#PakvSL: پاکستان میں کرکٹ تو واپس آ گئی لیکن مداحوں کا کیا؟

سری لنکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی اپنی سرزمین پر 13 برس بعد فتح، اس کے بلے بازوں اور بولرز کی عمدہ پرفارمنس اور مداحوں کی بڑی تعداد کے سٹیڈیم میں آنے سے کرکٹ کی وطن واپسی کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے۔

19 برس کے شاہین آفریدی اور 16 برس کے نسیم شاہ کی پانچ، پانچ وکٹیں ہوں یا اپنے کیریئر کے ابتدائی دو میچوں میں دو سنچریاں بنانے والے عابد علی، پاکستانی شائقین کے ہر دل عزیز بلے باز بابر اعظم کے عمدہ سٹروکس ہوں یا پنڈی کی ٹھنڈ اور بارش میں ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب مداح، بلاشبہ یہ مناظر پاکستان کی کرکٹ کے لیے خوش آئند تھے۔

جہاں یہ تمام مناظر ’سب اچھا‘ کا پیغام تو دیتے ہیں وہیں گراؤنڈ سے باہر پی سی بی کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر مداحوں کی جانب سے تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران ٹکٹ خریدنے کے مسائل، انتہائی اہم اور تاریخی سیریز کی نہ ہونے کے برابر تشہیر، سٹیڈیم میں متعدد سٹینڈز کا بند ہونا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا ہم ایک دہائی کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کو اچھے انداز میں خوش آمدید کہہ پائے؟

ساتھ ہی بنگلہ دیش کا پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے پر ہچکچاہٹ کے اظٌہار سے سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب بالآخر کرکٹ صحیح معنوں میں پاکستان واپس آ چکی ہے؟

Image caption عالیہ رشید: 'یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی کام ہی نہیں کرنا چاہتا ورنہ ایک جشن کا ماحول بنانے اور سٹیڈیم بھرنے کے ہزاروں طریقے ہیں'

’ٹیسٹ کرکٹ کو تشہیر کی ضرورت نہیں‘

ایک دہائی کے بعد پاکستان میں اور تقریباً 15 برس بعد راولپنڈی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے دوران شائقین کو ٹکٹوں کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد کے ایک رہائشی عمر محمود بھی ان شائقین میں سے تھے جن کو آن لائن ٹکٹس بک کروانے کے باوجود ٹکٹ موصول نہیں ہوئے۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے روز عمر نے اپنی فیکٹری سے بتائے بغیر چھٹی کی۔ ٹی سی ایس سینٹر کے باہر موجود عمر نے بی بی سی کو بتایا: ’اب مجھے ٹی سی ایس سینٹر پر بتایا جا رہا ہے کہ ٹکٹ دستیاب ہی نہیں ہیں۔‘

ٹی سی ایس سینٹر جہاں سے شائقین کو ٹکٹ ملنے تھے ان کے باہر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں جس کے بعد متعدد شائقین کو ٹکٹ کی عدم دستیابی کے باعث واپس جانا پڑا۔

کچھ سینٹرز پر پہلے تو شائقین کو ٹالا گیا، لیکن پھر جب اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہ آیا تو پی سی بی کی جانب سے بغیر ٹکٹ کے شناختی کارڈ یا سٹوڈنٹ کارڈ کے ذریعے سٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔

تاہم پی سی بی کے ترجمان سمیع برنی ٹکٹوں کے حوالے سے کسی بھی بدمزگی سے انکار کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں کیسے مان لوں کے تشہیری مہم نہیں ہوئی یا ٹکٹ کے مسائل پیدا ہوئے ہیں جب پنڈی سٹیڈیم میں جس دن کرکٹ ہوئی اس دن گراؤنڈ بھرا ہوا تھا؟'

دوسری جانب صحافی عالیہ رشید بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے تشہیری مہم کے حوالے سے پی سی بی کے ڈائریکٹر کمرشل بابر حمید سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ کو تشہیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی کام ہی نہیں کرنا چاہتا ورنہ ایک جشن کا ماحول بنانے اور سٹیڈیم بھرنے کے ہزاروں طریقے ہیں۔‘

عالیہ رشید کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں مداحوں کو ٹیسٹ کرکٹ کی جانب کچھینچنے کے لیے پنک بال ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔

'جیسا ماحول باکسنگ ڈے ٹیسٹ پر ہوتا ہے، ہم اپنی ثقافت کے ذریعے ویسا ماحول کیوں نہیں بنا سکتے؟'

Image caption سمیع برنی: 'جب کسی گھر میں بھی دس برس تک نہ رہا جائے تو اس کے حالات بھی خستہ ہو جاتے ہیں'

’دس برس میں گھر کی بھی حالت خستہ ہو جاتی ہے‘

شائقین کے لیے سہولیات کے حساب سے راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران سب سے برے حالات تھے۔ کچھ سٹینڈز اس وجہ سے بند کر دیے گئے تھے کہ ان کی بحالی کا کام ابھی نامکمل تھا۔ جبکہ متعدد سٹینڈ میں سیٹیں موجود نہیں تھیں۔

سنہ 2011 سے پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں عارضی طور پر اپنی تمام ہوم سیریز کھیلیں جو پی سی بی کے لیے منافع بخش ثابت نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان میں موجود گراؤنڈز کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام نہیں کیا جا سکا۔

سمیع برنی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 'جب کسی گھر میں بھی دس برس تک نہ رہا جائے تو اس کے حالات بھی خستہ ہو جاتے ہیں۔‘

صحافی عمر فاروق کہتے ہیں کہ کراچی اور لاہور کے سٹیڈیم کی بحالی کے لیے تو وقتاً فوقتاً کام ہوتا رہا لیکن دیگر سٹیڈیم کو بالکل لاوارث چھوڑ دیا گیا۔

’اسے آپ پی سی بی کی نا اہلی کہیں یا حالات کی ستم ظریفی، لیکن دیگر گراؤنڈز کی حالت میں جلد از جلد بہتری لانے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’بنگلہ دیش کی ہچکچاہٹ کی وجوہات سیاسی ہیں‘

سنہ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد پہلی مرتبہ سنہ 2015 میں زمبابوے کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد متعدد سری لنکا سمیت ویسٹ انڈیز، ورلڈ الیون اور پی ایس ایل کے میچوں کے دوران غیر ملکی کھلاڑی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

صحافی عمر فاروق کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہی ملک میں 10 برس قبل سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تھا اور یہ حقیقت کبھی بدل نہیں سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے نے کرکٹ کی دنیا کو بہت متاثر کیا کیونکہ اس سے پہلے کسی کرکٹ ٹیم پر براہِ راست حملہ نہیں ہوا تھا۔ اس لیے اس کی واپسی میں بھی وقت لگے گا۔‘

صحافی اور سابق خاتون کرکٹر عالیہ رشید کہتی ہیں کہ اس مرتبہ سری لنکا کے دورے کی خاص بات یہ تھی کہ کھلاڑی شہر میں گھومتے پھرتے بھی نظر آئے۔

انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی کے حوالے سے تو یہ ایک کامیاب دورہ ہے، اب بنگلہ دیش ہچکچاہٹ کا اظہار کیوں کر رہی ہے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔‘

عالیہ کہتی ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی خطے میں واقع ہیں، اور ہم بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں اپنے کھلاڑی بھی بھیجتے رہیں ہیں تو بنگلہ دیش کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

عمر فاروق کے مطابق بنگلہ دیش کا پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے پر ہچکچاہٹ کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کچھاؤ ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’پاکستان اپنی ہوم سیریز اپنی سرزمین پر کھیلے گا‘

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے رواں ماہ یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان اب سے کسی دوسرے ملک میں اپنی ہوم سیریز نہیں کھیلے گا۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ٹیم کو پاکستان میں کرکٹ کھیلنے پر تحفظات ہیں تو انھیں اس کی کوئی ٹھوس وجہ بتانی پڑے گی۔

اس حوالے سے جب ہم نے پی سی بی کے ترجمان سمیع برنی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بنگلہ دیش کو گذشتہ ہفتے ان کی پاکستان میں ٹیسٹ سیریز نہ کھیلنے کی وجوحات کے بارے میں خط لکھا ہے جس کا جواب اب تک موصول نہیں ہوا۔

صحافی رضوان علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی میں آسٹریلیا، انگلیڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے دورے اہم کردار ادا کریں گے۔

کیونکہ جس دوران باقی ٹیمیں پاکستان کے دورے کرتی رہی ہیں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں اس وقت بھی یہاں نہیں آئیں۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا نے آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ 1998، نیوزی لینڈ نے سنہ 2002، انگلینڈ نے سنہ 2005 جبکہ جنوبی افریقہ نے سنہ 2007 میں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’پی ایس ایل اہم ہو گی‘

عمر فاروق کے نزدیک آئندہ برس فروری میں پاکستان میں کھیلی جانے والی پاکستان سپر لیگ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لیے انتہائی اہم ہو گی۔

اس سے قبل پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز کے لیے اور ورلڈ الیون کی جانب سے متعدد غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آ چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہو گا کہ ان کھلاڑیوں کو تقریباً 34 دن تک پاکستان میں رہنے کا موقع ملے گا۔

سری لنکا کا پاکستان آ کر کھیلنا انتہائی اہمیت کا حامل ضرور ہے، لیکن اب بھی دیگر بڑی ٹیموں کو پاکستان آ کر ٹیسٹ سیریز کھیلنے پر آمادہ کرنے میں تین سے چار سال کا وقت لگے گا۔

خیال رہے کہ آئندہ برس فروری کے وسط میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ کے تمام میچ پاکستان میں ہونے ہیں۔ اس حوالے سے پی سی بی نے کراچی اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی اور ملتان میں بھی میچ منعقد کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں