#U19CWC: وہ پانچ کھلاڑی جو انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے سے پہلے ہی ٹیسٹ کرکٹر بن گئے تھے

عمران نذیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہر نوجوان کرکٹر کے لیے انڈر 19 ورلڈ کپ ہمیشہ ایک ایسا پلیٹ فارم سمجھا گیا جہاں اس کی غیر معمولی کارکردگی کی بدولت اس کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھل گئے۔

رواں سال انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے زیراہتمام جنوبی افریقہ میں انڈر 19 ورلڈ کپ 17 جنوری سے 9 فروری تک کھیلا جارہا ہے جس میں پاکستان اور انڈیا سمیت دیگر ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

سنہ 1988 میں پہلے انڈر 19 ورلڈ کپ سے لے کر اب تک ایسے کئی کھلاڑی ہیں جنھوں نے جونیئر عالمی ایونٹ میں اپنی متاثرکن کارکردگی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے، چاہے آپ موجودہ انڈین ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی یا انگلینڈ کے آل راؤنڈر بین سٹوکس کی مثال لے لیں۔

ایسے ان گنت کرکٹرز کے نام بھی موجود ہیں جنھوں نے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل کریئر کا آغاز کیا اور اس کے بعد انھیں انڈر 19 ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع ملا۔ لیکن صرف 5 کرکٹرز ایسے ہیں جنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے بعد انڈر 19 ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی کرکٹ کے ’کرپٹ‘ کھلاڑی

کرکٹ میں ننانوے سے نو سو ننانوے تک کا کرب

دس بڑے کھلاڑی جو کرکٹ کا عالمی کپ نہ جیت سکے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نریندرا ہروانی (انڈیا)

انڈیا کے لیگ سپنر نریندرا ہروانی نے 1988 میں اپنا پہلا انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلا لیکن اس سے قبل ہی وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی چونکا دینے والی کارکردگی سے شہ سرخیوں میں آچکے تھے۔

نریندرا ہروانی نے انڈر19 ورلڈ کپ سے صرف ایک ماہ قبل اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف چنئی میں کیا تھا اور پہلی اننگز میں 61 رنز دے کر آٹھ وکٹیں اور دوسری اننگز میں بھی 75 رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں وہ آسٹریلیا کے فاسٹ بولر باب میسی کے بعد اپنے اولین ٹیسٹ میں سولہ وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے تھے۔

نریندرا ہروانی نے انڈر 19 ورلڈ کپ کے سات میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ تاہم وہ اپنے انٹرنیشنل کریئر میں محض 17 میچ کھیل سکے جن میں انھوں نے 66 وکٹیں حاصل کیں۔

حسن رضا (پاکستان)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حسن رضا نے 1996 میں زمبابوے کے خلاف فیصل آباد میں اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز صرف 14 سال اور 227 دن کی عمر میں کیا۔

اس طرح وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کم عمر کرکٹر بن گئے تھے۔ انھوں نے اس ٹیسٹ کے فوراً بعد اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا تو اس وقت ان کی عمر 14 سال 233 دن تھی۔ اس طرح انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کے بھی سب سے کم عمر کرکٹر ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کرلیا۔

لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی عمر کے بارے میں شک و شبہات ظاہر کر دیے جس کی وجہ سے کرکٹ کے معروف جریدے وزڈن نے ان کے عالمی ریکارڈ پر سوالیہ نشان لگا رکھا ہے۔

حسن رضا نے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کھیلنے کے بعد دو انڈر 19 ورلڈ کپس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔

سنہ 1998 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں حسن رضا نے سری لنکا کے خلاف میچ میں 90 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ انھوں نے آئرلینڈ کے خلاف 65رنز بنائے تھے۔

سنہ 2000 میں سری لنکا میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں حسن رضا پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے لیکن وہ بیٹنگ میں متاثرکن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تھے۔

عمران نذیر (پاکستان)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمران نذیر نے اپنا پہلا ٹیسٹ مارچ 1999 میں سری لنکا کے خلاف لاہور میں کھیلا تھا اور نصف سنچری سکور کی تھی۔

وہ 2000 میں انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کے اوپنر تھے لیکن اس ایونٹ کے پانچ میچوں میں وہ ایک بھی نصف سنچری نہ بنا پائے۔

عمران نذیر نے انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے کے بعد مزید سات ٹیسٹ میچز کھیلے اور نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری بھی سکور کی۔ تاہم وہ ون ڈے کرکٹ میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔ انھوں نے 79 ون ڈے انٹرنیشنل میں دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 1895 رنز بنائے تھے۔

ان کے 2007 کے عالمی کپ میں زمبابوے کے خلاف بنائے گئے 160 رنز ورلڈ کپ مقابلوں میں کسی بھی پاکستانی بلے باز کی طرف سے سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ ہے۔

انعام الحق جونیئر (بنگلہ دیش)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بنگلہ دیش کے لیفٹ آرم سپنر انعام الحق جونیئر نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز 2003 میں انگلینڈ کے خلاف ڈھاکہ میں کیا تھا۔

چٹاگانگ میں سیریز کا اگلا ٹیسٹ کھیلنے کے بعد وہ 2004 کا انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلے تھے جو انھی کے ملک بنگلہ دیش میں منعقد ہوا تھا۔

انعام الحق جونیئر نے اس انڈر 19 ورلڈ کپ میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 8 میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں آسٹریلیا کے خلاف 31 رنز دے کر 5 وکٹوں کی کارکردگی قابل ذکر تھی۔

انعام الحق نے پندرہ ٹیسٹ میچوں پر مشتمل کریئر میں 44 وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بارہ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی بھی شامل تھی۔

سنجیوا ویرا سنگھے (سری لنکا)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنجیوا ویرا سنگھے نے ستمبر 1985 میں انڈیا کے خلاف کولمبو میں جب ٹیسٹ کیپ حاصل کی تو وہ سکول کے طالبعلم تھے۔ 17 سال 189 دن کی عمر میں وہ سری لنکا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر بھی بن گئے تھے۔

یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے لیکن اس میچ میں لیگ سپنر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے وہ دونوں اننگز میں وکٹ لینے میں ناکام رہے تھے۔

اس ٹیسٹ کے بعد وہ پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکا کی ٹیم میں بھی شامل تھے لیکن ان کا کریئر صرف ایک ٹیسٹ کے بعد ہی ختم ہوگیا تھا۔

سنجیوا کو 1988 میں آسٹریلیا میں منعقدہ پہلے انڈر 19 ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن تین میچوں میں وہ صرف ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوپائے تھے۔

اسی بارے میں