'پاکستان بھی ہارنا نہیں چاہتا تھا'

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Metcalfe

ٹی ٹوئنٹی اننگز کے آخری پانچ اوور نہایت فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ یہاں کئی بار سیدھے سیدھے سے اہداف ذرا سی لمحاتی غلطیوں کی رو میں کھو جاتے ہیں۔

پاکستان پہلے پندرہ اوور میں میچ سے کہیں پیچھے کچھوے کی چال چل رہا تھا۔ یکبارگی گمان ہوا کہ آسٹریلیا کی قومی ٹیم کے سامنے پاکستان کی کوئی جونئیر ٹیم کھیل رہی ہے۔

مزید پڑھیے:

آسٹریلیا نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی

بارش، بابر اعظم اور محمد عرفان

بابر اعظم ایک چٹان کی طرح ایک اینڈ پہ ڈٹے ہوئے تھے۔ دوسرے اینڈ پہ وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی ملاقاتی آ نکلتا اور ہلکی سی سلام دعا کر کے واپس ہو لیتا۔ صرف اکیلے بابر اعظم تھے جو مُصِر تھے کہ یہ بولنگ اٹیک کوئی ایسا مہان نہیں کہ اتنی جلدی ہمت ہار دی جائے۔

پھر اچانک افتخار احمد کریز پر آئے اور ایرون فنچ کی ہنستی کھیلتی پلاننگ کے طوطے اڑا دئیے۔ پاکستانی شائقین عموماً ایسی اننگز پہ 'آفریدیت' کا لیبل لگا دیتے ہیں مگر یہ اننگز ایسے کسی بھی لیبل سے کوسوں پرے تھی۔

آخری پانچ اوور، جو بہت کٹھن ہوتے ہیں، صرف آسٹریلوی بولروں پہ کٹھن ثابت ہوئے۔ افتخار احمد کا ہر شاٹ بلے کے مڈل سے نکلا اور گیند فیلڈرز کو غچے دے دے کر باؤنڈری کے پار پہنچتی رہی۔

اس ایک اننگز نے اس بے کیف سے میچ میں جان ڈال دی جو صرف اکیلے بابر اعظم کے بوجھ پہ چلا آ رہا تھا۔

اس اننگز نے پاکستانی ڈریسنگ روم میں امید کی کرن پیدا کی۔ کپتان کے بھی اوسان بحال ہو گئے اور بولروں میں بھی کچھ یقین سا آ گیا۔

لیکن ڈیوڈ وارنر ہمیشہ اپنی مخصوص طرز کی کرکٹ ہی کھیلتے ہیں جس کا خاصہ یہ ہے کہ بولر کے اعداد و شمار پہ سر کھپانے کی بجائے ہر گیند کو اس کے میرٹ پہ کھیلا جائے اور باؤنڈری پار پھینکنے کی تمنا رکھی جائے۔

بابر اعظم نے بہت اچھا کیا کہ نیا گیند محمد عرفان سے لے کر محمد عامر کو تھما دیا۔ محمد عرفان اب اس قدر فٹ نہیں ہیں کہ نئے گیند کو کنٹرول کر سکیں، البتہ مڈل اوورز میں ان کا کنٹرول خوب ہے۔

اگر محمد عامر وارنر کی وکٹ حاصل نہ کرتے تو یہ میچ بہت جلدی ختم ہو جاتا۔ لیکن وارنر کی وکٹ کے بعد میچ کا توازن درست ہو گیا جہاں نو آموز آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو نمبرون بولنگ اٹیک کا سامنا کرنا تھا۔

لو سکورنگ میچز میں اہداف کا دفاع ماضی میں پاکستان کا خاصہ رہا ہے جب مصباح کپتان ہوا کرتے تھے۔ المیہ یہ رہا کہ مصباح کی کوچنگ میں بھی پاکستانی بولر انہی مسائل سے دوچار ہیں جو ان کی کپتانی میں تھے۔

مڈل اوورز میں پاکستان نے بہت مہارت سے رنز کے بہاؤ کو مسدود کیا۔ درحقیقت محمد عامر کے تیسرے اوور تک میچ پاکستان کی گرفت سے باہر نہیں گیا تھا۔ لیکن سٹیو سمتھ کریز پر موجود تھے۔

سمتھ کی اننگز بابر اعظم سے بھی اچھی نکلی کہ جنہیں کم از کم دوسرے اینڈ سے افتخار احمد کی ہی تائید میسر ہو گئی تھی۔ جہاں پاکستانی بولر اس میچ کو لے آئے تھے، وہاں سے آسٹریلیا کا جیتنا نہایت دشوار تھا اگر سمتھ میدان میں نہ ہوتے۔

کوئی بھی ٹیم ہارنے کے لئے نہیں کھیلتی۔ کوئی بھی کپتان ہارنا نہیں چاہتا۔ پاکستان بھی ہارنا نہیں چاہتا تھا لیکن پاکستان کا مڈل آرڈر اپنے دل سے ہار گیا۔

حارث سہیل، محمد رضوان اور آصف علی کو یہ پہچاننا ہو گا کہ وقت بدل چکا ہے اور وقت کے ساتھ ان کی بیٹنگ پوزیشنز بھی۔ اب نئے کردار میں اپنا پرانا روپ جگانے کے لئے جو بھی کرنا پڑے، انہیں کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں