گلاسگو اوپن: سونے کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد

رابعہ شہزاد تصویر کے کاپی رائٹ Rabia Shahzad

’مجھے نہیں معلوم تھا کہ ویٹ لفٹر سے لوگ ڈرتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ایک لڑکی نے مجھے بتایا کہ فلاں لڑکا تم سے بہت ڈرتا تھا، میں نے پوچھا ایسا کیوں ہے، تو اس نے بتایا کہ اسے لگتا ہے کہ تم کسی کو بھی اٹھا کر پٹخ دو گی۔‘

یہ کہنا ہے پاکستانی ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد کا، جنھوں نے حال ہی میں گلاسگو اوپن کلاسک ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2020 میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔

21 سالہ رابعہ شہزاد کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں زیر تعلیم ہیں اور کسی کوچ کے بغیر ہی اپنے گھر پر ٹریننگ کرتی ہیں۔

رابعہ شہزاد نے گذشتہ برس اکتوبر میں برطانیہ کی ہیمپشائر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں بھی گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

شلوار قمیض میں پہلوانی! بھئی واہ

’چوتھی جماعت میں چار لڑکوں کی پٹائی لگائی تھی‘

چار ماہ میں تین گولڈ میڈل جیتنے والی طالبہ ندا جمالی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رابعہ نے بتایا کہ وہ گذشتہ تین برس سے ویٹ لفٹنگ کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد کو سپورٹس کا بہت شوق تھا اور وہ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ ریلسنگ (کشتی) کیا کرتی تھیں۔

’میرے والد نے میرا بہت ساتھ دیا جبکہ میری والدہ کہا کرتی تھیں کہ تم نے مزدوروں والا کام شروع کر دیا ہے۔ ان کو اچھا نہیں لگتا تھا، وہ کہتی تھیں تمہارے ہاتھ خراب ہو رہے ہیں، وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہے، اس لیے اللہ نے تمھیں یہ سزا دی ہے کہ ویٹ لفٹنگ میں لگا دیا، میری نانی، دادی، خالائیں سب اس کے بہت خلاف تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Rabia Shahzad

لیکن والد کے بعد اگر کسی نے رابعہ کی حوصلہ افزائی کی تو وہ ان کے دوست ہیں۔

’آئی بی اے میں میرے سب دوست میری بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کوئی منفی بات نہیں کرتا، سب لڑکے لڑکیاں مجھے ہمیشہ مثبت ردعمل ہی دیتے ہیں۔‘

رابعہ بتاتی ہیں کہ وہ گھر کے اندر ہی ویٹ لفٹنگ کرتی ہیں کیونکہ باہر کوئی ایسی سہولت میسر نہیں۔

’پہلے میں نے گھر کے داخلی راستے پر اپنا جم بنا رکھا تھا لیکن میں وہاں مکمل توجہ نہیں دے پاتی تھی لہذا پھر میں نے گھر کے ڈائننگ روم میں اہنا سیٹ اپ بنا لیا اور اب میں وہاں وزن اٹھاتی ہوں۔‘

’گھر میں سارے وزن اٹھانے والے کام تم کرتی ہو‘

رابعہ کے مطابق جب وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ وہ ویٹ لفٹر ہیں تو لوگ کہتے ہیں ’گھر میں سارے وزن اٹھانے والے کام تم ہی کرتی ہو گی۔ لیکن یہ صحیح بھی ہے، میری والدہ ہمیشہ مجھے ہی پانی کی 20 کلو کی بوتل اٹھانے کا کہتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Rabia Shahzad

’جب میں انھیں کہتی ہوں کہ باقی بہنوں کو کیوں نہیں کہا تو وہ کہتی ہیں کہ تم ہی تو ویٹ لفٹر بنی پھرتی ہو۔ جاؤ اپنی طاقت دکھاؤ۔‘

وہ کہتی ہیں کہ عام طور پر ویٹ لفٹرز کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بہت بھاری بھرکم ہوتے ہیں لیکن انھیں دیکھ کر اکثر لوگ حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔

’میں اپنے وزن اور جسامت کا کافی دھیان رکھتی ہوں، تو لوگ مجھ سے اکثر حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ تم پتلی ہو کر بھی اٹھا لیتی ہو۔‘

رابعہ کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کو پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اگر وہ ویٹ لفٹنگ کرنا چاہتی ہیں تو ضرور کریں۔

’آپ کو صرف اپنے شوق کی پیروی کرنی چاہیے اور اس بات پر دھیان نہیں دینا چاہیے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں، یہ آپ کی زندگی ہے، اسے اپنے مطابق گزاریں، کسی اور کی خاطر اپنے فیصلے تبدیل نہ کریں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں