قومی کرکٹ ٹیم کی نوجوان کھلاڑی عائشہ نسیم: کھیل پر طعنے ملتے تو میرا حوصلہ مزید بڑھ جاتا

عائشہ نسیم تصویر کے کاپی رائٹ Ayesha Naseem

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی عائشہ نسیم کو فروری سے آسڑیلیا میں شروع ہونے والے خواتین کے ٹی ٹوئنٹی کے عالمی مقابلوں میں پاکستان قومی ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق 15 سالہ عائشہ نسیم کو قومی ٹیم میں جارحانہ کھیل کی وجہ سے اوپننگ بلے باز کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ سے قبل انھوں نے کراچی میں قومی کیمپ میں تربیت حاصل کی۔

پاکستانکی قومی ٹیم اپنا پہلا میچ 26 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گی۔

’ہرفن مولا‘ ایتھلیٹ

کرکٹ بورڈ کے مطابق عائشہ نسیم خواتین کی قومی ٹیم میں منتخب ہونے والی سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں۔

عائشہ نسیم کو پاکستان کی قومی انڈر 16 فٹبال ٹیم کی بھوٹان اور منگولیا میں منعقدہ ٹورنامنٹ میں بحیثیت گول کیپرنمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

وہ کم عمری میں بین الصوبائی قومی ووشو مقابلوں کی 65 کلو گرام کیٹگری میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کرکٹ ہی میرا پہلا پیار ہے‘

’خواتین کرکٹ کا مستقبل نوجوان کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ہے‘

غلطیوں سے سبق سیکھ کر عمدہ کارکردگی کا عزم

عائشہ نسیم اتھلیٹکس کے پاکستان انٹر بورڈز مقابلوں میں ڈسک تھرو میں سونے، شاٹ پٹ میں چاندی اور جیولن تھرو میں کانسی کے تمغے اپنے نام کر چکی ہیں۔

جوڈو میں ہزارہ انٹر ڈسٹرکٹ انڈر 23 مقابلوں میں سونے کا تمغہ ان کے کریڈٹ کا حصہ ہے۔

’برادری کو میرا باہر نکل کر کھیلنا پسند نہیں تھا‘

عائشہ نسیم کے لیے کھیل کبھی بھی آسان نہیں رہا تھا۔ قدامت پسند معاشرے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کے راستے میں بڑی رکاوٹیں تھیں۔

مگر انھوں نے اپنے جنون کے راستے میں کسی بھی رکاوٹ کو حائل ہونے نہ دیا۔ انھوں نے سخت محنت سے اپنی منزل کو حاصل کیا ہے۔

کم عمری میں محنت اور جدوجہد کا ان کا سفر ان ہی کی زبانی سن لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tahir Awan

’میرا تعلق ضلع ایبٹ آباد میں گلیات کے علاقے باگن سے ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ میرا نمبر چوتھا ہے۔ میری پیدائش کراچی میں ہوئی جہاں پر میرے والد اپنی ملازمت کی وجہ سے مقیم تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے بھائی ان کے ساتھ کھیلایا کرتے تھے۔

’جب میں تھوڑی سی بڑی ہوئی تو بڑے بھائی احسان اللہ مجھے اپنے ساتھ باہر کرکٹ کھیلنے کے لیے لے جایا کرتے تھے۔ کراچی میں سب ٹھیک چل رہا تھا۔ مگر مجھے بچپن ہی میں اپنے والدین کے ہمراہ واپس ایبٹ آباد آنا پڑا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ: ’ایبٹ آباد واپس آئی تو بھائی اسی طرح مجھے باہر لے جاتے تھے۔ یہ ایبٹ آباد تھا جہاں پر ہماری برادری، محلے داروں کو میرا باہر نکل کر کھیلنا پسند نہیں تھا۔ مگر مجھے میرے والد محمد نسیم اور بھائی کی حمایت حاصل تھی۔ جس وجہ سے گلی محلوں میں کھیلنا جاری رہا تھا۔‘

انھوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایبٹ آباد کے ایک نجی سکول میں داخلہ لیا تھا۔

’وہاں کوئی سپورٹ یا سہولتیں نہیں تھیں۔ میں نے سنا کہ گورنمنٹ سکولوں میں اس کی اچھی سہولتیں ہیں جس وجہ سے میں نے گرلز ہائی سکول نمبر ون ایبٹ آباد میں داخلہ لے لیا تھا۔ جہاں پر کرکٹ نہیں تھی مگر دیگر کھیل موجود تھے۔‘

’سکول میں مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ کرکٹ کی خواتین کی کوئی قومی ٹیم بھی ہے۔ بس کرکٹ کا شوق تھا اب سکول میں کرکٹ نہیں تھی مگر والی بال اور ایتھلیٹس تھی۔ میں نے وہ ہی کھیلنا شروع کردی تھی۔

’سکول میں ہماری والی ٹیم کی کوچ سدرہ مصطفیٰ تھیں جو کہ کرکٹ بھی کھیلتی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک دن بات ہوئی تو انھوں نے کہا چلو دیکھتے ہیں۔ ایک دفعہ سکول میں وہ بیٹ بال لے آئیں اور کہا کہ آؤ کرکٹ کھیلو۔ میں نے ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی تو انھوں نے مجھے کہا کہ تم میں کرکٹ کا بہت ٹیلنٹ ہے۔ جس کے بعد ان کے ساتھ کرکٹ شروع کردی تھی۔‘

’سال 2015 میں سدرہ مصطفی نے بتایا کہ ایبٹ آباد ریجن کی خواتین ٹیم کے لیے ٹرائل ہورہے ہیں۔ میں ٹرائل دیا اور منتخب ہوگئی۔ میں نے اچھی کارگردگی بھی دکھائی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Tahir Awan

لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کردی

وہ بتاتی ہیں کہ: ’ایبٹ آباد ریجن کی طرف سے کھیلنے کا یہ فائدہ ہوا کہ مجھے یہ پتا چل گیا کہ ایبٹ آباد میں ایک اچھا کرکٹ سٹیڈیم بھی موجود ہے۔ بس پھر کیا تھا میں سکول سے آتی اور کرکٹ سٹیڈیم چلی جاتی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کرکٹ سٹیڈیم میں کوئی لڑکی نہیں ہوتی تھی، سب لڑکے ہی تھے۔ شروع کے دنوں میں تو کسی نے میرے ساتھ بات نہیں کی مگر کچھ دونوں بعد انھوں نے مجھے پریکٹس میں اپنے ساتھ شریک کرنا شروع کردیا تھا۔‘

’وہاں پر موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے کوچ اور عملے کے ساتھ میرا بہت تعاون کرتا تھا۔ جب انھوں نے میرا شوق اور جذبہ دیکھا تو میری مدد بھی شروع کردی۔ اب یہ ہوتا تھا کہ مجھے نیٹ پر سب سے پہلے پریکٹس کا موقع ملتا یا سب سے آخر میں۔ اس دوران وہ کوشش کرتے کہ مجھے زیادہ وقت ملے۔ شروع میں تو وہ مجھے بچوں کی طرح بولنگ کرواتے تھے مگر پھر اچھے سے بولنگ کروانا بھی شروع کردی تھی۔‘

عائشہ کہتی ہیں کہ کرکٹ سٹیڈیم میں تو ان کے لیے حالات اچھے ہوگئے مگر انھیں اپنے بھائی کے ہمراہ گلی محلے میں سب کے سامنے کھیلتے ہوئے نہیں بخشا جاتا تھا۔

’اب میرے گھر سے نکلنے اور واپس آنے کے وقت مجھے طعنے دیے جاتے، فقرے کسے جاتے تھے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تھی میں دن کے وقت گھر سے سٹیدیم جانے کے لیے نکلتی اور پھر شام کے اندھیرے کا انتظار کرتی تھی کہ واپس گھر جاتے ہوئے مجھے کم سے کم لوگ دیکھیں۔ ‘

انھوں نے بتایا کہ لوگوں کے فقرے سن کر انھیں بہت تکلیف ہوتی تھی لیکن مشکل کے ان حالات میں ان کے والد ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتے تھے اور حوصلہ بڑھاتے تھے۔

’اس وقت تک مجھے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ پاکستان کی خواتین کی قومی ٹیم بھی موجود ہے۔ اب میرا مقصد اپنی ملک کی نمائندگی کرنا تھا۔ جس کے لیے میں نے انتھک محنت شروع کردی تھی۔ کوئی تین گھنٹے، چار گھنٹے پریکٹس کرتا ہوگا۔ میں نے آٹھ آٹھ گھنٹے پریکٹس شروع کردی تھی۔ اپنی فٹنس پر بہت توجہ دیتی تھی۔ جب سٹیڈیم میں میچز ہوتے تو میں ایک باڈی بلڈنگ کلب چلی جاتی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ICC

کرکٹ جنون مگر فٹ بال بھی شروع کردی

عائشہ بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ سٹیڈیم میں لڑکیوں کے کوئی ٹرائل ہورہے تھے جس دوران وہاں پر فٹ بال فیڈریشن کے کچھ لوگ آئے انھوں نے کہا کہ ہمیں فٹ بال کی ٹیم کے لیے ٹرائل کرنا ہیں۔

اس ٹرائل میں عائشہ کو بتایا گیا کہ ان میں کافی صلاحیت ہے اور وہ بہترین گول کیپر بن سکتی ہیں۔

’مجھے وہاں پر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد انڈر 16 پاکستان وومن ٹیم کے لیے ایک فٹ بال کا تربیتی کیمپ ہوا جس میں مجھے گول کیپنگ کی تربیت دی گئی۔ انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے لیے بیرونی ممالک کے دورے بھی کیے۔ مگر کرکٹ جاری رہا کیونکہ کرکٹ میرا جنون تھا۔‘

اس دوران سال 2016 میں انڈرر 16 کرکٹ ٹیم کے لیے ٹرائل ہوئے۔ جن میں وہ منتخب ہوئیں، کیمپ گئیں اور زخمی ہو کر واپس آئیں جس پر انھیں افسوس تھا کہ سنہرا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔

مگر ہر کام میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس کیمپ میں میری ملاقات پشاور کی خاتون ایمپائر اور کوچ حاجرہ سرور سے ہوئی۔ انھوں نے کیمپ سے واپس آنے پر بھی میرے ساتھ رابطہ رکھا، مجھے پشاور بلایا، سمجھایا کہ زخمی ہونا، باہر ہونا کھلاڑی کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ مجھے بیٹنگ کی کچھ بنیادی تربیت بھی فراہم کی۔ جس کے بعد جب میں صحت مند ہوئی تو دوبارہ پورے جوش و خروش سے کرکٹ شروع کردی تھی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ فٹ بال بھی کھیلتی رہی تھی۔‘

’ثنا میر نے مجھے پہلی مکمل کرکٹ کٹ تحفہ بھی دی‘

’2017 اور 2018 میں میری رسائی ڈیپارٹمنٹ کرکٹ اور قومی کرکٹ تک ہوچکی تھی۔ مجھے کرکٹ کے حلقوں میں جاننا پہچانا لگ گیا تھا۔ اس سے پہلے خواتین کرکٹ میں صرف کراچی اور لاہور کی لڑکیاں تھیں۔اس کے علاوہ کوئٹہ کی ہماری بہت ہی سینیئر کھلاڑی ناہیدہ بی بی اور ایبٹ آباد سے قومی ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption بنگلہ دیش کے خلاف ورلڈ کپ کے پریکٹس میچ میں عائشہ نسیم آؤٹ ہو کر واپس جا رہی ہیں

’مجھے کہا جانے لگا کہ دیکھو ایبٹ آباد میں تمھارے لیے مسائل ہیں۔ اس لیے ایبٹ آباد کو چھوڑ کر کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں سیٹل ہوجاؤ، لوگوں کی چخ چخ سے جان چھوٹ جائے گئی، مگر میری ایک ضد بن گئی تھی۔‘

’اتنے طعنے برداشتت کرنے کے بعد میں یہ طے کرچکی تھی کہ میں ایبٹ آباد ہی میں رہ کر قومی ٹیم میں جاؤں گئیں۔ اس کے بعد اگر ضرورت کے مطابق کسی شہر منتقل ہونا پڑا تو ہو جاؤں گی۔‘

ان ہی حالات کے دوران ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کا سیزن شروع ہوا۔ انھوں نے پی سی بی الیون کی جانب سے ٹرائل دیا اور منتخب ہوگئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ثنا میر زرعی بینک کی کپتان اور بہت سینیئر کھلاڑی ہیں۔ میں نے اس ٹورنامنٹ میں کارگردگی دکھائی تو کسی نے ثنا میر کو بھی بتایا۔ اس نے ٹورنامنٹ کے دوران مجھ سے خصوصی طو رپر ملاقات کی۔‘

’مجھے بہت سراہا، اسی ٹورنامنٹ کے دوران میرا ان سے تعلق بن گیا۔ وہ گذشتہ سال رمضان میں ایبٹ آباد آئیں تھیں۔ مجھے خصوصی طورپر اپنے گھر بلایا۔ اپنے حالات ان کو بتا چکی تھی۔ موقع پر وہ میرے لیے اپنے ساتھ کرکٹ کی بہترین بین الاقوامی معیار کی کٹ ساتھ لائی تھیں۔ یہ میری زندگی کی پہلی مکمل کٹ تھی، ورنہ بیٹ ہوتا تو ذاتی گلوز دستیاب نہیں ہوتے تھے۔‘

’انھوں نے مجھے سمجھایا، حوصلہ افزئی کی، کچھ کرکٹ کے گر سکھائے۔ وہ میرے لیے رول ماڈل تھیں۔ اس دوران مجھے قومی ٹیم کے ہمراہ سری لنکا کا دورہ کرنے کا موقع ملا مگر میرا بین الاقوامی کیرئیر شروع نہ ہوسکا۔ اب مجھے امید ہے کہ میرے بین الاقوامی کریئر کا آغاز ورلڈ کپ سے ہوگا۔‘

’خواتین کے ٹی ٹوٹنی ورلڈ کپ کے لیے جب خواتین کی ٹیم منتخب ہونا تھی تو اس کے لیے ٹرائی اینگلور سیریز رکھی گئی۔ تینوں ٹیموں کے لیئے ٹرائل ہوئے۔ میں نے لاہور چیلنجر کی طرف سے ٹرائل دیا، منخب ہوگئی۔ پھر لاہور چیلنجر کے تربیتی کیمپ میں شریک رہی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ICC

’اس ٹرائی اینگلور سیریز کی بنیاد پر قومی ٹیم منتخب ہوئی۔ اس میں میرا نام بھی تھا، مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں منتخب ہوچکی ہوں کیونکہ میرے پاس کوئی سفارش نہیں تھی۔‘

’مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں اپنی منزل کے بہت قریب پہنچ چکی ہیں۔ مگر منزل تک پہچنے کے لیے مجھے ابھی بہت محنت کرنا ہے۔ جس کے لیے میں ذھنی اور جسمانی طو رپر تیار ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میں اپنے آئیڈیل کھلاڑیوں وراٹ کوہلی، بابر اعظم اور عابد علی کی طرح کارگردگی دکھا سکوں گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب لوگوں کو پتا چلا کہ میں قومی ٹیم میں منتخب ہوگئی ہوں تو یقین کریں کہ وہ لوگ جو مجھے طعنے دیتے تھے وہ لوگ سب سے پہلے مبارک باد دینے پہنچ گئے، ان کے فون آئے۔ وہ مائیں جو باتیں بناتی تھیں مجھ سے اپنے بیٹیوں اور بیٹیوں کی ملازمتوں وغیرہ کے لیے سفارشیں کرنے کا کہتی ہیں۔‘

اسی بارے میں