پاکستان کی دوہری خوشی: ہوم گراؤنڈز میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی، ٹیسٹ جیتنے کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عابدل علی اپنے 150 رنز مکمل کرنے کے بعد شائقین کی تالیوں کا جواب دیتے ہوئے

گھر میں کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب کسی کو اپنی ہوم کرکٹ اپنے ملک سے باہر کھیلنا پڑ جائے۔

پاکستان کے ڈریسنگ روم نے یہ احساس پورے دس سال محسوس کیا ہے۔ دبئی، ابوظہبی اور شارجہ کی وکٹوں سے پانچ پانچ دن سر پٹختے جانا اور جیت جانا تو بھی سٹینڈز میں کوئی ہم وطن داد دینے کو موجود نہ ہو۔

یہ احساس حالیہ دورۂ آسٹریلیا میں اور گہرا ہوا ہو گا جب ہوم گراؤنڈز کی موجیں اڑاتے وارنر ایشز کا سارا ریکارڈ ملیا میٹ کر گئے اور لبوشین نے سینچریاں کرنا بچوں کا کھیل بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیئے

نیشنل سٹیڈیم کراچی، جہاں سری لنکا نے پہلا ٹیسٹ کھیلا

پہلی بار ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑی کون؟

فواد عالم اور عثمان شنواری ٹیم میں شامل

آج پاکستانی ڈریسنگ روم میں طویل عرصے بعد وہ کیفیت دیکھنے کو ملی جو دو ہفتے پہلے ان کے مقابل آسٹریلوی ڈریسنگ روم میں نظر آئی تھی کہ کوچ سمیت پورے ڈریسنگ روم کے چہروں پہ بے انت اطمینان تھا اور ون ڈاؤن کو تیار ہو کر بیٹھے پانچ گھنٹے گزر گئے مگر اس کی ’باری‘ نہ آ سکی۔

سٹار کرکٹرز تیار کرنے کا طریقہ ہی یہ ہوتا ہے کہ انھیں ہوم گراؤنڈز پہ ڈیبیو کروایا جائے۔ عابد علی اس کی بہترین مثال ہیں۔ راولپنڈی کے بعد کراچی کی بالکل مختلف وکٹ پہ بھی اسی روانی سے بیٹنگ کرتے نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شان مسعود نے بھی ہوم کراؤڈ کے سامنے نہایت اطمینان سے اپنی اننگز کھیلی

پی سی بی نے کافی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی کی وکٹ کچھ ایسی تیار کروائی کہ آسٹریلوی وکٹوں کی یاد تازہ ہوئی۔ پہلے روز کا باؤنس دیکھ کر تو کہیں کہیں برسبین کی وکٹ یاد آ گئی۔

ٹاس جیت کر اظہر علی نے بیٹنگ تو یہ سوچ کے کر لی کہ پہلے ڈیڑھ دو سیشنز کے بعد وکٹ پہ رکنا آسان ہو گا مگر پورے دن وکٹ کی تُندی ایسی رہی کہ دن بھر بولر چھائے رہے اور کل ملا کر تیرہ وکٹیں گریں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں گرین ٹاپ وکٹ بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ پہلے دن کی کارروائی سے گمان ہوتا ہے کہ تین ہی دن میں میچ نمٹ جائے گا۔

مگر دوسرے دن شام کے سیشن سے وکٹ بدلنا شروع ہوتی ہے۔ مسلسل دو دن کی دھوپ سے گھاس جل جاتی ہے اور تیسری صبح تک بالکل فلیٹ بیٹنگ ٹریک تیار ہوتا ہے جسے ہمارے ہاں محاورے میں 'پھٹہ' کہا جاتا ہے۔

شان مشعود اور عابد علی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور، چند حصوں میں جہاں سری لنکا نے اچھی بولنگ کی، بہترین ٹیمپرامنٹ کا مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سری لنکن باؤلر لاہیرو کمارا پاکستان کے عابد علی کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد جوش میں

یہ یقیناً ہوم کنڈیشنز کا اعتماد اور یقین تھا کہ دونوں اوپنرز نے ایک ہی ساتھ کئی پرانے ریکارڈز توڑ ڈالے۔ ایسا غضب کا اوپننگ سٹینڈ برسوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

عابد علی نے اپنی نیچرل گیم کھیلی اور دموتھ کرونا رتنے کے سبھی پلان ناکام کرتے گئے۔ ان سے انسپائر ہو کر شان مشعود بھی بہت طویل عرصے بعد لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے۔

اوپننگ سٹینڈ اس قدر سکون بخش اور حوصلہ افزا تھا کہ متواتر پچھلی چودہ اننگز سے مایوسی کا منہ دیکھتے اظہر علی بھی فارم میں لوٹ آئے اور ایک بڑی اننگز کھیلنے کے لیے پر امید دکھائی دے رہے ہیں۔

لیکن کل صبح وکٹ کافی مختلف ہو گی۔ آج شام کے آخری اوورز میں بھی کافی شگاف دیکھنے کو ملے جہاں سے گیند اچانک 'ٹرن' اور باؤنس لے سکتا ہے۔

سری لنکا کے لیے یہ میچ جیتنا قریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ چوتھی اننگز میں اس وکٹ پہ یاسر شاہ خاصے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔ پہلی اننگز میں بہترین بولنگ کرنے والے شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس بھی پرانے گیند کے ساتھ آسان ہدف نہیں ہوں گے۔

پاکستان کے لیے خوشی دوہری ہے۔ ہوم گراؤنڈز پہ ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کا خواب تو پورا ہوا ہی، ایک عرصے کے بعد پہلی ٹیسٹ وکٹری بھی قریب ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں