پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سپاٹ فکسنگ سکینڈل: یوسف انور اور محمد اعجاز نے کرکٹرز کو رشوت دینے کی پیشکش کا اعتراف کر لیا

ناصر جمشید تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ناصر جمشید پر برطانیہ میں رشوت کے جن الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، یوسف اور اعجاز کے نام بھی اس فرد جرم میں شامل تھے

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں برطانیہ میں زیرِ تفتیش دو برطانوی شہریوں یوسف انور اور محمد اعجاز نے پیشہ ور کرکٹرز کو رشوت دینے کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

برطانیہ کی کرائم ایجنسی نے 36 سالہ یوسف انور اور 34 سالہ محمد اعجاز کو گزشتہ برس پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈز کی جانب سے منعقد کردہ کرکٹ ٹورنامنٹس میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا تھا۔

اس سے قبل یہ دونوں افراد خود پر لگے الزامات سے انکار کر چکے تھے لیکن مانچسٹر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت سے قبل انھوں نے اپنی درخواستوں میں موقف تبدیل کر لیا تھا۔

انور اور اعجاز نے سنہ 2016 کے نومبر اور دسمبر کے درمیان بنگلہ دیش پریمئیر لیگ میں کھلاڑیوں کو مالی فوائد کی پیشکش کرنے کے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

دونوں افراد نے نومبر 2016 سے فروری 2017 کے درمیان پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو ایسی ہی پیش کش کرنے کے جرم کا بھی اعتراف کیا ہے۔

لٹل بروک ایوینیو، برکشائر کے رہائشی انور اور شیفیلڈ کے چیپنگھم روڈ پر رہنے والے اعجاز کو اگلے سال ان کی سزا سنائے جانے سے قبل ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپاٹ فکسنگ: ناصر جمشید پر 10 سال کی پابندی

پاکستانی کرکٹ کے ’کرپٹ‘ کھلاڑی

’کیوں شرجیل اور خالد لطیف کیوں؟‘

یاد رہے ان دونوں افراد کا نام سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کے ساتھ گزشتہ برس اس وقت سامنے آیا تھا جب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈز کی جانب سے منعقد کردہ کرکٹ ٹورنامنٹس میں سپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کر رہی تھی۔

ناصر جمشید پر برطانیہ میں رشوت کے جن الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، یوسف اور اعجاز کے نام بھی اس فرد جرم میں شامل تھے۔

33 سالہ ناصر جمشید، رشوت ستانی کی سازش کا حصہ بننے کی تردید کرتے ہیں۔

استغاثہ منگل کو ناصر جمشید کے خلاف اپنے مقدمہ کا آغاز کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف پر پانچ پانچ سال کی پابندیاں عائد ہیں

اس سے قبل گزشتہ برس اگست میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کی اپنی تحقیقات کے نتیجے میں ناصر جمشید پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر دس سال کی پابندی عائد کی گئی تھی اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ پابندی کے بعد بھی وہ کرکٹ کی کسی بھی انتظامی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

ناصر جمشید انگلینڈ میں مقیم رہے اور انھوں نے کسی بھی مرحلے پر پاکستان آکر ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا تاہم وہ سکائپ کے ذریعے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ ناصر جمشید کا نام سنہ 2017 میں پاکستان سپر لیگ کے موقع پر سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں سامنے آیا تھا۔ اس سکینڈل میں ملوث کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف پر پانچ پانچ سال کی پابندیاں عائد ہیں۔

خالد لطیف کی پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل رد کر دی گئی تھی تاہم ان پر عائد کردہ دس لاکھ روپے جرمانہ ختم کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ کے واقعات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کے جرم میں تینوں کھلاڑیوں کو کئی سالوں کی معطلی کے ساتھ قید کی سزائیں بھی بھگتی پڑیں

محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف

2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا جس میں تین کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر ملوث تھے۔

اس سکینڈل میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی فاسٹ بالرز محمد عامر اور محمد آصف مبینہ طور پر بک میکر سے طے کیے گئے معاملات کے مطابق ’نو بال‘ کریں گے۔

آئی سی سی نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹریبونل قائم کیا جس نے سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی جن میں پانچ سال معطل سزا کے تھے۔ محمد آصف پر سات سال کی پابندی عائد کی گئی جن میں دو سال معطل سزا کے تھے جبکہ محمد عامر پر پانچ سالہ پابندی عائد کی گئی تھی۔

یہ تینوں کرکٹرز لندن کی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں سے بھی نہ بچ سکے۔ محمد عامر کو چھ ماہ قید، محمد آصف کو ایک سال قید جبکہ کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سنہ 2016 میں محمد عامر سزا مکمل ہونے کے بعد پاکستان ٹیم میں واپس لوٹ آئے تھے اور دورہ نیوزی لینڈ میں ٹیم کا حصہ بنے تھے۔

سلیم ملک پر تاحیات پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان سے ایک کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تھی جس نے اگست 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل کمیشن قائم کیا گیا تھا۔

اس کمیشن نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک پر میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ ان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

فاسٹ بولر عطا الرحمن پر بھی تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی اور ساتھ ہی ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

کمیشن نے تحقیقات کے دوران عدم تعاون پر وسیم اکرم اور لیگ سپنر مشتاق احمد پر تین تین لاکھ روپے جبکہ انضمام الحق، سعید انور، اکرم رضا اور وقار یونس پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس کارروائی کے دوران کرکٹرز ہمیشہ خود پر لگے الزمات کی تردید کرتے رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں