سمیع چوہدری کا کالم: بارش، بابر اعظم اور محمد عرفان

بابر اعظم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابر اعظم کو ان کی اچھی پرفارمنس کی وجہ سے کپتانی کے لیے چنا گیا ہے

آسٹریلیا کا دورہ کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ دنیا کی مضبوط سے مضبوط ٹیم بھی جب آسٹریلیا کی راہ لیتی ہے تو اعصاب میں کھچاؤ سا ہوتا ہے۔

نامہرباں وکٹیں اور تُنک مزاج آسٹریلوی بولرز کا خوف الگ ہوتا ہے اور بال پر حاوی ہو جانے والے بلے بازوں کی پریشانی الگ سے ہوتی ہے۔ آسٹریلوی وکٹیں وہ ہیں کہ جہاں گیند کا مزاج دنیا بھر کی وکٹوں کے برعکس ہوتا ہے۔

پچھلےمیچ میں پاکستان پر آسٹریلوی کنڈیشنز کا دباؤ تو تھا ہی، بہت سے خدشات اندر سے بھی تھے۔ ایک نئی منیجمنٹ، نیا کپتان اور لگ بھگ نئی ٹیم۔ بابر اعظم کے لیے چیلنج کوئی ایک نہیں تھا۔

یہ بابر اعظم ہی ہیں جو پچھلے دو سال سے اس بیٹنگ لائن کا سارا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انھی کی کلیدی اننگز پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم کو عالمی نمبر ون رینکنگ تک لائی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سڈنی: پہلا ٹی ٹوئنٹی بارش کے باعث منسوخ

بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ کیوں کھیلتے ہیں؟

’پچ دیکھ کر یہ طے کیا تھا کہ اطمینان سے کھیلنا ہے‘

اور یہی وجہ ہے کہ انھیں پاکستان کی کپتانی کے لیے بھی چُنا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بارش کی وجہ سے میچ متاثر ہوا

تین سال پہلے جب شاہد آفریدی کے رخصت ہوتے وقت سرفراز احمد کو اس ذمہ داری کے لیے چنا گیا تھا تب بھی یہ فیصلہ ان کی بیٹنگ کے مزاج کے سبب کیا گیا تھا۔ لیکن تین سالہ عہدِ کپتانی میں سرفراز احمد کُل ملا کر تین بھی ایسی اننگز نہ کھیل پائے جو اس فیصلے کو درست ثابت کر سکتیں۔

اس بار کچھ ویسے ہی خدشات بابر اعظم سے بھی جوڑ دیے گئے ہیں۔ بہت لوگوں کا خیال ہے کہ بابر اعظم ابھی اس ذمہ داری کے لیے تیار نہیں تھے۔ کئی بدگمان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلے سے ان کی بیٹنگ فارم متاثر ہو گی۔

لیکن بابر اعظم جانتے ہیں کہ وہ ٹی ٹونٹی کے ورلڈ کلاس بلے باز ہیں۔ بلکہ صرف بابر اعظم ہی نہیں، اب تک تو مچل سٹارک کو بھی بخوبی اندازہ ہو چکا ہو گا۔

کوئی نہیں جانتا کہ اگر پچھلا میچ بارش کی بار بار دراندازی سے یکسر متاثر نہ ہوتا تو میچ کے بعد فنچ زیادہ رنجیدہ ہوتے یا بابر اعظم۔ لیکن بابر اعظم کی اننگز نے یہ ضرور واضح کر دیا کہ ان کے کندھوں پہ قیادت کا کوئی اضافی بوجھ نہیں ہے۔

یہ اور بات ہے کہ ان کے گرد جس طرح دیگر بلے باز بدحواس نظر آئے، یہ امر بابر اعظم تو کیا، کسی بھی کپتان کے لیے خوش آئند نہیں ہے چہ جائیکہ کپتان بھی بالکل نیا نویلا ہو۔

مصباح نے ویسے تو اپنے تئیں نئی نوجوان ٹیم ہی بنائی ہے لیکن سن رسیدہ محمد عرفان کی شمولیت پہ کافی چہ میگوئیاں ہوئی ہیں۔ منطقی اعتبار سے یہ کوئی برا فیصلہ نہیں ہے کہ جس قامت سے محمد عرفان بال ریلیز کرتے ہیں، باؤنسی آسٹریلین وکٹوں پہ بڑے بڑے بلے بازوں کے طوطے اڑا سکتے ہیں۔

لیکن پچھلے میچ میں ہم نے دیکھا کہ عرفان فارم سے کوسوں دور تھے۔ فنچ نے انھیں کسی لائن، کسی بھی لینتھ پہ ٹکنے نہ دیا۔

بابر اعظم کے لیے اب سوال یہ بھی ہے کہ بنا فارم والے تجربے کو گراؤنڈ کی کس پوزیشن پہ ایڈجسٹ کرنا ہے اور بولنگ میں کہاں؟

اسی بارے میں