#PAKvSL: پانچ وکٹیں لینے کا مقابلہ شاہین آفریدی جیت گئے

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
شاہین آفریدی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کراچی میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن صورتحال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس کے درمیان پانچ وکٹیں لینے کا مقابلہ ہوا۔

پہلے دن کے اختتام پر سری لنکا کی گرنے والی تین میں سے دو وکٹیں محمد عباس کے حصے میں آچکی تھیں جبکہ ایک وکٹ شاہین شاہ آفریدی نے حاصل کی تھی۔

دوسرے دن محمد عباس نے نائٹ واچ مین امبل دینیا کو آؤٹ کیا تو دوسرے اینڈ سے شاہین شاہ آفریدی نے اینجیلو میتھیوز اور دھنن جایا ڈی سلوا کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اب باری محمد عباس کی تھی جنھوں نے وکٹ کیپر ڈیکویلا کو بولڈ کر کے اننگز میں اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی۔

اسوقت عام خیال یہی تھا کہ محمد عباس اننگز میں پانچویں وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن شاہین شاہ آفریدی نے ایک ہی اوور میں دل رووان پریرا اور لاہیرو کمارا کو آؤٹ کرکے اپنے ٹیسٹ کریئر میں پہلی مرتبہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر لیں۔

یہ بھی پڑھیے

شاہین شاہ آفریدی اپنی اس کارکردگی پر اس لیے بھی خوش ہیں کہ اس سال وہ دو بار اننگز میں چار چار وکٹیں حاصل کرنے کے باوجود پانچویں وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

محمد عباس نے وکٹ کیپر ڈیکویلا کو بولڈ کر کے اننگز میں اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی

شاہین شاہ آفریدی اپنے ساتھی کھلاڑی محمد عباس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پچھلے کچھ میچوں میں محمد عباس کو وکٹیں نہیں ملیں لیکن اس اننگز میں انھوں نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی کہ ایک موقع پر انھیں بھی یہی محسوس ہو رہا تھا کہ عباس پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شاہین شاہ آفریدی بتاتے ہیں کہ جب وہ ڈینگی سے صحت یاب ہونے کے بعد ٹیم میں واپس آئے تو انھوں نے اپنی فٹنس پر بہت زیادہ محنت کی اور بولنگ کوچ وقاریونس کے ساتھ لینتھ لائن پر کام کیا۔ ان کی کوشش ہے کہ محدود اوورز کی کرکٹ کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہترین پرفارمنس دیں۔

شاہین شاہ آفریدی ورلڈ کپ کے بعد کمر کی تکلیف اور پھر ڈینگی میں مبتلا رہے تھے جس کی وجہ سے وہ آسٹریلیا کے دورے پر جانے تک کوئی میچ نہیں کھیلے تھے۔

آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کو دونوں ٹیسٹ میں اننگز کے واضح فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شاہ آفریدی نے ایک ہی اوور میں دل رووان پریرا اور لاہیرو کمارا کو آؤٹ کر کے اپنے ٹیسٹ کریئر میں پہلی مرتبہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر لیں

شاہین شاہ آفریدی نے دونوں ٹیسٹ میچوں میں لمبی بولنگ کی تھی۔ برسبین میں انھوں نے چونتیس اوورز میں چھیانوے رنز دے کر دو اور ایڈیلیڈ میں تیس اوورز میں اٹھاسی رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جب آپ کے ہاتھ میں گیند ہوتی ہے تو کوئی بھی بیٹسمین ہو آپ کو ذمہ داری سے بولنگ کرنی ہوتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ اسے آؤٹ کریں۔

شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ اس سال جنوبی افریقہ کے دورے میں انھوں نے کپتان فاف ڈپلوسیسی کو سنچورین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ کیا تھا۔ انھوں نے ڈپلوسیسی کو کیپ ٹاؤن ٹیسٹ اور پھر ڈربن کے ون ڈے میں بھی آؤٹ کیا، یہ ان کے لیے یادگار لمحات تھے۔

شاہین شاہ آفریدی نے آئندہ سال ہیمپشائر سے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا معاہدہ کیا ہے جبکہ انگلینڈ میں پہلی بار منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ میں وہ برمنگھم کی نمائندگی کریں گے تاہم شاہین آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح پاکستان کی طرف سے کھیلنا ہے جس کے بعد وہ اپنا ورک لوڈ دیکھتے ہوئے دیگر کرکٹ کے بارے میں سوچیں گے۔