برازیل کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر ریکارڈو کاکا: ’نمائشی میچوں سے زیادہ اہمیت اکیڈمی کی ہے‘

ریکارڈو کاکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاکا اپنے کریئر میں دو لیگ کھیل چکے ہیں۔ انھوں نے سپینش لیگ لالیگا میں ریال میڈرڈ اور اطالوی لیگ میں اے سی میلان کی نمائندگی کی ہے لیکن وہ انگلینڈ میں ہونے والی انگلش پریمیئر لیگ کے معترف ہیں

برازیل کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر ریکارڈو کاکا کے خیال میں اگر پاکستانی فٹبال کا معیار بلند کرنا ہے تو اس کے لیے پاکستان کو اس کھیل کی بنیاد مضبوط کرنی پڑے گی۔

کاکا ان چار فٹبالرز میں شامل ہیں جو پاکستان کے مختصر دورے پر دو نمائشی میچ کھیلنے آئے تھے۔ اس دورے کا اہتمام ایک نجی کمپنی نے کیا تھا۔

ریکارڈو کاکا نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کھیل سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

غیر ملکی فٹبالرز کی آمد لیکن پاکستان کو کیا فائدہ؟

ایشین گیمز: پاکستان کی 44 سال بعد پہلی کامیابی

’فٹبال کی ترقی حکومتی مداخلت ختم کیے بغیر ممکن نہیں‘

رونالڈینو، گگز سمیت آٹھ بین الاقوامی فٹبالرز پاکستان میں

مضبوط بنیاد پاکستانی فٹبال کے لیے ضروری

کاکا کہتے ہیں کہ فٹبال ان کا جنون ہے اور انھیں پاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی۔ ان کے اس مختصر دورے کا مقصد پاکستان میں فٹبال کو فروغ دینا تھا لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح کی چیزیں مدد گار ثابت ہو سکیں گی۔ اگر پاکستان کی فٹبال میں مستحکم بنیاد ہو تو وہ یہاں آ کر اس کھیل کو فروغ دے سکتے ہیں اور اس کے لیے چند روز کی کوچنگ ورکشاپ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان فٹبال کی بنیاد اکیڈمی کے قیام سے قائم کی جا سکتی ہے جہاں اچھے انداز سے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی کھانے پسند ہیں

کاکا کہتے ہیں کہ ان کی یہ عادت ہے کہ وہ جس ملک میں بھی جاتے ہیں وہاں کے کھانوں کا ذائقہ ضرور چکھتے ہیں اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ وہ اس سال جنوری میں پاکستان آ چکے ہیں اور یہاں کے کھانے کھا چکے ہیں جو انھیں بہت اچھے لگے تھے۔ انھیں بتایا گیا تھا کہ لاہور شہر کھانوں کے لیے مشہور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کاکا سنہ 2002 کا عالمی کپ جیتنے والی برازیلین ٹیم میں شامل تھے

پریمیئر لیگ سب سے بہترین

کاکا اپنے کریئر میں دو لیگ کھیل چکے ہیں۔ انھوں نے سپینش لیگ لالیگا میں ریال میڈرڈ اور اطالوی لیگ میں اے سی میلان کی نمائندگی کی ہے لیکن وہ انگلینڈ میں ہونے والی انگلش پریمیئر لیگ کے معترف ہیں۔

ان کے مطابق انگلش پریمیئر لیگ کو وہ ہمیشہ اہمیت دیتے آئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں شریک کھلاڑیوں اور ٹیموں کا معیار بہت بلند ہے۔ دیگر لیگز کو دیکھیں تو ان میں دو یا تین ٹیمیں ہی ہیں جو ہم پلہ ہیں جبکہ انگلش پریمیئر لیگ میں زیادہ تر ٹیمیں ایک ہی معیار کی ہیں۔

برازیل کی مایوس کن کارکردگی

برازیل سنہ 2002 کے بعد سے عالمی کپ نہیں جیت سکا ہے۔ سنہ 2014 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں اسے جرمنی کے ہاتھوں سات ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کاکا کہتے ہیں کہ برازیل کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کی کوئی ایک وجہ بتانا مشکل ہے تاہم جو کچھ بھی ہوا ہے اس نے برازیل کو جگا دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اکیڈمی کے معیار کو بہتر کیا جائے۔

وہ برازیلین فٹبال کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بہت اچھے کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں اور اگلے ورلڈ کپ میں برازیل کی کارکردگی بہت اچھی رہے گی۔

نسلی تعصب کے خلاف سخت ترین اقدامات

کاکا کہتے ہیں کہ فٹبال سے نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات بہت ضروری ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نسلی تعصب کا تعلق فٹبالرز سے نہیں بلکہ لوگوں سے ہے مطلب اس قسم کی حرکت فیلڈ میں نہیں ہوتی بلکہ تماشائیوں کی طرف سے ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، ان کا سٹیڈیم میں داخلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ فٹبال میں نسلی تعصب کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

کاکا کے کریئر پر ایک نظر

کاکا سنہ 2002 کا عالمی کپ جیتنے والی برازیلین ٹیم میں شامل تھے۔

وہ سنہ 2007 کی چیمپیئنز لیگ جیتنے والی اے سی میلان کا بھی حصہ تھے اور اس لیگ میں انھوں نے سب سے زیادہ گول کیے تھے۔

کاکا سنہ 2007 میں دنیا کے بہترین فٹبالر کا ایوارڈ بیلن ڈی جبکہ فیفا پلیئر آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔

انھوں نے 92 بین الاقوامی میچوں میں برازیل کی نمائندگی کرتے ہوئے 29 گول کیے جبکہ پروفیشنل فٹبال میں انھوں نے 400 سے زیاد میچوں میں 149 گول کیے ہیں۔

اسی بارے میں