سمیع چوہدری کا کالم: ’اور لارڈز کا فائنل دور ہوا جاتا ہے‘

جو روٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

26 دسمبر کا دن ٹیسٹ کرکٹ کی عید کا دن ہوتا ہے۔ کرسمس کے اگلے روز یعنی باکسنگ ڈے پہ ٹیسٹ میچز کرکٹ کلچر کا حصہ بن چکے ہیں اور باکسنگ ڈے عید کا سماں یوں اختیار کر جاتا ہے کہ ادھر آسٹریلیا میں ابھی دن کا کھیل ختم ہوتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں دن شروع ہو جاتا ہے۔

بھلا ہو آئی سی سی کا کہ ٹیسٹ چیمپئین شپ متعارف کروا دی اور دو طرفہ کرکٹ کے لیے کوئی سیاق و سباق تو ملا وگرنہ کوئی بھی دو ملک کہیں بھی بلاوجہ کھیلنے لگ جاتے اور نتیجے سے کسی کو کوئی خاص فرق بھی نہ پڑتا۔

اس بار باکسنگ ڈے پہ حسبِ معمول دو ہی میچز ہوئے۔ آسٹریلیا کی میزبانی میں نیوزی لینڈ کو بھاری مارجن سے شکست اٹھانا پڑی جبکہ جنوبی افریقہ کی میزبانی میں انگلینڈ جیتتے رہ گیا۔

آسٹریلیا نے اس بار باکسنگ ڈے کے لیے گرین وکٹ تیار کی۔ وکٹ پہ توجہ اس بار ویسے بھی زیادہ تھی کیونکہ پچھلے کچھ سال میلبرن کی وکٹ اس قدر مایوس کن رہی کہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ وہاں سے منتقل کرنے کی باتیں بھی ہوتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انگلینڈ پہلی عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا میزبان

ایشز سیریز: 'بین سٹوکس سے جینا سیکھیے'

آخری ایشز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی جیت، 47 سال بعد سیریز برابر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی گرین ٹاپ وکٹ کے لالچ میں ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ بھی کر لیا اور بولٹ نے کم بیک پہ پہلی وکٹ بھی پہلے ہی اوور میں لے لی مگر اس کے بعد وارنر، لبوشین اور بالخصوص سمتھ کی مزاحمت نے یقینی بنا دیا کہ پورے دن کے کھیل میں محض چار وکٹیں ہی گریں۔

آسٹریلوی مزاحمت نے یہ طے کر دیا کہ نیوزی لینڈ کو اس میچ میں واپسی کا رستہ مشکل سے ہی ملے گا۔ اور دوسرے روز کی مجموعی پرفارمنس نے ہی میچ کا رخ متعین کر دیا۔

دوسری جانب سینچورین میں بھی ٹاس میزبان کپتان نے ہی جیتا۔

کین ولیمسن ہی کی طرح جو روٹ نے بھی پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا مگر ان کو کامیابی کیویز سے کہیں زیادہ ملی اور پہلے دن نو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

پہلے دن کی پرفارمنس پہ روٹ کی گرفت میچ پہ مستحکم تھی مگر دوسرے دن کے کھیل میں سینچورین کی وکٹ نے بیٹنگ کے لیے کنڈیشنز اتنی مشکل کر ڈالیں کہ دن بھر میں 15 وکٹیں گریں۔

انگلش بلے باز باؤنس اور سیم کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور کمزور بیٹنگ لائن کی ایک اور واضح ناکامی دیکھنے کو ملی۔

سو ان 15 میں سے 10 وکٹیں انگلینڈ کی تھیں جو پہلی اننگز میں 200 رنز بھی نہ بنا پائی۔ پہلی اننگز کی برتری ہی اس قدر واضح تھی کہ نیوزی لینڈ کی طرح انگلینڈ بھی میچ میں واپسی کا راستہ ڈھونڈتا رہ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فاف ڈوپلیسی کی ٹیم کے لیے یہ جیت اس تناظر میں بہت زیادہ اہم ہے کہ پچھلے چند ماہ ان کے کرکٹ بورڈ میں بہت بڑا بحران رہا اور اس دوران ٹیم بھی ڈیل سٹین اور ہاشم آملہ کی یکے بعد دیگرے ریٹائرمنٹس کا دکھ مناتی رہی۔

جہاں ایک طرف طویل عرصے بعد جیت جنوبی افریقہ کی ٹاپ لیول کرکٹ میں واپسی کی نوید ہے، وہیں یہ شکست جو روٹ کی قائدانہ صلاحیتوں پہ ایک اور سوالیہ نشان کا اضافہ کرتی ہے۔

ٹیسٹ چیمپئین شپ میں ایک ایک میچ قیمتی ہے اور جو روٹ یقیناً دو سال بعد لارڈز کے افتتاحی ٹیسٹ فائنل میں شرکت کے خواہش مند بھی ہوں گے۔

لیکن ہر گزرتے میچ کے ساتھ روٹ کی صلاحیتوں پہ سوال بڑھتے جا رہے ہیں اور لارڈز کا فائنل دور ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں