PSL2020: ’جہاں سیمی کا دماغ نہیں بھی چلتا۔۔۔‘

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
سیمی

،تصویر کا ذریعہTwitter/PCB

،تصویر کا کیپشن

صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی 23 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں ڈیرن سیمی کو یہ ایوارڈ دیں گے

تبدیلی کا عمل کبھی آسان نہیں ہوتا۔ لگے بندھے معیارات کو ترک کرنا ہی بہت دشوار ہوتا ہے، اس پر اگر ساتھ ہی نیا کردار اپنا کر نئے معیارات کے تحت چلنا پڑ جائے تو دشواری سوا ہو جاتی ہے۔

ہالی وڈ کی لیجنڈری فلم ’آئرش مین‘ میں جب یونین لیڈر جمی ہوفا جیل سے پلٹتا ہے تو یہ حقیقت تسلیم ہی نہیں کر پاتا کہ اب یونین اس کی نہیں رہی، اب کوئی اور چیئرمین ہے۔

جب رسل اسے قائل کرنے کی کوشش میں کہتا ہے کہ ’تم اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر بھی یونین چلا سکتے ہو۔‘ تو جواباً جمی بہت غور طلب بات کہتا ہے ’آپ یونین چلانے کے لیے مستعفی نہیں ہوتے، آپ صرف قبر میں جانے کے لیے مستعفی ہوتے ہیں۔‘

ڈیرن سیمی پشاور زلمی کی قیادت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ اب وہ کپتان نہیں رہے۔ پشاور زلمی کے سابق ہیڈ کوچ محمد اکرم کے بقول وہ ٹیم چلانے کے لیے ہی مستعفی ہوئے ہیں لیکن اب کپتان کے بجائے کوچ کے طور پر وہ ٹیم چلاتے نظر آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کسی بھی کھلاڑی کو اچانک میدان چھوڑ کر کسی اور کردار میں ٹیم سے وابستہ ہونے کو کہا جائے تو یقیناً اس کے جذبات وہی ہوتے ہیں جو کسی ڈھلتی عمر کی ہیروئن کے اچانک ماں کا کردار ملنے پر ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلی کبھی بھی آسان نہیں ہوتی۔

پچھلے سال اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ نے اپنے سابق کپتان مصباح الحق سے کہا کہ وہ پلئینگ الیون کی بجائے کوچنگ الیون کا حصہ بنیں تو عموماً نیم مزاج رہنے والے مصباح نے بھی اس بات پہ خوب ردِعمل دیا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ یونس خان کے توسط سے مصباح زلمی کے سکواڈ کا حصہ بن گئے مگر کوچنگ کو ترجیح نہ دی۔

،تصویر کا ذریعہPSL

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ڈیرن سیمی کی پاکستان کرکٹ کے لیے بے شمار خدمات ہیں۔ سب سے پہلے وہی اپنے سکواڈ کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان لے کر آئے تھے اور ان کے ’فیڈ بیک‘ نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

پشاور زلمی کے لیے دوسرے سیزن سے اب تک لگاتار وہی کپتان رہے ہیں۔ ڈرافٹ سے پہلے بھی چہ میگوئیاں زور پکڑ رہی تھیں کہ سیمی کی سن رسیدگی اور فٹنس کے مسائل کے سبب بدلاؤ متوقع ہے مگر زلمی کی مینیجمنٹ نے انھیں ہی کپتان برقرار رکھا۔

سیزن کے عین بیچ میں اس طرح کا فیصلہ کسی بھی ٹیم کے چانسز کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کھلاڑیوں میں بداعتمادی بڑھنے کا خدشہ اپنی جگہ، نئے کپتان کے لیے بھی کسی تیاری کی مہلت باقی نہیں رہتی۔

اگرچہ سیمی نے یہ فیصلہ ’مشکل'‘سے کیا ہے مگر پنجابی کی ضرب المثل کے مصداق اب یہ گلے پڑا ڈھول بجانا تو پڑے گا۔ کل رات کی زلمی کی پرفارمنس کے تناظر میں تو کہا بھی جا سکتا ہے کہ سیمی یہ ڈھول بخوبی بجا رہے ہیں۔

میدان کے اندر ہی نہیں، باہر بھی ڈیرن سیمی ایک دلچسپ کردار ہیں۔ کھیل کو کھیل ہی سمجھتے ہیں، جنگ نہیں بناتے۔ ان کے مزاج کو ٹی ٹونٹی کرکٹ بخوبی راس ہے۔ اپنی قیادت میں دو ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔

پشاور زلمی کو بھی اپنی قیادت میں وہ چیمپئین بنوا چکے ہیں۔ سیمی کے لیے بھلے کڑوا گھونٹ سہی مگر زلمی کی مینیجمنٹ نے یہ بہت بھلا فیصلہ کیا کہ بجائے فٹنس ایشوز پہ انہیں بقیہ سیزن بینچ پہ بٹھاتے، مینیجمنٹ کا اہم ترین کردار ان کے حوالے کر دیا ہے۔

وہاب ریاض کیسے کپتان ثابت ہوتے ہیں، یہ تو ہمیں سیزن کے اختتام تک ہی جا کر معلوم ہو گا مگر یہ ہم ابھی بھی وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ڈیرن سیمی چند عظیم ترین دماغوں میں سے ایک ہیں۔ منحصر صرف اس پر ہے کہ سابق ہیڈ کوچ محمد اکرم اس دماغ کو کتنا چلنے دیں گے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ اگر محمد اکرم پریس کانفرنس میں کہی گئی باتوں کی طرح واقعی سیمی کو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے ہیں تو سیمی کا دماغ خوب چلے گا اور یہ قدرتی بات ہے کہ جہاں سیمی کا دماغ نہیں بھی چلتا، وہاں ان کی قسمت خوب چل جاتی ہے۔ پچھلے ورلڈ ٹی ٹونٹی کا فائنل ہی دیکھ لیجے۔