دورہِ آسٹریلیا: سولہ برس کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کہتے ہیں ’والد نے کہا انگریز والا کھیل مت کھیلو‘

نسیم شاہ تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption نسیم شاہ

لوئر دیر کے گاؤں میں ٹیپ بال سے کرکٹ کی ابتدا کرنے والے فاسٹ بولر نسیم شاہ کا شوق صرف سولہ سال کی عمر میں انھیں آسٹریلیا پہنچا چکا ہے، جہاں وہ اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کرنے کے لیے ُپرجوش اور بے تاب دکھائی دے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں نسیم شاہ نے کہا کہ جب کوئی کرکٹر پروفیشنل کرکٹ شروع کرتا ہے تو اس کا ایک ہی خواب ہوتا ہے کہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنی ہے ۔

آسٹریلیا اے کے خلاف نسیم شاہ کی بولنگ نے سب کو متاثر کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ خود کو ذہنی طور پر پہلے سے انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے تیار کر چکے تھے اور جب ان کا نام آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے آیا تو خوشی تو ہوئی لیکن وہ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ یہ ایک سخت سیریز ہے جس میں انھیں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ خود پر کوئی دباؤ محسوس نہیں کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دورہ آسٹریلیا: نوجوان ٹیم کا اعلان، عثمان قادر بھی شامل

’ویلکم بیک پاکستان کرکٹ‘

’کرکٹ ہی میرا پہلا پیار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

’انگریزوں کا کھیل مت کھیلو‘

نسیم شاہ نے بتایا کہ ان کے والد تبلیغی تھے اور جب انھیں پتہ چلا کہ مجھے کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق ہے اور میں ٹیپ بال سے گاؤں میں کرکٹ کھیلتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ یہ انگریز والا کھیل ہے اس میں اپنا وقت ضائع مت کرو اور تعلیم پر توجہ دو۔

’لیکن میں کہاں رکنے والے تھا۔ ایک مرتبہ جب میں رمضان میں نائٹ میچ کھیل کر گھر واپس آیا تو میرا خیال تھا کہ وہ سو رہے ہوں گے لیکن وہ جاگ رہے تھے اور پھر میری خوب پٹائی ہوئی۔‘

نسیم نے مزید بتایا ’میرے خالو اور میرے بڑے بھائی کو کرکٹ کی سمجھ تھی لہذا انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور میرے والد کو اپنی رائے بدلنے پر مجبور کیا۔ اب یہ عالم ہے کہ میرے والد میری کرکٹ سے خوش ہیں لیکن مجھے تلقین کرتے ہیں کہ زیادہ محنت سے کھیلو۔‘

’کرکٹ کی خاطرہاسٹل میں اکیلے ٹھہرنا`

نسیم شاہ ان لوگوں کو بالکل نہیں بھولتے جنھوں نے ان کے کریئر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھیں اب بھی یاد ہے کہ وہ جب لوئر دیر سے لاہور آئے تھے تو کس طرح مختلف لوگوں نے ان کی رہنمائی کی تھی۔

’جب میں پہلی بار لاہور آیا تو میں وہاں ملک نصر کے ہاسٹل میں اکیلے ٹھہرا جنھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی حالانکہ میں ان کی اکیڈمی کی بجائے عبدالقادر اکیڈمی میں کرکٹ سیکھتا تھا لیکن انھوں نے اس کا بالکل ُبرا نہیں منایا۔‘

عبدالقادر صاحب نے بھی مجھے بچوں کی طرح رکھا اور ہر قدم پر حوصلہ بڑھایا۔ جب میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں آیا تو وہاں مدثر نذر نے میری اس وقت ہمت بڑھائی جب میری کمر میں فریکچر ہوا تھا اور میں دس ماہ تک کھیل سے دور تھا۔‘

’وہ وقت میرے لیے بہت کٹھن تھا۔ مدثر نذر نے میری فٹنس پر کام کیا اور یہ کہا کہ میں ایک دن بڑا بولر بنوں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

’فواد عالم کو آؤٹ کر کے ہاتھ جوڑنا‘

کچھ روز قبل نسیم شاہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ فواد عالم کو آؤٹ کرنے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑ رہے ہیں۔ اس وڈیو پر سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کے تبصرے ہوئے۔

نسیم شاہ کہتے ہیں ’میں نے فواد عالم کو جب آؤٹ کیا تو وہ اپنی سنچری سے صرف آٹھ رنز کی دوری پر تھے۔ مجھے اس کا افسوس تھا کہ ان کی سنچری مکمل نہ ہوسکی۔ چونکہ اس ویڈیو میں آواز نہیں ہے اور صرف یہ نظرآرہا ہے کہ میں انھیں آؤٹ کرنے کے بعد ہاتھ جوڑ رہا ہوں حالانکہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ فواد بھائی آئی ایم سوری۔‘

’شین بانڈ کا بولنگ ایکشن پسند‘

نسیم شاہ نے بتایا کہ انھوں نے اپنی بولنگ کو بہتر بنانے کے لیے مختلف فاسٹ بولرز کی ویڈیوز دیکھی ہیں۔

’میں نے نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر شین بانڈ کی آسٹریلیا کے خلاف میچ کی ویڈیو دیکھی۔ میں ان کے بولنگ ایکشن سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ وسیم اکرم، وقاریونس اور شعیب اختر کی بولنگ سے بھی بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی رفتار کے ساتھ ساتھ لائن لینتھ، سوئنگ اور یارکر پر بھی توجہ دیتے ہیں کیونکہ بولنگ میں ویری ایشن بہت ضروری ہے۔

نسیم شاہ کے کریئر پر نظر

نسیم شاہ کی باقاعدہ کرکٹ سنہ 2016 میں پی سی بی انڈر16 ٹورنامنٹ سے شروع ہوئی۔

سنہ 2017 میں انھوں نے دبئی میں پاکستان انڈر16 کی طرف سے آسٹریلیا انڈر16 کے خلاف میچز کھیلے۔

سنہ 2018 میں نسیم شاہ نے اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے لاہور بلوز کےخلاف کیا۔

اپنے دوسرے ہی فرسٹ کلاس میچ میں جو پاکستان ٹیلی ویژن کے خلاف تھا انھوں نے دوسری اننگز میں 59رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔

نسیم شاہ نے گزشتہ سال جونیئر ایشیا کپ میں ہانگ کانگ انڈر19 کے خلاف میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

اس سال پاکستان انڈر19 کےدورہ جنوبی افریقہ میں انھوں نے پانچ میچز میں 12 وکٹیں حاصل کیں۔

نسیم شاہ نے آسٹریلیا روانگی سے قبل قائداعظم ٹرافی میں سینٹرل پنجاب کی طرف سے سندھ کے خلاف میچ میں نو وکٹیں حاصل کیں، جس میں پہلی اننگز میں 78 رنز دے کر چھ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی قابل ذکر تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں