پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا پر سمیع چوہدری کا تجزیہ: ’ہم سب اسد شفیق ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دورۂ آسٹریلیا میں پاکستانی بیٹنگ بری طرح ناکام رہی

کمزور انسان جب تُند و تیز ہواؤں کے سامنے لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے گر جاتا ہے تو اپنی شکست کا ذمہ قسمت پر ڈال کر اطمینان پا لیتا ہے۔

اظہر علی کی ٹیم بھی اس شرمناک شکست کی وجہ قسمت کو ہی سمجھ رہی ہو گی۔ مصباح الحق بھی یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کہ قسمت ہی تھی جو کوچنگ کے اوائل ایام میں ہی دورۂ آسٹریلیا جیسی مشکل 'اسائنمنٹ' مل گئی۔

دوسری جانب کل شام کی بارش بارے اگر ٹِم پین اور ان کے اٹیک کی رائے پوچھی جائے تو یقیناً وہ بھی اسے بدقسمتی ہی کہیں گے جو پہلی اننگز کے تھکے بولرز کے ساتھ بھی فالو آن کا 'جوا' کھیل لیا مگر بارش نے رات کے سیشن کو مختصر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’پتہ نہیں وقار یونس کہاں کھوئے ہیں!‘

ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو اننگز کی شکست

حارث سہیل کیا سوچ رہے ہیں؟

آسٹریلیا نے برسبین ٹیسٹ ایک اننگز سے جیت لیا

’پاکستان کی قسمت خراب نہیں تھی‘

جس طرح کی مزاحمت یاسر شاہ نے دکھا ڈالی تھی، اس کا عشرِ عشیر بھی اگر پاکستانی ٹاپ آرڈر دوسری اننگز میں دکھا دیتا تو پین اور ان کے بولرز سر پٹختے رہ جاتے اور بے حس وکٹ کا رونا روتے نظر آتے۔

بطور ٹاپ آرڈر بیٹسمین آٹھویں نمبر کے لیگ سپنر کو سینچری کرتے دیکھنا حوصلہ افزا بھی ہے اور چشم کشا بھی۔

جب ٹِم پین نے فالو آن کا فیصلہ کر لیا تھا تو پاکستانی ڈریسنگ روم کے اعتماد میں اتنا تو اضافہ ہو ہی جانا چاہیے تھا کہ اگر رات کا سیشن نکل گیا تو اگلے دوپہر کی آسان وکٹ پہ ففٹی، سینچری کرنا کوئی بڑی بات نہ ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہار تو خیر ہار ہی ہوتی ہے مگر متواتر دو میچوں میں اننگز کی شکست نری خجالت ہے

لیکن جہاں اعتماد اپنی قوت پہ ہی نہ ہو تو مخالف کی کمزوری سے حوصلہ کیونکر ملے گا۔

پچھلی بار جب پاکستان آسٹریلیا میں تین صفر سے ہارا تھا تو سابق آسٹریلوی کپتان ایان چیپل نے تجویز دی تھی کہ کرکٹ آسٹریلیا کو چاہیے کہ پاکستان کو مدعو ہی نہ کیا کرے۔

بظاہر تو یہ جملہ ہی بہت تُرش تھا اور تب کے کپتان مصباح الحق کا اس پہ احتجاج بھی بالکل بجا تھا۔ مگر جذباتیت کے خول سے نکل کر اگر اس تجویز کو عملی زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو چیپل کی بات کچھ غلط نہیں تھی۔

کیونکہ پی سی بی نے پچھلے 24 سال میں بھانت بھانت کی ٹیمیں آسٹریلیا کے دورے پہ بھیجیں۔ ان میں بڑے سے بڑا لیجنڈ بولر اور عظیم ترین بلے باز بھی شامل رہے۔ مگر کوئی بھی ٹیم یہ معرکہ سر انجام نہ دے سکی۔

پچھلے دورۂ آسٹریلیا سے قبل جب میں نے مصباح الحق سے پوچھا کہ اسد شفیق کا کیا مسئلہ ہے تو مصباح کا کہنا تھا کہ جب کسی انسان کو خود پہ، اپنی استعداد اور پوٹینشل پر یقین ہی نہ ہو تو اس کو کوئی تکنیک یا کوچنگ کیا ٹھیک کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب سبھی لگامیں خود مصباح کے ہاتھ میں ہیں۔ ہیڈ کوچ بھی وہی ہیں، بیٹنگ کوچ بھی اور چیف سلیکٹر بھی

مصباح کی بات درست تھی۔ دوُبدو لڑائی میں تکنیک، سٹریٹیجی اور پلاننگ تو بعد کی بات ہے، پہلی چیز ہے یقین۔ جس انسان کو خود پہ یقین نہیں، اسے دنیا کی کوئی ٹریننگ، کوئی فلاسفی اور کوئی نظریہ ہمت نہیں دے سکتا۔

تب تو مصباح کپتان تھے اور اس طرح کے کلیدی فیصلوں میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔ اب سبھی لگامیں خود مصباح کے ہاتھ میں ہیں۔ ہیڈ کوچ بھی وہی ہیں، بیٹنگ کوچ بھی اور چیف سیلیکٹر بھی۔ پتا نہیں وہ ایک اسد شفیق کو ٹھیک کیوں نہیں کر سکے۔ اب تو لگتا ہے ساری ٹیم ہی اسد شفیق بن گئی ہے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان آسٹریلیا سے کیوں ہارا۔ یہ ہار بالکل منطقی ہے۔ ایک طرف دنیا کا نمبر ون بولر کھیل رہا ہو، نمبر ون بلے باز ہو اور دوسری جانب 16 سالہ سرپرائز پیکج ڈیبیو کرتے پھر رہے ہوں تو دونوں ٹیموں کی قابلیت میں خلیج میلوں دور سے ہی نظر آ جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ اس ٹیم کی فائٹنگ سپرٹ کدھر ہے، 'اٹیکنگ' اور 'ماڈرن کرکٹ' کا شوق کہاں گیا، ہار میں بھی بھرپور مزاحمت دکھانے کی جستجو کہاں چلی گئی ہے؟

ہار تو خیر ہار ہی ہوتی ہے مگر متواتر دو میچوں میں اننگز کی شکست نری خجالت ہے اور یہ پرفارمنس کسی انٹرنیشنل لیول کی ٹیم کے شایانِ شان نہیں ہے، نہ ہی کوئی اسے زیادہ دن یاد رکھنے کی کوشش کرے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں