شعیب اختر کا دعویٰ: کیا پاکستانی کرکٹرز واقعی دانش کنیریا سے مذہبی بنیادوں پر تعصب برتتے تھے؟

دانش کنیریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ سپنر دانش کنیریا ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں ہیں۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ایک ٹی وی پروگرام میں دانش کنیریا کا ذکر کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے چند کھلاڑی مبینہ طور پر ان کے ساتھ کھانا کھانے میں خوشی محسوس نہیں کرتے تھے۔

شعیب اختر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اپنے کریئر میں میرا دو، تین کھلاڑیوں کے ساتھ جھگڑا اس بات پر ہوا جب انھوں نے لسانیت پر مبنی گفتگو کی۔ جب انھوں نے کراچی، پنجاب، اور پشاور کی بات کی تو مجھے بہت غصہ آیا۔ اگر کوئی ہندو ہے تو وہ پاکستان کے لیے کھیلے گا۔‘

’اسی ہندو نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز جتوائی تو میں نے کہا اب بولو۔ میں نے ڈریسنگ روم میں سُنا کہ کچھ نے کہا سر! یہ کنیریا یہاں سے کھانا کیوں لے رہا ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں تم لوگوں کو اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔ تم کپتان ہو گے اپنے گھر کے۔‘

یہ بھی پڑھیے

دانش کنیریا مجرم، برطانیہ میں تاحیات پابندی

'دانش کنیریا کو بلانے کا فیصلہ نادانستگی میں ہوا'

دانش کنیریا تاحیات پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں

جب بی بی سی نے اس سلسلے میں دانش کنیریا کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا تو انھوں نے بلاواسطہ اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا تاہم انھوں نے اس کی تردید بھی نہیں کی۔

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ وہ شعیب اختر کی اس بات کا احترام کرتے ہیں جو وہ سب کے سامنے لے کر آئے ہیں۔ یقیناً ایسی کوئی بات ہوئی ہو گی جس کی وجہ سے شعیب اختر کو یہ کہنا پڑا ہے۔ شعیب اختر نے یقیناً ذمہ داری سے یہ بات کہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دانش کنیریا سے بار بار یہ سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے ساتھ براہ راست اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا جس میں کسی کرکٹر نے ڈریسنگ روم میں صرف مذہب کی بنیاد پر آپ کو کھانا لینے سے روکا ہو یا ناگواری کا اظہار کیا ہو؟

اس پر دانش کنیریا نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ساتھ براہ راست اس طرح کی بات نہیں ہوئی لیکن چند مواقع پر انھوں نے اس طرح کی چیز محسوس ضرور کی تھی۔

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ وہ شعیب اختر کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ صرف اس بات پر پاکستان کی کرکٹ بدنام ہو۔ اس بات کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ پاکستان ان کا ملک ہے، ان کی جنم بھومی ہے انھوں نے اپنی کارکردگی سے پاکستان کو بین الاقوامی میچز جتوائے ہیں حالانکہ انھیں اپنے کریئر میں سخت چیلنجز کا بھی سامنا رہا۔

دانش کنیریا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے انھیں اپنے کپتانوں انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان کی حمایت بھی حاصل رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کنیریا کی سب سے دوستی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب تک کرکٹ کھیلے انھوں نے اپنے کانوں میں کبھی بھی مذہبی تفریق یا تعصب کی بات نہیں سنی۔

انضمام الحق نے بتایا کہ دانش کنیریا ان کے بہت قریب رہے اور انھوں نے کبھی بھی اس طرح کی کوئی شکایت نہیں کی کہ کوئی کرکٹر ان سے تعصب برت رہا ہے۔

انضمام الحق نے دعویٰ کیا کہ دانش کنیریا کی چند کرکٹرز کے ساتھ بہت زیادہ دوستی تھی جن کے ساتھ وہ میچ کے بعد رات کو باقاعدہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی کرکٹر کو دانش کنیریا کے اس کے ساتھ کھانا کھانے پر کیوں اعتراض ہوسکتا ہے، جبکہ پاکستانی ٹیم نے انڈیا کے دورے بھی کیے وہاں تو ٹیم ہندوؤں کے پکائے ہوئے کھانے کھاتی تھی۔‘

محمد یوسف کا تجربہ کیسا رہا؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف سے جب بی بی بی سی اردو نے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ شعیب اختر نے دانش کنیریا سے متعلق جو کچھ کہا ہے کہ وہ انھوں نے نہیں سنا لہٰذا اس بارے میں وہ کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔

تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں خود اپنے کریئر میں یہاں تک کہ اپنی زندگی میں بھی کبھی مذہبی تفریق کا سامنا نہیں رہا۔

یاد رہے کہ محمد یوسف کا تعلق مسیحی مذہب سے تھا اور اس وقت وہ یوسف یوحنا کہلاتے تھے، تاہم بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔

محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ان کے محلے دار مسلمان تھے جن کے گھروں میں آنا جانا معمول تھا، اور جب وہ ٹیم میں آئے تو اس وقت بھی ان کے ساتھ کبھی یہ برتاؤ نہیں ہوا کہ وہ غیر مسلم ہیں۔

دانش کنیریا کا کریئر

واضح رہے کہ دانش کنیریا نے 61 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 261 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستانی بولرز میں وسیم اکرم، وقار یونس اور عمران خان کے بعد چوتھے نمبر پر ہیں۔

دانش کنیریا نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں سب سے زیادہ 120 وکٹیں انضمام الحق کی قیادت میں حاصل کیں۔

ان کی موجودگی میں پاکستان نے 23 ٹیسٹ میچ جیتے جن میں وہ 120 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے تھے۔

دانش کنیریا کا کریئر سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی زد میں آ کر ختم ہوا۔ ان کے ساتھ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے والے کرکٹر مرون ویسٹ فیلڈ نے ان پر مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ کے لیے ساتھی کرکٹرز کو ترغیب دینے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ان پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔

دانش کنیریا چھ سال تک سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی تردید کرتے رہے تھے تاہم گذشتہ سال اکتوبر میں انھوں نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں سپاٹ فکسنگ کے لیے ساتھی کرکٹرز کو پیشکشیں دینے کا اعتراف کر لیا تھا۔

اسی بارے میں