ٹوکیو اولمپکس: ریسلر انعام بٹ کی ٹوکیو اولمپکس میں شرکت، وقت کم مقابلہ سخت

انعام بٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی پہلوان انعام بٹ آئندہ سال ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں مگر اس کی وجہ ان کی کارکردگی نہیں بلکہ اربابِ اختیار کی عدم دلچسپی ہے۔

انعام بٹ نے گذشتہ دنوں قطر میں ہونے والے ورلڈ بیچ گیمز میں طلائی کا تمغہ جیتا ہے۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹوکیو اولمپکس میں ان کی شرکت کا انحصار ایشیئن چیمپیئن شپ اور اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں کامیابی پر ہے لیکن اس کی تیاری کے لیے اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ڈاکٹر، انجینیئر کیا بننا، بیٹا پہلوانی میں نام کرنا‘

انعام بٹ: ’میرے پاس وسائل نہیں، صرف جنون ہے‘

’مٹی کے اکھاڑوں سے میٹ ریسلنگ کا سفر آسان نہیں‘

اولمپکس میں شرکت کیسے ممکن ہے؟

انعام بٹ کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں کوالیفائی کرنے کا پہلا موقع ورلڈ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں ہاتھ آیا تھا جو ستمبر میں قازقستان میں منعقد ہوئی تھی لیکن فنڈز نہ ہونے کے سبب انھیں اس عالمی چیمپیئن شپ میں شرکت

کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

انعام بٹ کہتے ہیں کہ فروری میں انڈیا میں ایشیئن چیمپیئن شپ ہونے والی ہے اس کے بعد مارچ میں چین اور اپریل میں بلغاریہ میں اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈز ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے بارہا پاکستان سپورٹس بورڈ کو خطوط لکھے ہیں کہ ان مقابلوں میں صرف تین چار ماہ رہ گئے ہیں لہذا ان مقابلوں کے لیے ٹریننگ اور ان میں شرکت کو یقینی بنایا جائے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

انعام بٹ کا کہنا ہے کہ ’دنیا کے دیگر ممالک دو دو تین تین سال سے اولمپکس کی تیاری کر رہے ہیں لیکن اگر ہم تین ماہ کی ٹریننگ بھی اپنے کھلاڑیوں کو فراہم نہیں کر سکتے تو پھر اولمپکس میں شرکت نہیں کی جا سکتی۔‘

سرپرستی نہ ہونے کے باوجود شاندار کارکردگی

انعام بٹ کا کہنا ہے کہ ’اگر ریسلرز کو زیادہ سہولتیں میسر ہوتیں تو اس کھیل میں تمغوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی اور آپ کو کئی انعام بٹ کامیابیاں سمیٹتے نظر آتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ خود نہیں لے سکتے، یہ ایک ٹیم ورک ہے جس میں پاکستان ریسلنگ فیڈریشن، ان کے کوچز اور ٹریننگ پارٹنرز کی محنت بھی شامل ہے۔‘

انعام بٹ نے سنہ 2010 میں انڈیا کے شہر دلی میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ جیتا جسے وہ اپنے کریئر کی سب سے یادگار کارکردگی قرار دیتے ہیں۔

سنہ 2016 میں انھوں نے انڈین شہر گوہاٹی میں ہونے والی ساؤتھ ایشیئن گیمز میں طلائی تمغہ جیتا۔ اسی سال ویتنام میں منعقدہ بیچ ایشیئن گیمز میں بھی انھوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

سنہ 2017 میں انعام بٹ نے ترکی میں کھیلی گئی ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپیئن شپ کے فائنل میں ایرانی پہلوان کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا۔

سنہ 2018 میں انھوں نے اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے فائنل میں جارجیا کے پہلوان کو شکست دی اور ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں لگاتار دوسرے سال گولڈ میڈل جیتا تھا۔

سنہ 2018 میں ہی آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں انھوں نے اپنے تمغوں میں ایک اور طلائی تمغے کا اضافہ کیا تھا۔

سنہ 2019 میں انھوں نے دوحا میں ہونے والے ورلڈ بیچ گیمز میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ اس سال انعام بٹ کو حکومت پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں