بٹ کوائن اور ڈالر اکاؤنٹ کی بات کرتا رہا اور شکیب سے ڈالر اکاؤنٹ کی تفصیل پوچھی۔ اس کے جواب میں شیکب نے اگروال سے کہا کہ وہ ’پہلے‘ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔
  • آئی سی سی کو علم ہوا کہ 26 اپریل 2018 کو جو پیغامات وصول ہوئے تھے اس میں ایک نمبر کو ڈلیٹ کر دیا گیا تھا۔ شیکب نے تصدیق کی کہ یہ ڈلیٹ کیے گئے پیغامات اندرونی معلومات کے متعلق تھے۔
  • شکیب نے کہا کہ انھوں نے محسوس کیا کہ اگروال ’چال باز‘ ہے اور یہ کہ وہ ’سٹے باز‘ بھی ہے۔
  • شکیب نے 26 اپریل کو کیے جانے والے رابطے کے متعلق بھی رپورٹ نہیں کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں