پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: ’مایوس کن کارکردگی سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی‘، اظہر علی

اظہر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسٹریلیا میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بدترین کارکردگی کے بعد اگر بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کے بیانات کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ سیاستدانوں سے بیانات دینے کا فن سیکھ رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے دورے میں ایک بھی انٹرنیشنل میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور ٹی 20 اور ٹیسٹ دونوں سیریز میں اسے دو صفر سے شکست ہوئی۔

اس تمام تر صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اور ٹیم مینیجمنٹ آسٹریلیا میں شکست کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور لفظوں کی بازی گری کے ساتھ یا تو کسی دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے یا پھر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پتہ نہیں وقار یونس کہاں کھوئے ہیں!‘

'ہم سب اسد شفیق ہیں'

آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچ ہرانے کے لیے پاکستان کیا کرے؟

تاہم جمعے کے روز وطن واپسی پر ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے تسلیم کیا ہے کہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز بہت ہی مایوس کن رہی اور اس سے ’پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔‘

اظہرعلی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اننگز کے فرق سے دو شکستیں کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں اور وہ اس کا کوئی عذر پیش نہیں کریں گے۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کا جو بیان میڈیا کی زینت بنا، اس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس دورے کے نتائج کا مطلب دنیا ختم ہونا نہیں ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف کے مطابق ’اینڈ آف دی ورلڈ‘ انگریزی کا مشہور فقرہ ہے جو 1992 کا ورلڈ کپ ہارنے کے بعد انگلینڈ کے کپتان گراہم گوچ نے ادا کیا تھا۔

’2003 کے عالمی کپ کے بعد ناصر حسین نے بھی یہی بات کہی تھی لیکن ان کے اور ہمارے کلچر میں بہت فرق ہے۔ وسیم خان کو یہ سوچنا چاہیے تھا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راشد لطیف کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں ایشیائی ٹیموں کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔ انڈین ٹیم بھی پہلے وہاں نہیں جیتا کرتی تھی لیکن پھر اس نے بھی وہاں کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا کی ٹیم جنوبی افریقہ جاکر جیتی، ایسے میں آپ کو بھی امید ہوجاتی ہے کہ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اصل چیز ہوم ورک اور صحیح حکمت عملی ترتیب دینا ہے۔‘

راشد لطیف نے کہا کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز تو ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن اس بار آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے بھی پاکستانی ٹیم کی حکمت عملی خصوصاً فاسٹ بولنگ سلیکشن پر تنقید کی ہے کیونکہ یہ نظر آرہا تھا کہ پاکستانی ٹیم انتہائی ناتجربہ کار فاسٹ بولرز کے ساتھ آسٹریلیا گئی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افتخار احمد ٹیسٹ میچوں میں نہ تو مکمل بیٹسمین ثابت ہوسکے اور نہ ہی آف سپنر

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کا کہنا تھا کہ ’فاسٹ بولرز کے لیے آسٹریلیا کی کنڈیشنز بہت مشکل ہوتی ہیں، وہ اس لیے کہ بولرز کو مستقل زور لگا کر بولنگ کرنی پڑتی ہے۔‘

بازید خان کو سب سے زیادہ مایوسی کپتان اظہر علی کی بیٹنگ اور یاسر شاہ کی بولنگ سے ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اظہر علی کی کپتانی کو صرف ایک سیریز کی کارکردگی سے پرکھنا مناسب نہیں ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے ان کی بیٹنگ کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔‘

بازید خان کا کہنا تھا کہ یاسر شاہ آسٹریلیا کے پچھلے دورے میں ناکام رہے تھے لہٰذا ’اس بار ان سے اچھی کارکردگی کی توقع تھی لیکن وہ اس بار بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘

بازید خان اس بات پر سخت خفا ہیں کہ ہر بار ٹیم کی ری بلڈنگ یعنی تشکیل نو کی بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی ری بلڈنگ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل ہے کیونکہ جو آج ہے وہی مستقبل ہے‘۔

یہاں شائقین اور مبصرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو پتہ نہیں تھا کہ آسٹریلیا میں تجربہ کار فاسٹ بولرز کی ضرورت ہوگی تو وہاب ریاض اور محمد عامر کو اس بات پر آمادہ کیوں نہیں کیا گیا کہ وہ اس اہم دورے میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں کے لیے خود کو دستیاب رکھیں؟

مصباح الحق ذمہ دار؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر محسن خان نے دورہ آسٹریلیا میں شکست کا ذمہ دار ہیڈ کوچ مصباح الحق کو قرار دیا ہے۔

محسن خان نے جمعے کے روز کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دورۂ آسٹریلیا میں کوئی گیم پلان نظر نہیں آیا اور کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج بھی جیتنے والی نہیں تھی۔

محسن خان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق کو بیک وقت تین عہدے دینا درست قدم نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ وقار یونس ماضی میں بھی کوچ اور بولنگ کوچ رہ چکے ہیں لیکن ناکام ہونے کے باوجود وہ دوبارہ بولنگ کوچ بنا دیے گئے۔

محسن خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے ’رائٹ مین فار رائٹ جاب‘ کی بات کی تھی وہ کہاں چلی گئی؟

محسن خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے کہنے پر ہی ہیڈ کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی اور ان کا انٹرویو بھی ہوا لیکن انھیں انٹرویو کے بعد یہ بتانے کی بھی زحمت نہیں کی گئی کہ وہ کوچ نہیں بنائے جارہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موسیٰ خان بھی اس دورے میں ایک ٹیسٹ کھیلے مگر ان کی کارکردگی متاثرکن نہیں تھی

’ٹیسٹ میں ورک لوڈ نہیں دیکھا جاتا‘

کرکٹ کے حلقوں نے بولنگ کوچ وقار یونس کے اس بیان پر بھی سخت حیرانی ظاہر کی ہے جس میں انھوں نے نسیم شاہ سے برسبین ٹیسٹ میں دن بھر صرف چار اوورز کروانے کو ورک لوڈ سے تعبیر کیا تھا۔

آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ ’جب آپ ٹیسٹ میچ کھیلتے ہیں تو پھر اس میں آپ کو مکمل بولنگ کرنی پڑتی ہے اور آپ کو چالیس پچاس اوورز کرنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اس میں ورک لوڈ نہیں دیکھا جاتا۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کے دورے سے قبل فاسٹ بولر عمران خان نے پانچ فرسٹ کلاس میچوں میں صرف آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن اس کے باوجود دو سال کے وقفے کے بعد ان کو واپس لایا گیا اور اس کے برعکس چھ فرسٹ کلاس میچوں میں 14 وکٹیں لینے کے باوجود راحت علی پر کسی کی نظر نہیں پڑی۔

افتخار احمد کو فواد عالم پر ترجیح دینے کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ آسٹریلیا کے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے بازوں کے خلاف ان کی آف سپن کام آئے گی لیکن دونوں ٹیسٹ میچوں میں وہ نہ تو مکمل بیٹسمین ثابت ہوسکے اور نہ ہی آف سپنر۔

’آسٹریلیا میں پیچھے رہ جاؤ تو واپسی مشکل ہوتی ہے‘

اظہر علی نے اس حوالے سے آسٹریلیا میں کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آسٹریلیا میں ٹیسٹ کرکٹ اس لیے مشکل ہے کہ اگر آپ نے ملنے والے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تو آپ کھیل میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر واپسی مشکل ہوتی ہے۔‘

اظہر علی کا کہنا ہے کہ نوجوان بولرز ٹیم میں شامل کیے گئے تھے، وہ باصلاحیت ہیں دنیا ان کے بارے میں بات کررہی ہے۔

’ان کا مستقبل تابناک ہے تاہم اس دورے میں وہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے۔‘

اظہرعلی نے اپنی بیٹنگ کی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ گیند بلے پر آرہی تھی لیکن وہ بڑا اسکور نہ کر سکے لیکن انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ ’چاہے کپتان ہو یا عام بیٹسمین وہ رنز کرے گا تو ٹیم میں رہ سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں