ساؤتھ ایشین گیمز: پاکستان کے گولڈ میڈلز کی تعداد 19 ہو گئی

محبوب علی تصویر کے کاپی رائٹ PSB
Image caption پاکستان کے ایتھلیٹ محبوب علی نے چار سو میٹرز رکاوٹوں والی دوڑ میں گولڈ میڈل جیتا

پاکستان نے نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں جاری 13 ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں اب تک 19 طلائی تمغے جیت لیے ہیں۔

جمعہ کے روز پاکستان کے ایتھلیٹ محبوب علی نے چار سو میٹرز رکاوٹوں والی دوڑ میں گولڈ میڈل جیتا۔ پاکستان کی نجمہ پروین نے بھی خواتین کی چار سو میٹرز رکاوٹوں والی دوڑ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔

جبکہ ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں پاکستان کے طلحہ طالب نے 67 کلو گرام کیٹگری میں گولڈ میڈل جیت لیا۔ ووشو میں معاذ خان نے 75 کلو گرام کیٹگری میں طلائی تمغہ جیتا۔ ووشو ہی میں ساجد حسین نے 80 کلو گرام کیٹگری میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔

اس سے قبل ووشو میں پاکستان کے محمد امجد 85 کلو گرام میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’محمد وسیم مشکل فائٹ میں چھا گئے‘

غلام علی: کراٹے کی دنیا کا پاکستانی ’بادشاہ گر’

کھیلوں کی فیڈریشنز پر فوجی افسران کا راج کیوں؟

ایشین گیمز: کراٹے میں نرگس نے کانسی کا تمغہ جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ PSB
Image caption پاکستانی خاتون ایتھلیٹ نجمہ پروین نے خواتین کی 400 میٹرز رکاوٹوں والی دوڑ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کیا

پاکستان کے حاصل کردہ ان 19 طلائی تمغوں میں کراٹے میں چھ، ایتھلیٹکس میں چار، ووشو میں تین، تائی کوانڈو میں تین، شوٹنگ میں دو اور ویٹ لفٹنگ میں ایک طلائی تمغہ شامل ہے۔

پاکستان اب تک 19 طلائی تمغوں کے علاوہ 18 چاندی اور 29 کانسی کے تمغے بھی جیت چکا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو پاکستان نے تائی کوانڈو میں دو طلائی تمغے جیتے تھے۔ ان مقابلوں میں 58 کلو گرام کیٹگری میں ہارون خان جبکہ 80 کلو گرام کیٹگری میں رب نواز نے یہ گولڈ میڈلز جیتے ہیں۔

جبکہ ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کے محمد نعیم نے 110 میٹرز کی رکاوٹوں والی دوڑ میں گولڈ میڈل جیتا۔ انھوں نے مقررہ فاصلہ 30.14 سیکنڈز میں طے کیا۔

کراٹے کے مقابلوں میں بھی پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی اور رحمت اللہ طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

پاکستان نے سنہ 2016 میں بھارت میں ہونے والی 12 ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں 12 طلائی، 37 چاندی اور 57 کانسی کے تمغے حاصل کیے تھے۔

اس سے قبل بدھ کو پاکستان کے نعمان احمد نے 50 کلوگرام میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ پاکستان نے کراٹے میں اپنا پانچواں گولڈ میڈل خواتین کی ٹیموں کے مقابلے میں حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PAkistan sports board
Image caption پاکستانی ایتھلیٹ محمد نعیم جنھوں نے جمعرات کو 110 میٹر کی ہرڈلز ریس میں طلائی تمغہ جیتا

ایتھلیٹکس

پاکستانی ایتھلیٹ عزیر الرحمن نے مردوں کی دو سو میٹرز دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا۔ انھوں نے مقررہ فاصلہ 69.23 سیکنڈ میں طے کیا۔ خاتون ایتھلیٹ نجمہ پروین نے سو میٹرز دوڑ کے مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

کراٹے کے مقابلوں میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل شاہدہ عباسی نے خواتین کے کراٹے مقابلوں کے سنگل کاتا ایونٹ میں حاصل کیا۔

پاکستان کے لیے دوسرا گولڈ میڈل مردوں کے 84 کلوگرام ایونٹ میں محمد اویس نے جیتا۔

جبکہ ان مقابلوں میں پاکستان کی جانب سے تیسرا طلائی تمغہ سعدی عباس نے حاصل کیا۔ انھوں نے یہ میڈل 75 کلوگرام کیٹگری میں جیتا ہے۔

ان 3 طلائی تمغوں کے علاوہ پاکستان نے کراٹے میں چاندی کے سات اور کانسی کے پانچ تمغے بھی حاصل کیے ہیں۔

چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں باز محمد (84 کلوگرام سے زائد)، ظفر اقبال (60 کلوگرام)، نصیر احمد (67 کلوگرام)، کلثوم (68 کلوگرام)، ثنا کوثر (55 کلوگرام)، نعمت اللہ (مینز کاتا) شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان نے خواتین کے ٹیم کاتا ایونٹ میں بھی چاندی کا تمغہ جیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAF Games
Image caption محمد اویس اور شاہدہ عباسی جنھوں نے پاکستان کے لیے کراٹے میں گولڈ میڈل جیتے

تائی کوانڈو

تائی کوانڈو میں پاکستان کے شاہ زیب نے 54 کلوگرام کیٹگری میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ جبکہ خواتین کے 46 کلو گرام مقابلوں میں سدرہ بتول نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

فہیم احمد مردوں کے 68 کلوگرام ایونٹ میں چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

خواتین کے 29 سال سے زائد کے پیئر ایونٹ میں مہرالنسا اور شہباز احمد نے چاندی کا تمغہ جیتا۔

تائی کوانڈو میں پاکستان نے پانچ کانسی کے تمغے بھی حاصل کیے ہیں۔

شوٹنگ کے مقابلے

شوٹنگ کے مقابلوں میں پاکستان نے 2 طلائی تمغے جیتے ہیں۔

سینٹر فائر پسٹل ٹیم ایونٹ کے مقابلوں میں محمد خلیل اختر، غلام مصطفی بشیر اور مقبول حسین تبسم نے طلائی تمغے اپنے نام کیے جبکہ تین ضرب پوزیشن رائفل ٹیم ایونٹ کے مقابلوں میں غفران عادل، عاقب لطیف اور ذیشان شاکر نے کامیابی حاصل کی۔

خلیل اختر نےسینٹر فائرپسٹل کے انفرادی مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیتا جبکہ تین ضرب پوزیشن رائفل کے انفرادی ایونٹ میں غفران عادل کے حصے میں بھی کانسی کا تمغہ آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بیڈمنٹن

پاکستان کو مردوں اور خواتین کے ٹیم مقابلوں کے سیمی فائنلز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اس طرح دونوں ایونٹس میں اسے کانسی کے تمغے ملے۔

والی بال

والی بال کے فائنل میچ میں انڈیا نے پاکستان کو تین ایک سے شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا اور اس طرح پاکستان کو چاندی کا تمغہ ملا۔

ٹینس کے مقابلے

پاکستان بدھ کے روز ٹیم ایونٹ کے فائنل میں انڈیا سے مقابلہ کرے گا۔ پاکستانی ٹیم پاکستانی ٹینس سٹار اعصام الحق اور عقیل خان پرمشتمل ہے۔ مردوں کے ٹیم ایونٹ میں پاکستان کو انڈیا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا اس طرح اس کے حصے میں چاندی کا تمغہ آیا۔

شاہدہ عباسی: ایک کنگ میکر کی شاگرد

گولڈ میڈل جیتنے والی شاہدہ عباسی کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے اور انھوں نے اس کھیل کا آغاز 2005 میں کیا تھا۔

کوئٹہ کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی شاہدہ کے والد پولیس سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ شاہدہ عباسی کی دیگر دو بہنیں بھی کراٹے کی کھلاڑی ہیں جن میں سے ایک صابرہ ہیں جنھوں نے حالیہ نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیتا ہے اور وہ بھی اس وقت نیپال میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شاہدہ عباسی کوئٹہ میں سابق انٹرنیشنل کراٹیکا غلام علی کی اکیڈمی میں ٹریننگ کرتی ہیں

شاہدہ عباسی کوئٹہ میں سابق انٹرنیشنل کراٹیکا غلام علی کی اکیڈمی میں ٹریننگ کرتی ہیں۔ غلام علی خود اپنے کریئر میں ساؤتھ ایشین گیمز میں چار طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ جیت چکے ہیں۔

غلام علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہدہ عباسی ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں جو گذشتہ کئی برسوں سے قومی سطح کے مقابلوں میں ناقابل شکست ہیں۔

شاہدہ عباسی، کلثوم ہزارہ، نرگس ہزارہ اور کئی دوسری لڑکیاں ان کی اکیڈمی میں ٹریننگ کرتی ہیں۔ ان کی اکیڈمی میں ٹریننگ کرنے والے لڑکے لڑکیوں نے حالیہ نیشنل گیمز میں 41 میڈلز جیتے ہیں۔

غلام علی کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے شاگردوں پر فخر ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے کے بہت قریب آگئے تھے لیکن حاصل نہ کرسکے تاہم انھیں اس وقت بے پناہ خوشی ہوئی جب گزشتہ سال انڈونیشیا میں منعقدہ ایشین گیمز میں ان کی شاگرد نرگس ہزارہ نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

غلام علی کا کہنا ہے کہ اگر کراٹے کے ان کھلاڑیوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہو تو وہ اولمپکس کے لیے بھی کوالیفائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں