لاہور قلندرز کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر ردِ عمل: ’دن بدل گئے، سال بدل گیا، نہ بدلا تو لاہور قلندرز کا نصیب‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ThePSLT20

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں میچ میں لاہور قلندرز کے محمد حفیظ کے ناقبل شکست 98 رنز اور شاہین آفریدی کی عمدہ بولنگ کے باوجود اسلام آباد یونائیٹڈ نے آخری اوور میں ایک وکٹ سے میچ اپنے نام کر لیا۔

یہ لاہور قلندرز کی اس ٹورنامنٹ میں چھٹی لگاتار شکست ہے کیونکہ پچھلے برس لاہور نے اپنے اختتامی چار میچ بھی ہارے تھے۔

تاہم یہ ایک ایسی شکست تھی جو کہ ایک انتہائی سنسنی خیز میچ کے بعد دیکھنے میں آئی جس کے باعث سوشل میڈیا پر اکثر صارفین یہ کہتے پائے گئے کہ آخر لاہور کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے۔

کرکٹ پر تجزیے اور تبصرے کرنے والی ویب سائٹ کرک وز کے مطابق یہ اعداد و شمار کے لحاظ سے بھی ایک انتہائی سنسنی خیز میچ تھا جس میں چار گھنٹے طویل میچ میں ہر 16 گیندوں بعد میچ کا پانسہ پلٹتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@TBajwa7

آخر میں لاہور فتح کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا اور جیت کے لیے اسے صرف ایک وکٹ درکار تھی کہ ایسے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے نمبر 11 پر بیٹنگ کرنے والے محمد موسیٰ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11 گیندوں پر 17 رنز بنائے اور احمد صفی عبد اللہ کے ساتھ آخری وکٹ کے لیے 20 رنز کی شراکت قائم کر کے فتح حاصل کر لی۔

اتوار کی شام کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے اس میچ میں مداحوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ایک صارف تحسین باجوہ لکھتے ہیں کہ پاکستانی ہر لحاظ سے کرکٹ سے محظوظ ہو رہے ہیں جو کہ متحدہ عرب امارات میں دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

لاہور کے پاس میچ پر گرفت مضبوط کرنے کے کئی مواقع آئے جن میں سے سب سے پہلا موقع اس وقت ملا جب اسلام کے صرف پانچ رنز پر دو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

ایسے میں اسلام آباد کے کپتان شاداب خان نے 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اسلام آباد کی میچ میں واپسی کروائی۔ تاہم انھیں بھی لاہور کی جانب سے دو مواقع دیے گئے۔ ایک موقع پر جب وہ آؤٹ تھے تو اپیل نہیں کی گئی اور دوسری مرتبہ شاداب آؤٹ تو ہو گئے لیکن عثمان شنواری کی یہ گیند نو بال قرار دے دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI

لاہور قلندرز کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی نے شاندار بولنگ کی اور ان کے تیسرے اوور میں لی گئی دو وکٹوں اور پھر آخری اوور میں عماد بٹ کی وکٹوں سے لگا کہ قلندرز یقینی طور پر جیت جائیں گے مگر ان کی کارکردگی رائیگاں گئی۔ جس پر ایک صارف یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ شاہین کو کسی بہتر ٹیم میں ہونا چاہیے۔

ادھر عثمان شنواری اور حارث رؤف نے دس رنز فی اوور سے زیادہ کی اوسط سے رن دیے اور شاہین آفریدی کا ساتھ نہ دے سکے۔

بولنگ کرتے ہوئے 14 رنز کے عوض دو وکٹیں اور پھر نہایت اہم نصف سنچری کر کے آل راؤنڈ کارکردگی دکھانے والے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان مین آف دا میچ قرار پائے۔

ایک صارف انور لودھی نے لکھا کہ فواد رانا کا لاہور قلندرز سے پی ایس ایل جیتنے کی امید رکھنا انٹارکٹکا میں آئس کریم شاپ کھول کر بزنس کی امید رکھنے کے مترادف ہے۔

تاہم کچھ صارف لاہور کی ڈھارس بندھاتے بھی نظر آئے۔ مزمل نامی ایک صارف نے لکھا کہ لاہور قلندرز کے علاوہ کوئی اور ٹیم اتنا سنسنی خیز اور دلچسپ میچ نہیں کھیل سکتی۔ مجھے اپنی ٹیم، شہر اور ملک پر فخر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MuzamilSheikhh

احمر نقوی نے لکھا کہ پاکستان کے لیے کسی شہر نے لاہور سے زیادہ نہیں کیا۔ اس شہر نے سب سے زیادہ میچوں کی میزبانی کی ہے اور اس کے شہریوں کو اس دوران سب سے زیادہ تکلیف سے گزرنا پڑا۔ انھوں نے ہم سب کی جانب سے پاکستانیوں کی مہمان نوازی کی نمائندگی کی اور اس شہر کی ٹیم ایسے ہارتی ہے کہ سب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@karachikhatmal

ایک صارف نے لکھا کہ دن دن بدل گئے، سال بدل گیا، یہاں تک کہ وزیر اعظم بھی بدل گیا لیکن نہیں بدلا تو لاہور قلندرز اور رانا صاحب کا نصیب۔

اسی بارے میں