#PSL2020: متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپر لیگ کی گہما گہمی ختم ہونے پر شائقین مایوس

فاطمہ تصویر کے کاپی رائٹ Fatima Ajmal

10 برس کی فاطمہ اجمل دبئی میں چھٹی جماعت کی طالبہ ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے شروع ہوتے ہی وہ خاصی پُرجوش ہوجاتی تھیں اور اپنی والدہ کے ساتھ دبئی اور شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کا رخ کرتی تھیں جہاں وہ چوکوں چھکوں سے لطف اندوز ہونے سے زیادہ ان مواقعوں کی تلاش میں رہتی تھیں کہ کسی طرح کرکٹرز کے ساتھ تصاویر بنوا سکیں۔

فاطمہ اجمل کو اب اسی بات کا دکھ ہے کہ چونکہ پی ایس ایل متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل ہوچکی ہے لہذا اب وہ کرکٹرز کے ساتھ سیلفی بنانے کا شوق پورا نہیں کرسکیں گی۔

فاطمہ کہتی ہیں ’پی ایس ایل کا دبئی اور شارجہ میں ایک اپنا مزہ تھا ۔اب پی ایس ایل یہاں منعقد نہیں ہو رہی تو میں بہت اداس ہوگئی ہوں اور خود کو سست محسوس کررہی ہوں۔‘

فاطمہ کا کہنا ہے ’میں نے تقریباً تمام ہی کرکٹرز کے ساتھ سیلفی بنوائی ہے۔ مجھے سب کرکٹرز بہت پسند ہیں لیکن ڈیرن سیمی بہت اچھے ہیں جن کے ساتھ آپ جتنی بھی تصویریں بنوا لیں وہ منع نہیں کرتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل میں تماشائی کیوں نہیں آتے؟

’پی ایس ایل سے کاروبار پر فرق تو پڑتا ہے‘

پاکستان سپر لیگ فور کی رنگا رنگ تقریب کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Fatima-selfie

ان کا کہنا تھا ’میچ کے اگلے دن جب میں سکول جاتی تھی تو میری تمام دوستیں مجھ سے کہتی تھیں کہ تمھیں ٹی وی پر دیکھا ہے۔ میں نے فیس بک پر فاطمہ سیلفی کے نام سے اپنا پیج بنا رکھا ہے جس پر کرکٹرز کے ساتھ تصاویر پوسٹ کرتی ہوں۔‘

فاطمہ پاکستان آنا چاہتی ہیں تاکہ لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں پی ایس ایل 5 کے میچز دیکھ سکیں۔

’میں نے اپنی امی کو کہا ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ تم دبئی اور شارجہ کی طرح پاکستانی گراؤنڈز میں آزادی سے ساتھ گھوم پھر نہیں سکو گی اور جہاں کا ٹکٹ ہو گا وہیں بیٹھ کر میچ دیکھنا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Fatima Ajmal

’انڈین شائقین بھی پی ایس ایل دیکھنے آتے تھے‘

فاطمہ اس مایوسی میں تنہا نہیں ہیں بلکہ دبئی، شارجہ کے کئی دوسرے لوگ بھی پی ایس ایل کی گہما گہمی ختم ہونے پر افسردہ ہیں اور ان میں میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ پی ایس ایل کو بہت یاد کریں گے۔

خلیجی اخبار گلف نیوز میں کھیلوں سے وابستہ سینیئر صحافی کے آر نائر پچھلی کئی دہائیوں سے امارات میں بین الاقوامی کرکٹ کی کوریج کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یو اے ای میں ایشیا سے آئے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے جو کرکٹ کو بہت پسند کرتے ہیں اور پی ایس ایل کے ذریعے انھیں اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل نے امارات کے سپورٹس کلینڈر میں ایک اہم شکل اختیار کر لی تھی جیسا کہ ماضی میں شارجہ کرکٹ میلے نے سب کی توجہ حاصل کر رکھی تھی۔ ’حالیہ برسوں میں یہ مقام پی ایس ایل کو حاصل ہوچکا تھا۔‘

کے آر نائر کا مزید کہنا ہے کہ امارات میں رہنے والے تارکین وطن کے لیے پاکستان کی طرح ملازمت سے چھٹی لینا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن وہ ٹی وی اور ریڈیو کمنٹری کے ذریعے پی ایس ایل سے جڑے رہتے تھے۔

جیو نیوز کے نمائندے سبط عارف کا کہنا ہے ’ایک پی ایس ایل ہی تو تھی جس نے اپنا رنگ جمایا ہوا تھا لیکن یہ بھی چلی گئی ہے، لہذا اب تو کچھ بھی نہیں بچا۔ اب بالکل خاموشی ہے۔‘

سبط عارف کہتے ہیں کہ پی ایس ایل کے تمام میچوں میں شائقین کے نہ ہونے کے باوجود دلچسپی بہرحال موجود رہتی تھی۔ ’نہ صرف پاکستانی شائقین بلکہ انڈین بھی پی ایس ایل دیکھنے آتے تھے حالانکہ انڈین کرکٹرز اس میں حصہ نہیں لیتے لیکن اس کے باوجود انڈین شائقین کی دلچسپی بھی اس میں تھی۔

رضیہ رکن الدین دبئی میں اے آر وائے کی سینیئر رپورٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کرکٹ کے نقطۂ نظر سے پاکستان سپر لیگ کا پاکستان چلے جانا خوش آئند ہے کیونکہ یہ وہیں کا ایونٹ ہے اور وہاں کے بچے اور نوجوان اپنے ہیروز کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھ سکیں گے جس سے وہ کئی برسوں سے محروم تھے۔

رضیہ رکن الدین کا کہنا ہے کہ ایک صحافی کی حیثیت سے انھیں ہرسال پہلی فرنچائز ٹیم کی دبئی آمد اور پہلے پریکٹس سیشن کا انتظار رہتا تھا کہ کھلاڑیوں کے انٹرویوز کرنے ہیں اور یہ سب انھیں یاد رہے گا۔

نیو ٹی وی کی امارات میں نمائندہ سعدیہ عباسی کا کہنا ہے کہ وہ کھیلوں کے علاوہ سیاسی سماجی اور شوبز کی رپورٹنگ کرتی ہیں لیکن پی ایس ایل کی کوریج سے جیسے انہیں ُانسیت ہوگئی تھی۔

’جیسے ہی لیگ کا وقت قریب آتا تھا کوریج کی پلاننگ شروع ہوجاتی تھی کیونکہ یہی ایک بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ امارات میں ہوتا تھا جس میں کوریج کے بہترین مواقع موجود ہوا کرتے تھے۔ اس ایونٹ سے یہ فائدہ بھی ہوا کہ پاکستان سے آنے والے سینئر صحافیوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا۔‘

پی ایس ایل کی شرٹس کیا اب بھی فروخت ہوں گی؟

پی ایس ایل کے دوران دبئی شارجہ اور ابوظہبی میں کھیلوں کی دکانوں پر پی ایس ایس ایل کھیلنے والی ٹیموں کی شرٹس نمایاں نظر آتی رہی ہیں لیکن اب چونکہ یہ لیگ وہاں نہیں رہی تو سوال یہ ہے کہ بچے اور نوجوان پہلے کی طرح ان شرٹس میں دلچسپی لیں گے یا نہیں۔

کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی بین الاقوامی کمپنی کے ڈائریکٹر علی انور جعفری کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے موقع پر ٹیموں اور کھلاڑیوں کے ناموں والی شرٹس بچے اور نوجوان خریدا کرتے تھے اور پہن کر اسٹیڈیم جاتے تھے۔ ظاہر ہے اب میچز نہیں ہورہے تو یہ شرٹس خریدنے والوں کی تعداد میں بھی بہت زیادہ کمی ہوجائے گی۔

علی انور جعفری کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے شائقین پی ایس ایل دیکھنے آیا کرتے تھے اب یہ سلسلہ ختم ہونے سے ہوٹل، ویزے اور دیگر متعلقہ شعبوں کے بزنس پر بھی اثر پڑے گا۔

اسی بارے میں