ہنزہ میں آئس سکیٹنگ کرنے والی ملاک فیصل: ’آدھ انچ کے سٹیل پر گھومنا آسان نہیں‘

سکیٹنگ

چند روز پہلے پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں نہایت مہارت سے برف پر فِگر آئس سکیٹنگ کا مظاہرہ کرتی جس ننھی لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی وہ ملاک فیصل ہیں۔

ملاک فیصل نے دو ماہ پہلے آسٹریا میں فگر سکیٹنگ کے بین الاقوامی مقابلے میں 23 کھلاڑیوں کو شکست دے کر پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

ملاک سے ملاقات کا موقع اس ویڈیو کو دیکھنے کے دو روز بعد ملا۔

یہ بھی پڑھیے

’۔۔۔ایک نوجوان لڑکی نے اتنا بڑا کام کیا ہے‘

پاکستانی کھلاڑی پروفیشنل سنوکر سے دور کیوں ہیں؟

’سہولیات نہیں لیکن پاکستانی لڑکیوں میں فٹبال کا جنون ہے‘

ان کے والد کا تعلق پاکستان سے جبکہ والدہ کا لبیا سے ہے مگر یہ خاندان کام کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے۔

ملاک جنھیں ونٹر سپورٹ ایسوسی ایشن آف گلگت بلتستان اور ایڈوینچر ٹورازم گروپ آف پی ٹی ڈی سی نے پاکستان میں آنے کی دعوت دی، کہتی ہیں کہ میں تیسری مرتبہ پاکستان آئی ہوں۔

’پہلی بار پاکستان آنے سے پہلے میں نے گوگل پر پاکستان کا نام لکھا اور شمالی علاقوں کی برف سے ڈھکی تصاویر دیکھیں تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ پاکستان ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAISAL
Image caption ملاک نے تین سے چار برس کی عمر کے دوران سکیٹنگ کا آغاز کیا

ملاک کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے پاکستان میں فِگر آئس سکیٹنگ کو متعارف کروایاہے۔

12 سالہ ملاک نے اپنی زندگی کے آٹھ سال فگِر سکیٹنگ کرتے گزارے ہیں۔ بھلے دن کا آغاز ہو یا اختتام، سکیٹنگ ساتھ ساتھ چلتی ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ پڑھائی میں کسی سے پیچھے ہیں۔ ہر سبجیکٹ میں اے لے کر وہ اپنی کلاس کے ذہین بچوں میں سے ایک ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’والد والدہ دونوں سکیٹنگ کرتے تھے میں نے بھی کی مجھے یہ کرنا بہت اچھا لگا شروع میں یہ بطور مشغلہ تھا پھر میں نے اسے ذرا پروفیشنل انداز میں لیا اور پانچ سال کی عمر میں، میں نے پہلا گولڈ میڈل ابوظہبی میں ایک مقابلے میں جیتا۔‘

’میرے والدین اس کے لیے مجھے ہر سہولت دیتے ہیں اور میری مدد کرتے ہیں۔‘

چھٹی جماعت کی طالبہ ملاک کہتی ہیں ’شروع میں تعلیم اور سکیٹنگ کو ساتھ ساتھ چلانا کسی چیلینج سے کم نہیں تھا۔ مشکل ہوتی تھی لیکن پھر جب میں نے ٹائم کو مینیج کیا تو سب ٹھیک ہوتا گیا۔‘

’میں ایک ہفتے میں تقریباً 20 گھنٹے سکیٹنگ کی ٹریننگ کرتی ہوں۔ روزانہ برف پر اور برف کے باہر تین سے چار گھٹنے ٹریننگ کرتی ہوں۔‘

ملاک کہتی ہیں کہ آدھ انچ کے بلیڈ پر مسلسل پھسلتے رہنا آسان نہیں ہوتا یہ واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔

’بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فگر سکیٹنگ بہت آسان ہے۔ یا آپ بہت سے جمپ لگا سکتے ہیں اس میں ایک خاص لیول تک پہنچ کہ آپ جمپ لگا سکیں سپِن (گھوم) سکیں اس کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔اس میں توازن قائم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک پاؤں پر آپ ادھر ادھر گھوم رہے ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا ’میری کوچ کا نام لودا ہے وہ بہت اچھی کوچنگ کرتی ہیں میری والدہ بھی میری کوچنگ کرتی ہیں خاص طور پر میرے مقابلے سے پہلے وہ مجھے ذہنی طور پر تیار ہونے میں مدد کرتی ہیں۔‘

’اسی طرح میرا سکول بھی میری بہت مدد کرتا ہے مجھ سے تعاون کرتا ہے۔‘

’اس وقت بہت مشکل ہوتا ہے جب درمیان میں میرے پیپر ہوتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو سکیٹنگ کرنی ہوتی ہے۔ میں ایسا کرتی ہوں کہ میں سکیٹنگ کے دوران سکول کے بارے میں کسی بھی چیز کے بارے میں نہیں سوچتی کیونکہ اگر ایسا ہو تو آپ سوچتے ہیں مجھے یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی کرنا ہے تو آپ توجہ مرکوز نہیں کر سکتے۔ اس لیے سکیٹنگ کے بعد میں پڑھتی ہوں اور پیپر دیتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAISAL
Image caption سپین میں ہونے والے ایک مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد

لیکن مستقبل کے بارے میں کیا پلان ہے؟

اس سوال کے جواب میں ملاک نے بتایا کہ ان کے خیال میں سکیٹنگ کوچ بننا ان کا دوسرا آپشن ہوگا وہ بطور کریئر شاید انجینئیر بنیں اور اس کے علاوہ انھیں آرٹ پسند ہے۔

ابھی ملاک سپین کے ایک کیمپ سے وابستہ ہیں۔ لیکن وہ یہ خواہش رکھتی ہیں کہ وہ پاکستان کی ترجمانی بین الاقوامی سطح پر کریں اور پاکستان کا جھنڈا لہرائیں لیکن ان کی یہ خواہش ابھی پوری نہیں ہو سکی اس کی وجہ پاکستان میں ٹیلنٹ کے باوجود اس کھیل پر توجہ نہ ہونا اور اس کی باضابطہ فیڈریشن کا نہ ہونا ہے۔

ملاک کہتی ہیں کہ ان کی والدہ اور والد نے یہاں پاکستان میں تینوں دوروں کے دوران کیمپ لگائے۔ بچوں اور نوجوانوں کو کوچنگ بھی کی اور ساتھ ہی خود ملاک نے بھی سکیٹنگ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAISAL
Image caption ملاک نے جون میں کراچی کا دورہ کیا تھا اور وہاں ان کی والدہ نسرین فیصل نے بچوں کو ٹریننگ بھی دی تھی

وہ بتاتی ہیں کہ پہلی بار میں نلتر آئی تھی، پھر دوسری مرتبہ کراچی اور اب اس بار مالم جبہ، ہنزہ اور گلگت بلتستان گئی۔

’پاکستان واقعی بہت خوبصورت ہے۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں انھوں نے میرے کام میں میری بہت مدد کی۔‘

ان کے خیال میں پاکستان میں بہت صلاحیت ہے خاص طور پر شمالی علاقوں میں موجود لڑکیوں اور لڑکوں میں سکیٹنک آئس ہاکی کے لیے بہت ٹیلنٹ ہے۔

’میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں موجود سکیٹرز خاص طور پر شمالی علاقوں میں بہت صلاحیت ہے کہ وہ چھوٹے اور بڑے مقابلوں میں حصہ لے سکیں، یقیناً انھیں بہت زیادہ ٹریننگ کی ضرورت ہوگی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ دوبئی کے مال میں مصنوعی گراؤنڈ پر آئس سکیٹنگ کرنا اور یہاں باہر حقیقی برف میں سکیٹنگ کرنا بہت مختلف تھا اور انھیں بہت اچھا لگا۔

وہ پاکستان کے ان تمام اداروں کی شکرگزار ہیں جنھوں نے انھیں یہاں آنے کی دعوت دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/FAISAL
Image caption ملاک کے والد فیصل اور والدہ نسرین ان کا تمام خرچ خود اٹھاتے ہیں جو انھیں لاکھوں پاکستانی روپوں کے برابر پڑتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے بچوں میں موجود اس ٹیلنٹ کو بروے کار لایا جانا چاہیے اور باضابطہ اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے کام کرنے پر حکومتی توجہ ہونی چاہیے

اکلوتی ہونے کے ناطے بظاہر ملاک کو والدین کی بھر پور توجہ حاصل ہے لیکن بات کرنے اور اگر کسی سوال کا جواب مکمل معلوم نہیں تھا تو والدین سے مکمل معلومات لینے میں وہ اپنی عمر سے بہت آگے دکھائی دیں۔

میں نے پوچھا کہ کامیابی کیسی لگتی ہے اور جب ناکام ہو جائیں تو کیا سوچتی ہیں؟

تو ان کا جواب تھا مجھے اور میرے والدین کو مجھ پر بہت فخر ہے۔

’بہت اچھا لگتا ہے جب آپ جیت جاتے ہیں۔ بہت خوشی ہوتی ہے۔ آپ دوسروں سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں، کھیل رہے ہوتے ہیں تو دباؤ میں ہوتے ہیں لیکن جیت کے بعد دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب ہار جائیں تو آپ سوچتے ہیں کہ آپ کچھ بہتر بھی کر سکتے تھے۔ آپ نے اپنے دوستوں کو مایوس کیا ہے لیکن میں آگے بڑھتی ہوں اور اسے ایک طرف کر دیتی ہوں اور سکیٹنگ کو بہتر کرنے کے لیے نئی چیزوں پر کام کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اگلے مقابلے میں جیت جاؤں گی۔‘

Image caption ملاک کہتی ہیں کہ فِگر سکیٹنگ سیکھنا ایک محنت طلب کام ہے جس کے لیے آپ کو اپنے شوق اور تعلیم کے درمیان توازن کے لیے وقت کا درست استعمال کرنا ہو گا

آخر میں انھوں نے کہا کہ میں ایک پیغام دینا چاہتی ہوں کہ آپ کوئی بھی کھیل کھیل رہے ہوں محنت کریں اور اپنے مقصد کو حاصل کریں ہار نہ مانیں۔

جب کے ان کے والدین کا کہنا تھا’ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان میں ہمارا اتنا اچھا استقبال ہوا لیکن سوشل میڈیا پر کچھ تنقید بھی دیکھنے کو ملی۔ ہم یہی کہیں گے کہ اپنی بیٹیوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دیں ان کا ٹیلنٹ ضائع نہ کریں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں