غیر ملکی فٹبالرز کو پاکستان لانے کا مقصد یہاں کی فٹبال کو شناخت فراہم کرنا ہے: احمر کنور

ریکارڈو کاک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برازیل کے کاکا

فٹبال کی دنیا کے چار معروف کھلاڑی، برازیل کے ریکارڈو کاکا، پرتگال کے لوئس فیگو، سپین کے کارلس پیول اور فرانس کے نکولس اینلکا پاکستان آئے ہوئے ہیں جہاں وہ دو نمائشی میچ کھیلیں گے جن میں سے پہلا میچ سنیچر کو کراچی میں ہوگا اور دوسرا اتوار کو لاہور میں منعقد ہوگا۔

ان فٹبالرز کو پاکستان کون لایا ہے؟

ان غیر ملکی فٹبالرز کو پاکستان لانے والی کمپنی لندن میں قائم ٹچ سکائی گروپ ہے جو سپورٹس مینیجمنٹ کا کام کرتی ہے۔ یہ انگلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن اور یورپین فٹبال ایسوسی ایشن کی لائسنس یافتہ ہے۔

اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمر کنور نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان غیر ملکی فٹبالرز کو پاکستان لانے کا مقصد یہاں کی فٹبال کو شناخت فراہم کرنا ہے۔ یہ غیر ملکی فٹبالرز مقامی فٹبالرز کے ساتھ کھیل کر یہ بتا سکیں گے کہ ان میں کیا خوبیاں اور خامیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایشین گیمز: پاکستان کی 44 سال بعد پہلی کامیابی

’فٹبال کی ترقی حکومتی مداخلت ختم کیے بغیر ممکن نہیں‘

رونالڈینو، گگز سمیت آٹھ بین الاقوامی فٹبالرز پاکستان میں

کیا پاکستان میں فٹبال کا کھیل بچ سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نکولس اینلکا

جب ان سے پوچھا گیا کہ غیر ملکی فٹبالرز کے صرف دو روز میں دو میچ کھیلنے سے پاکستان کی فٹبال کو کیا فائدہ ہو گا؟ تو ان کا کہنا تھا ’ابھی تو غیر ملکی کرکٹرز بھی پاکستان نہیں آ رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ انٹرنیشنل فٹبال پاکستان آنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟ لہذا یہ ابتدا ہے اور ان دو میچوں سے اعتماد پیدا ہوگا‘۔

احمر کنور کا مزید کہنا ہے کہ فٹبال کے گڑھ لیاری کو نظرانداز کیے جانے کا تاثر درست نہیں ہے۔

ان کے مطابق پہلے بھی کراچی کی فٹبال کمیونٹی کو شامل کیا گیا تھا اور اس بار بھی وہ ان کی سرگرمی کا حصہ ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کے فٹبال کلبوں میں سیاست ہے لہذا وہ اس سے دور رہنا چاہتے ہیں۔

احمر کنور کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کا فٹبال میں آنا بہت ضروری ہے اور کرکٹ میں پاکستان سپر لیگ کے کامیاب نتائج سب کے سامنے ہیں۔

مہنگا ٹکٹ عام شائقین کی دسترس سے باہر

ملکی اور بین الاقوامی فٹبال کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی عمید وسیم اس بات پر حیران ہیں کہ منتظمین نے کراچی کے میچ کا ٹکٹ 8000 روپے رکھا ہے۔ وہ اس کا موازنہ گذشتہ سال روس میں منعقدہ فٹبال ورلڈ کپ کے میچ کے سب سے کم مالیت کے ٹکٹ سے کرتے ہیں جس کی قیمت تقریباً 13000 ہزار روپے تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف چار انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ایک نمائشی میچ کا 8000 روپے کا ٹکٹ خاصا مہنگا ہے جو عام آدمی نہیں خرید سکتا۔

عمید وسیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نمائشی میچوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ضرورت نچلی سطح پر فٹبال کو بہتر کرنے کی ہے اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہی غیر ملکی فٹبالرز پاکستان آ کر کوچنگ کلینکس لگائیں جس کا فائدہ عام نوجوانوں کو ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین کے کارلوس پیول

فرنچائز فٹبال لیگ کی ضرورت ہے

پاکستان کے انٹرنیشنل فٹبالر کلیم اللہ کا کہنا ہے کہ ان چار غیر ملکی فٹبالرز کے آنے سے دنیا کو یہ مثبت پیغام جائے گا کہ پاکستان کھیلوں سے محبت کرنے والا پرامن ملک ہے تاہم اس سے پاکستانی فٹبال اور فٹبالرز کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

’اگر ان فٹبالرز کو پاکستان لانے والی نجی کمپنی یہاں فٹبال کا فروغ چاہتی ہے تو وہ پاکستان سپر لیگ کی طرز پر فرنچائز فٹبال لیگ شروع کرے جس میں غیر ملکی فٹبالرز بھی شامل ہوں تاکہ ان کے ساتھ کھیل کر پاکستانی فٹبالرز کو تجربہ حاصل ہو سکے اور انھیں انٹرنیشنل ایکسپوژر ملے‘۔

عمید وسیم بھی پاکستانی فٹبال کی ترقی کے لیے فرنچائز لیگ کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں انڈیا کی مثال دیتے ہیں جس نے فٹبال لیگ شروع کی حالانکہ اس میں حصہ لینے والے غیر ملکی کھلاڑی یا تو ریٹائر ہو چکے تھے یا اس کے قریب تھے۔

ان کے مطابق ’ان کے ساتھ کھیل کر انڈین فٹبالرز کو بہت فائدہ ہوا۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جن کی فٹبال نے اسی وقت ترقی کی جب ان کی مقامی لیگ کو استحکام ملا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کاکا اور فیگو اس سال جنوری میں کراچی آئے تھے

غیر ملکی فٹبالرز پاکستان کی اصل فٹبال سے دور ہیں

انٹرنیشنل فٹبالر اورنگزیب شاہ میر کا کہنا ہے کہ یہ نمائشی میچ دراصل ایک مخصوص طبقے کے لیے ہیں اور پاکستان کی اصل فٹبال کمیونٹی کو اس سے دور رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب اس سال کے اوائل میں فیگو اور کاکا پریس کانفرنس کرنے کراچی آئے تھے تو اُس وقت بہتر ہوتا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو کراچی میں جاری پاکستان پریمیئر لیگ کے میچ میں لے جایا جاتا اور وہ میچ دیکھ کر پاکستان کی فٹبال کے بارے میں مفید مشورے دے سکتے تھے‘۔

اورنگزیب شاہ میر کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی سابق فٹبالرز اپنے ممالک میں اکیڈمیز چلاتے ہیں اور اپنی کمیونٹی کی خدمت کرتے ہیں۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ ان فٹبالرز سے ان اکیڈمیز میں پاکستانی بچوں کی مفت کوچنگ کے لیے بات کرے‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں