#PSL2020: اینڈی فلاور کے مطابق ’پی ایس ایل بہترین بولنگ اٹیک کی لیگ ہے‘

اینڈی فلاور

جب اینڈی فلاور زمبابوے کی طرف سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلے تو انھوں نے کرکٹ کی دنیا کی کمزور ٹیم کے کامیاب بلے باز کے طور پر شہرت حاصل کی۔

وہ انگلینڈ کے کوچنگ سیٹ اپ کا حصہ بنے تو اپنی ذہانت کے بل پر انگلینڈ کو کرکٹ کی دنیا میں بلند مقام پر لے گئے۔

لیکن اب اینڈی فلاور کے وسیع تجربے سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم ملتان سلطانز استفادہ حاصل کر رہی ہے جس نے ان کی خدمات ہیڈ کوچ کے طور پر حاصل کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

’دورے کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے‘

کرکٹ یقیناً ایک بہتر موضوع سخن ہے

کرکٹ میں’نو ٹاس‘ قانون آخر کیا ہے؟

اینڈی فلاور نے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان سپر لیگ اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی سے متعلق تفصیلی گفتگو کی ہے۔

’ملتان سلطانز کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرجوش‘

اینڈی فلاور کہتے ہیں ’مجھے خوشی ہے کہ ملتان سلطانز کے مالکان نے مجھ سے رابطہ کیا اور میں انٹرویو ٹیسٹ میں کامیاب ہوا۔ میں ملتان سلطانز کے ساتھ کام کرکے بہت زیادہ ُپرجوش ہوں۔‘

’پہلے ہی ٹریننگ سیشن میں باصلاحیت کرکٹرز کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اچھا رہے گا۔ ملتان سلطانز میں جہاں تجربہ کار شاہد آفریدی، معین علی، سہیل تنویر، رائلے روسو، روی بوپارا، جنید خان، محمد عرفان اور عمران طاہر موجود ہیں تو دوسری جانب روحیل نذیر، محمد الیاس اور ذیشان اشرف جیسے باصلاحیت کرکٹرز بھی شامل ہیں۔‘

پی ایس ایل ٹیم کی لودھراں میں اکیڈمی

اینڈی فلاور کا کہنا ہے ’علی ترین نے لودھراں میں کرکٹ اکیڈمی قائم کر کے نئے باصلاحیت کرکٹرز کو سامنے لانے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ ان کی یہ کوشش قابل قدر ہے۔

اس اکیڈمی میں غیرملکی کوچز بھی موجود ہیں اور اس سے نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔‘

’پی ایس ایل میں بہترین بولرز موجود ہیں‘

اینڈی فلاور کے خیال میں پی ایس ایل بہترین بولنگ اٹیک کی لیگ ہے۔

’پی ایس ایل کے بولنگ اٹیک میں زیادہ تر پاکستانی بولرز چھائے ہوئے ہیں۔ فرنچائزز کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ غیر ملکی بلے بازوں کی خدمات حاصل کریں۔ پاکستانی کرکٹ کو نہ صرف ’پراسرار‘ سپن بولنگ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے بلکہ تیز بولنگ کی وجہ سے بھی۔ یہ ساکھ اور شہرت ہر پی ایس ایل کے ساتھ بڑھتی اور مضبوط ہوتی جارہی ہے۔‘

اینڈی فلاور کہتے ہیں ’میرا پی ایس ایل سے پہلا براہ راست تعلق سنہ 2016 میں پہلے ایڈیشن میں رہا تھا جب میں پشاور زلمی کا بیٹنگ کوچ تھا۔ اس وقت مجھے پی ایس ایل کا معیار اچھا لگا تھا۔ اس کے بعد سے اس لیگ میں بہتری آتی رہی ہے۔‘

دیگر کوچز سے مقابلہ کیسا رہے گا؟

وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ٹیم کے ساتھ تجربہ کار کوچز موجود ہیں۔ میں معین خان اور وسیم اکرم کے خلاف کھیل چکا ہوں اور اب یہ پی ایس ایل میں اپنا تجربہ اپنی ٹیموں کو منتقل کررہے ہیں۔‘

’یہ ایک اچھا موقع ہے کہ ہم اپنی سمجھ بوجھ اور معلوماتی وسائل کا ایک دوسرے کے مقابلے میں استعمال کریں۔ ملتان سلطانز کا کوچنگ اسٹاف اظہرمحمود۔ مشتاق احمد اور عبدالرحمن پر مشتمل ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ ’مشتاق احمد اور اظہرمحمود کے خلاف کھیل چکے ہیں لیکن اب ان کے ساتھ کام کرنا یقیناً ایک اچھا تجربہ ہوگا کہ ہم نوجوان کرکٹرز کو تیار کرسکیں جو نہ صرف ملتان سلطانز کے لیے اچھا کھیلیں بلکہ مستقبل میں پاکستانی ٹیم میں بھی شامل ہوسکیں۔‘

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اینڈی فلاور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے ذکر میں انٹرنیشنل الیون کے دورۂ پاکستان کو نہیں بھولتے۔

’اس دورے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی راہ ہموار کی جائے۔ اس سلسلے میں جائلز کلارک کی پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ کوششیں بہت اہم تھیں جس کی وجہ سے وہ دورہ بہت کامیاب رہا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹرز اورٹیمیں آنا شروع ہوگئی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ درست سمت میں جارہے ہیں۔‘

اینڈی فلاور کا بین الاقوامی کریئر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/ Graham Chadwick

سنہ 1992 میں زمبابوے نے اپنا اولین ٹیسٹ انڈیا کے خلاف ہرارے میں کھیلا تھا۔ وہ اپنے بھائی گرانٹ فلاور کے ساتھ اس ٹیم کا حصہ تھے۔

انھوں نے 63 ٹیسٹ میچوں میں 4794 رنز بنائے جن میں 12 سنچریاں اور 27 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں زمبابوے کی طرف سے سب سے زیادہ رنز، سنچریاں اور نصف سنچریاں بنانے والے بلے باز ہیں۔ انھوں نے 213 ون ڈے انٹرنیشنل میں چار سنچریوں اور 55 نصف سنچریوں کی مدد سے6786 رنز اسکور کیے ہیں جو کسی بھی زمبابوے کے بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

وہ انگلینڈ کی ٹیم کے کوچ اور ٹیم ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی کوچنگ میں انگلینڈ نے 2010 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا، دو ایشیز سیریز میں کامیابیاں حاصل کیں اور ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اسی بارے میں