کرس گیل: پاکستان دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے

ویسٹ انڈیز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرس گیل پاکستان سپر لیگ میں بھی شرکت کر چکے ہیں

ویسٹ انڈین اوپنر کرس گیل نے پاکستان کو کرکٹ کھیلنے کے اعتبار سے ’محفوظ ترین ممالک میں سے ایک‘ قرار دے دیا ہے۔

کرس گیل کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کرنے میں تاخیر کا شکار ہے۔

کرس گیل ان دنوں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں چٹاگانگ چیلنجرز کی نمائندگی کررہے ہیں۔

ڈھاکہ میں جب ان سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کرکٹ کھیلنے کے لیے محفوظ ملک ہے تو کرس گیل نے جواب دیا کہ ' اس وقت پاکستان دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے۔'

کرس گیل کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کہتا ہے کہ آپ کو وہی سکیورٹی فراہم کی جائے گی جو سربراہان مملکت کو فراہم کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اچھے ہاتھوں میں ہیں جیسا کہ اسوقت ہم بنگلہ دیش میں بھی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو مطلع کیا ہے کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کے بارے میں حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں کرے گا۔

جمعرات کے روز جب پی سی بی نے بی سی بی سے رابطہ کیا تو اس کا جواب تھا کہ آئندہ چند روز میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بی سی بی کے صدر ناظم الحسن نے بدھ کے روز ڈھاکہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے دورہ پاکستان کے بارے میں حتمی فیصلہ جمعرات کے روز کر لیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

پاکستانی کرکٹر ایشیا الیون میں کیوں شامل نہیں؟

یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے، احسان مانی

پاکستان میں کرکٹ تو واپس آ گئی لیکن مداحوں کا کیا؟

عام خیال یہی ہے کہ ہفتے اور اتوار کی چھٹی کے بعد پیر یا منگل تک بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اپنے فیصلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کر دے گا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے فیصلے کے لیے مزید مہلت کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اسے اپنی حکومت کی جانب سے بھی باقاعدہ اجازت کا انتظار ہے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے اس ماہ پاکستان آنا ہے تاہم اس کی جانب سے ٹیسٹ سیریز کھیلنے پر ہچکچاہٹ کے سبب غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں سری لنکا کی ٹیم نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز پاکستان میں کھیلی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پی سی بی یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی ہوم سیریز اب نیوٹرل مقام پر نہیں کھیلے گا

سیریز میں رکاوٹ کیا ہے؟

دونوں ملکوں کے بورڈز اس ٹیسٹ سیریز کے معاملے پر پچھلے کئی ہفتوں سے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

پی سی بی یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی ہوم سیریز اب نیوٹرل مقام پر نہیں کھیلے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ بات واضح کرچکا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان آکر پہلے ٹیسٹ سیریز کھیلے جس کے بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جائے گی۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی یہ خواہش رہی ہے کہ پہلے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جائے۔

اس ضمن میں بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز پاکستان کے بجائے نیوٹرل مقام پر کھیلنا چاہتا ہے۔

اس کے علاوہ بنگلہ دیش کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ صرف ایک ٹیسٹ میچ پاکستان میں کھیلا جائے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اس کے لیے کسی صورت میں تیار نہیں۔

پی سی بی نے بی سی بی سے پاکستان میں ٹیسٹ سیریز نہ کھیلنے کی معقول وجہ بھی جاننی چاہی ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ اور محدود اوورز کی سیریز کھیلنے دو بار پاکستانی آچکی ہے اور اس کے کھلاڑیوں نے سکیورٹی کا کسی بھی قسم کا خدشہ ظاہر نہیں کیا۔

پی سی بی کا موقف اس لیے بھی مزید تقویت پاچکا ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں بنگلہ دیش کے 23 کرکٹرز نے خود کو رجسٹر کرایا تھا جو یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ اس بار پاکستان سپر لیگ مکمل طور پر پاکستان میں ہورہی ہے اور اگر وہ اس میں کھیلتے تو انہیں ایک ماہ پاکستان میں قیام کرنا ہوتا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر ناظم الحسن نے بدھ کے روز ڈھاکہ میں میڈیا سے اپنی گفتگو میں یہ کہا تھا کہ پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھلاڑی زیادہ وقت پاکستان میں ٹھہرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمین مشفق الرحیم پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا اپنے کرکٹرز سے رابطہ

اس تمام تر صورتحال میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا اپنے کھلاڑیوں سے مستقل رابطہ رہا ہے۔

بورڈ کے حکام نے کھلاڑیوں سے ملاقاتوں میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ چونکہ یہ ٹیسٹ سیریز آئی سی سی کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے لہذا اسے نہ کھیلنے کی صورت میں بنگہ دیش کو آئی سی سی کی جانب سے مشکلات سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر ناظم الحسن کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمین مشفق الرحیم پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں بھی بیشتر صرف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں