پاکستان، آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز: کیا فخر زمان ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی ہی نہیں؟

فخر زمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دو سال قبل جب فخر زمان پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آئے تو سب کا یہی خیال تھا کہ شرجیل خان پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر پابندی کے بعد ٹیم کو متبادل مل گیا ہے جو انھی کی طرح بائیں ہاتھ کے اوپنر ہیں اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ فخر زمان اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے ہیں؟

’فخر زمان ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی ہی نہیں‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ فخر زمان جیسے آئے تھے اب بھی وہ ویسی ہی بیٹنگ کر رہے ہیں لیکن ون ڈے کرکٹ میں۔

ان کے مطابق ’اصل میں ہم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔ آپ انھیں ون ڈے کھلا دیں وہ رنز کر دیں گے۔‘

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں فخر زمان کا ریکارڈ کبھی بھی بہت اچھا نہیں رہا ہے۔ ’ان کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کے پیش نظر انھیں ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

چیمپیئنز ٹرافی شہرت کی بلندی پر لے گئی

فخر زمان نے انگلینڈ میں منعقد ہونے والی 2017 کی چیمپیئنز ٹرافی میں اپنے ایک روزہ کرکٹ کیریئر کی ابتدا کی۔

سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف نصف سنچریاں بنانے کے بعد فائنل میں انڈیا کے خلاف سنچری نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ فخر زمان نے گذشتہ سال زمبابوے کے خلاف پاکستان کی پہلی ون ڈے ڈبل سنچری بنائی۔

یہ بھی پڑھیے

’فخر زمان، فخرِ پاکستان‘

'پاکستان بھی ہارنا نہیں چاہتا تھا'

بارش، بابر اعظم اور محمد عرفان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ

ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کامیابیاں دیکھ کر سابق کوچ مکی آرتھر نے فخر زمان کو ٹیسٹ کھلانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے ان کے پاس یہ دلیل تھی کہ جارحانہ بیٹنگ کی خصوصیت کے سبب فخر زمان ڈیوڈ وارنر جیسا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

فخر زمان 2018 میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری کا اعزاز صرف چھ رنز کی کمی سے حاصل نہ کر سکے اور اگلے سال جنوبی افریقہ کے دورے میں دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں وہ صرف 32 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس دوران ان کے گھٹنے کی تکلیف بھی سامنے آئی تھی۔

ایک روزہ میچوں میں گذشتہ سال ایشیا کپ میں بھی وہ ناکام رہے۔ مئی 2019 میں انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ان کی سنچری نے پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے امیدیں دلائیں تاہم پھر عالمی مقابلے میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

اگرچہ انھوں نے سری لنکا کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں دو نصف سنچریاں بنائیں لیکن ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ان کی مسلسل ناکامی پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

وہ گذشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف 91 رنز کی اننگز کے بعد 12 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 9.16 کی اوسط سے محض 110 رنز بنا سکے ہیں جس میں ان کا سب سے بڑا سکور 24 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’فخر کو کم ازکم ٹی ٹوئنٹی میں اب آرام دینے کی ضرورت ہے‘

فخر زمان کو مسلسل ناکامیوں کے باوجود ملنے والے مستقل مواقع پر ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ٹاپ آرڈر میں ایسا بلے باز چاہیے جن کا سٹرائیک ریٹ بہت اچھا ہو‘۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کا کہنا ہے کہ کسی آؤٹ آف فارم بیٹسمین کو حد سے زیادہ مواقع دینا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ ’فخر زمان کے بارے میں اب ٹیم مینجمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد انھیں مزید مواقع نہیں دیے جاسکتے۔ فخر کو کم ازکم ٹی ٹوئنٹی میں اب آرام دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی تکنیک پر کام کرسکیں اور اپنا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ واپس لاسکیں۔‘

ادھر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ فخر زمان کی کئی ٹی ٹوئنٹی اننگز دس سے کم رنز کی ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اننگز کے آغاز میں جارحانہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور آؤٹ ہو جاتے ہیں۔

’ان کا شاٹ سلیکشن صحیح نہیں ہے۔ ان کو آگے گیند کریں تو وہ جلد آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر وہ کور، مِڈ آن اور مڈ آف پر کیچ ہوتے ہیں یا گیند ہوا میں کھیل جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف بابراعظم گیند کا انتظار کرتے ہیں اور صحیح ٹائمنگ کے ساتھ کھیلتے ہیں۔‘

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ’بیٹنگ کوچ کو ان کی تکنیک پر کام کرنا ہوگا تاکہ وہ ٹی ٹوئنٹی کے اچھے بیٹسمین بن سکیں اور ساتھ ہی ان کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا ہوگا۔ پاکستانی ٹیم میں اس بات کی کمی ہے کہ صورتحال اور بیٹسمین کی اپنی حالت کے لحاظ سے بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا جائے‘۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ فخر زمان اپنی فارم پر کتنی جلدی قابو پاتے ہیں کیونکہ ایک جانب امام الحق ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں موجود ہیں اور دوسری جانب شرجیل خان کی پابندی ختم ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں