پاکستان کی پہلی ویمن رگبی ٹیم کی کپتان شازیہ شبیر: ’رگبی نے تو میری زندگی بدل دی‘

  • شمائلہ جعفری
  • بی بی سی نیوز، لودھراں
رگبی

فروری کی ایک سرد صبح جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں میں لڑکیوں کا ایک گروپ دائرے میں اپنے کوچ حسن شاہ کے اردگرد کھڑا ہے۔ سب ہی لڑکیاں انتہائی چوکس ہیں اور عقاب کی طرح نظریں کوچ کے ایکشن پر جمائے ہیں۔

’ریڈی ریڈی ریڈی، اب ہم ہائی نی کریں گے‘ حسن شاہ چلائے اور باری باری پیر اوپر اٹھا کر ورزش کرنے لگے۔ لڑکیاں تیزی سے یہ عمل دہرانے لگیں۔

حسن شاہ کے ہاتھ میں فٹبال نما بیضوی بال تھا۔ تھوڑی دیر بعد انھیں نے اس گیند کو ایک لڑکی کی طرف اچھال دیا۔ دوسری لڑکی نے آواز لگائی ’مائی بال‘ تو بال اس کی طرف اچھال دیا گیا اور پھر یہ سلسلہ کچھ دیر ایسے ہی چلتا رہا۔

لودھراں کی یہ لڑکیاں مختلف محکموں کی ٹیموں کے لیے رگبی کھیلتی ہیں۔

حسن شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں رگبی کی پہلی ویمن ٹیم سنہ 2013 میں بنائی گئی جس میں جنوبی پنجاب کی لڑکیاں بڑی تعداد میں شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

’رلا دیتی ہوں اب روتی نہیں ہوں‘

رگبی کی پریکٹیس کرنے والی لڑکیوں میں ایک شازیہ شبیر ہیں جنھیں پاکستان کی پہلی ویمن رگبی ٹیم کی کپتان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

،تصویر کا کیپشن

شازیہ کہتی ہیں کہ شروع میں تو ان کے پاس پریکٹس کے لیے آنے کا کرایہ بھی نہیں ہوتا تھا

شازیہ جب سٹیڈیم پہنچی تو دوسری لڑکیوں کی طرح سر سے پاوں تک برقعے میں تھیں۔ پریکٹس شروع کرنے سے پہلے انھوں نے کپڑے تبدیل کیے۔ پاکستان کی جھنڈے کے رنگ کی ٹی شرٹ اور کالی شارٹس پہنیں۔ جب شازیہ باہر نکلیں تو وہ ایک اور ہی فرد لگ رہی تھیں۔

’میں اگر رگبی نہ کھیلتی تو میں ویسے ہی رہتی بار بار رونے والی لیکن اب تو میں رلا دیتی ہوں روتی نہیں ہوں۔‘

شازیہ مسلسل مسکرا رہیں تھیں اور اپنی ساتھیوں کے ساتھ شرارتوں میں مصروف تھیں۔ شازیہ شبیر پاکستان کی پہلی ویمن رگبی ٹیم کی کپتان رہی ہیں۔

وہ بچپن سے سپورٹس کا شوق رکھتی تھیں۔ تائیکوانڈو کی کھلاڑی تھیں۔ ایک دن سکول میں ملاقات حسن شاہ سے ہوئی جو کہ ان دنوں ویمن رگبی ٹیم بنانے کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں جا کر لڑکیوں کے ٹرائلز کررہے تھے۔ شازیہ کہتی ہیں کہ انھوں نے بنا سوچے سمجھے ٹرائلزمیں حصہ لیا۔

’ہماری گیم میں ہوتا ہے پش اور ٹیکل۔ جسں میں دوسرے کو دھکا دے کر نیچے گرانا ہوتا ہے۔ میں گراونڈ میں گئی کھلے سانڈ کی طرح اور دوسری لڑکی کو اٹھا کر آسانی سے نیچے گرا دیا۔ میرے کوچ نے تالیاں بجانی شروع کردیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

شازیہ شبیر کہتی ہیں کہ میٹرک کے بعد تو ان کے گھر کے حالات اتنے خراب تھے کہ انھیں دو سال کے لیے پڑھائی بھی چھوڑنا پڑی

لودھراں سے انٹرنیشنل رگبی کا سفر

شازیہ کہتی ہیں کہ شروع میں تو ان کے پاس پریکٹس کے لیے آنے کا کرایہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ان کے والد کسان ہیں اور میٹرک کے بعد تو ان کے گھر کے حالات اتنے خراب تھے کہ انھیں دو سال کے لیے پڑھائی بھی چھوڑنا پڑی۔ لیکن ان کے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان رگبی یونین نے ان کی کئی طرح سے مدد کی۔

’پاکستان رگبی یونین نے مجھے کوچ کی نوکری دی۔ یہ لوگ اس وقت لڑکیوں میں رگبی کو پھیلانا چاہ رہے تھے لیکن تمام کوچ مرد تھے تو انھیں لڑکیوں کو گیم میں لانے میں دقت ہورہی تھی۔‘

’مجھے ٹریننگ دی گئی اور خرچہ بھی ملتا رہا۔ اس مدد نے مجھے اس قابل کیا کہ میں نے پڑھائی دوبارہ سے شروع کر لی اور اب میں فزیکل ایجوکیشن میں ماسٹرز کررہی ہوں۔‘

شازیہ کہتی ہیں کہ انھیں رگبی نے بہت اعتماد دیا۔ خاص طور پر برطانیہ کی ٹیم کی ساتھ فرینڈلی میچ کے بعد تو انھیں احساس ہوا کہ پاکستان کی رگبی کھلاڑی اتنی بھی بری نہیں۔

’جب ہم نے اسلام آباد میں برطانیہ کی ٹیم کے ساتھ فرینڈلی میچ کھیلا تو ہم بہت نروس تھیں لیکن میچ کھیل کر احساس ہوا کہ ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں۔‘

’گیٹ ان ٹو رگبی‘

شازیہ کہتی ہیں کہ انھوں نے کوچ کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب کے بہت سے سکولوں میں فن سیشنز کیے جن کا مقصد طالبات کا رگبی سے تعارف کروانا تھا۔

’گیٹ انٹو رگبی‘ پروگرام کے تحت کیے گئے ان سیشنز کے دوران کئی اچھی پلیئرز سامنے آئیں جبکہ پی ٹی ٹیچرز کو کوچنگ اور ریفرنگ کی تربیت دی گئی۔ اس پروگرام نے ملک میں خواتین کی تقریبا درجن بھر ٹیموں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

’گیم چلتی رہے‘

کوچ حسن شاہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو رگبی میں لانے کے لیے پاکستان رگبی یونین کو بڑی جدوجہد کرنا پڑی۔ والدین سے اجازت لینا بہت مشکل تھا۔

’کئی بار تو میں ذاتی طور پر جا کر والدین کو یہ سمجھانے کی کوششں کرتا تھا کہ ان کی بچی میں ٹیلنٹ ہے اسے اجازت دے دی جائے اور کئی بار تو والدین نے میرا شناختی کارڈ تک اپنے پاس رکھ لیا۔‘

پاکستان رگبی یونین نے شازیہ کے علاوہ بھی کئی طالبات کو پرموٹ کیا۔ جو اب مختلف محکموں کے لیے کھیل رہی ہیں۔ معاشی فائدے کی وجہ سے کئی لڑکیوں کے لیے اس کھیل میں جانے کی اجازت لینا آسان ہو گیا ہے۔

حسن شاہ کہتے ہیں ’جنوبی پنجاب میں بہت سے لوگ مالی طور پر مضبوط نہیں ہیں، تو ہم نے کوشیشں کی کہ اچھی پلیئرز کو مختلف محکموں کے ساتھ منسلک کروا دیں تاکہ گھر والوں کی طرف سے دباو بھی کم رہے اور گیم بھی چلتی رہے۔‘

بارش کا پہلا قطرہ

شازیہ شبیر کہتی ہیں کہ شروع شروع میں تو رشتے دار باتیں بناتے تھے کہ شبیر کی بیٹی پتہ نہیں کیا کھیل کھیلے گی لیکن ان کے والدین نے باتوں کی پرواہ نہیں اور انھیں اپنا شوق پورا کرنے کی اجازت دی۔

شازیہ کہتی ہیں ’میرے ددھیال میں تو بچیاں پڑھتی بھی نہیں تھیں اور اب مجھے دیکھ کر انھوں نے نہ صرف اپنی بیٹیاں پڑھانی شروع کیں بلکہ ایک دو نے تو میچ بھی کھیلا ہے۔‘

’رگبی نے تو میری زندگی بدل دی۔‘