#PAKvSL سمیع چوہدری کا کالم: ’اگر اظہر علی کی ٹیم یونہی کھیلتی رہی تو چیمپئین شپ کا خواب دیوانے کی بڑ نہ ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN

اگر یہی عابد علی پاکستان کی بجائے آسٹریلیا میں ڈیبیو کرتے تو کیا یونہی پے درپے سینچریاں جڑ کر پلئیر آف میچ اور سیریز، ہر دو ایوارڈز جیت پاتے؟

یہی نسیم شاہ تھے جن کی آمد کا غلغلہ تو بہت رہا مگر پہلی ہی سیریز آسٹریلیا کی اجنبی وکٹوں پہ کھیلنا پڑ گئی اور بے تحاشہ ورک لوڈ کے باوجود کوئی خاص کامیابی نہ ملی۔

یہی شان مسعود تھے جو کبھی پیٹ کمنز تو کبھی مچل سٹارک کے آگے بے بس نظر آ رہے تھے، فٹ ورک ساتھ نہیں دے رہا تھا اور رنز آ کے نہیں دے رہے تھے۔

یہی شاہین شاہ آفریدی تھے کہ آسٹریلیا کی بولنگ وکٹوں پہ بھی اپنے قامت اور پھرتی کا کوئی فائدہ نہ اٹھا پائے اور وارنر و لبوشین کی دندناتی جارحیت ان کے اچھے اچھے سپیلز کو روندتی نکل گئی۔

یہ بھی پڑھیے

2006 کے بعد پہلی ہوم ٹیسٹ سیریز پاکستان کے نام

’دوسرے بولرز وکٹ لے سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟‘

عابد علی کا ٹیلنٹ پرکھنے کے لیے چار گیندیں ہی کافی

یہی محمد عباس تھے کہ جن کے آسٹریلیا کے خلاف پہلے میچ میں عدم انتخاب پہ بہت ہاہا کار مچی اور جب دوسرے میچ میں انہیں منتخب کیا گیا، تب بھی کوئی قابلِ ذکر بات نہ ہوئی۔

اور یہی اظہر علی تھے جو ہر پری میچ پریس کانفرنس میں ایک ہی سوال کا سامنا کر رہے تھے کہ ان کی فارم کا کیا عالم ہے اور رنز کیوں نہیں بن پا رہے۔

اور ابھی ہوم گراؤنڈ پہ پہلا ٹیسٹ میچ ہی مکمل ہوا ہے کہ یکبارگی سبھی سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔ پوسٹ میچ تقریب میں سبھی ایوارڈز اس نوجوان ٹیم کے ابھرتے سپر سٹارز لے اڑے۔

راتوں رات ایسا کیا ہوا کہ متواتر دو میچز میں اننگز بھر کی مات کھاتی ٹیم اور آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹیبل میں نیچے کی سیڑھیوں پہ ڈگمگاتی ٹیم ایک دم ٹیبل پر تیسرے نمبر پہ آ گئی؟

دنیائے کرکٹ پہ راج کرنے والے ہمسایہ ملک کی بہترین کارکردگی کا راز دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وراٹ کوہلی کی ٹیم اپنی شیڈولڈ کرکٹ کا لگ بھگ ستر فیصد حصہ ہوم گراؤنڈز پہ کھیلتی ہے۔

ہوم گراؤنڈز وہ بہترین پلیٹ فارم ہوتے ہیں کہ جہاں دومیسٹک کرکٹ کی نرسری میں پلنے والے ٹیلنٹ کو ایک مانوس کراؤڈ کے سامنے انٹرنیشنل لیول کے سٹارڈم میں ڈھلنے کا موقع ملتا ہے۔

آج سے پہلے، پچھلے دس سال میں پاکستان نے جتنی بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی، یو اے ای کے فرضی ہوم گراؤنڈز پہ ہی کھیلی۔ اس بیچ اگر ڈومیسٹک کرکٹ نے کوئی سٹارز پیدا کیے بھی تو پاکستان کرکٹ انہیں بین الاقوامی سطح پہ متعارف کروانے کے لیے ایسا کوئی پلیٹ فارم مہیا کرنے میں ناکام رہی جیسا پچھلے دو ہفتوں میں عابد علی اور نسیم شاہ کو میسر رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نسیم شاہ آسٹریلیا کی اجنبی وکٹوں پر کوئی خاص کامیابی نہ کر پائے تھے

انٹرنیشنل کرکٹ میں یوں بھی پچھلے دس سال سے رِیت یہ بن چکی ہے کہ ہر ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز کی شیر ہے۔ جونہی ذرا سی نامانوس کنڈیشنز میں قدم جمانے کا چیلنج درپیش آتا ہے تو بڑے بڑے برج اچانک گر جاتے ہیں۔

ایسے میں پاکستان کرکٹ کی یہ محرومی تھی کہ ڈومیسٹک سرکٹ کے پلئیرز اور نوجوان ٹیلنٹ کو اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ دیکھنے کو ہی نہیں مل رہی تھی اور اس ٹیم کو چیلنج یہ تھا کہ ساری کی ساری کرکٹ اجنبی کنڈیشنز میں کھیل کر بھی مقابلہ ان ٹیموں سے کرنا تھا جو اپنی نصف سے زائد کرکٹ ہوم گراؤنڈز پہ کھیلتے ہیں۔

پی سی بی کی کامیابی صرف یہ نہیں ہے کہ دس سال بعد ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کو ممکن بنایا ہے بلکہ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ وہی ٹیم جس نے 2009 میں آخری نامکمل ٹیسٹ یہاں کھیلا تھا، وہی ٹیم دس سال بعد پہلی سیریز کھیلنے یہاں آئی۔

اگر اظہر علی کی ٹیم یونہی ہوم گراؤنڈز پہ اپنی کرکٹ کھیلتے رہنے میں کامیاب رہی تو ٹیسٹ چیمپئین شپ کا خواب بھی کوئی ایسا مضحکہ خیز نہیں کہ اسے دیوانے کی بڑ قرار دیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں