PSL: پاکستان سپر لیگ میں پاکستانی ٹیم کے بیٹسمین کتنے کامیاب؟

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہPSL

پاکستان سپر لیگ فائیو کے پانچ سب سے کامیاب بلے بازوں میں صرف دو پاکستانی ہیں: کامران اکمل اور شاداب خان۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں جبکہ شاداب خان کی پہچان ان کی بیٹنگ نہیں بلکہ بولنگ ہے۔

تو پھر وہ بیٹسمین جو اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں؟ کیا انھیں پی ایس ایل میں کامیابی ملی ہے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنی آخری تین ٹی ٹوئنٹی سیریز سری لنکا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے خلاف کھیلی ہیں۔ ان تینوں سیریز میں کھیلنے والے پاکستانی بیٹسمین کی انٹرنیشنل کرکٹ اور پی ایس ایل میں کارکردگی کا جائزہ لیں تو صورتحال تھوڑی مایوس کن نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPCB

دنیا کے نمبر ایک بیٹسمین کی کارکردگی

بابراعظم اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔

حالانکہ وہ سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے تاہم آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں انھوں نے دو نصف سنچریاں بنائی تھیں جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف وہ صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

بابراعظم نے پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی طرف سے پشاور زلمی کے خلاف 78 اور 70 رنز کی دو قابل ذکر اننگز کھیلی ہیں لیکن دیگر میچوں میں وہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔

دیگر بیٹسمین کیا کر رہے ہیں؟

شعیب ملک اور محمد حفیظ کی بنگلہ دیش کے خلاف سیریز سے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوئی تھی اور دونوں نے اس سیریز میں ایک، ایک نصف سنچری اسکور کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPSL

پی ایس ایل میں شعیب ملک اب تک دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ محمد حفیظ نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ناقابل شکست 98 رنز بنائے لیکن اس کے بعد اگلے تین میچوں میں وہ بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف چھوٹے ہدف کے تعاقب میں وہ 39 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے لیکن کراچی کنگز کے خلاف وہ 24 گیندوں پر صرف 16 رنز بنا سکے۔

امام الحق آسٹریلیا کے خلاف 14 رنز کی مایوس اننگز کے بعد ٹیم سے باہر ہیں۔ اس پی ایس ایل میں دو میچوں میں وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔

فخر زمان ایسا لگتا ہے کہ اب بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔ سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف چار ناکام اننگز کے بعد اس پی ایس ایل میں بھی وہ ایک بھی قابل ذکر اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوپائے ہیں۔ چھ اننگزمیں ان کا سب سے بہترین اسکور صرف 33 رنز ہے۔

،تصویر کا ذریعہPSL/Lahore Qalanders

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

افتخار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں 62 ناٹ آؤٹ اور 45 رنز کی دو اچھی اننگز کھیلی تھیں لیکن اس پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی طرف سے کھیلتے ہوئے چھ اننگز میں ان کا بیٹ خاموش رہا ہے اور وہ مجموعی طور پر صرف 57 رنز بناسکے ہیں۔

خوشدل شاہ کو آسٹریلیا کے دورے میں ٹی ٹوئنٹی کیپ دی گئی تھی لیکن اس پی ایس ایل میں ان کی طرف سے 43 رنز ناٹ آؤٹ کی صرف ایک اچھی اننگز دیکھنے میں آئی ہے۔

آصف علی اس لحاظ سے خوش قسمت کرکٹر ہیں کہ انھیں حالیہ برسوں میں تواتر سے مواقع ملتے رہے ہیں لیکن وہ اس لحاظ سے بدقسمت ہیں کہ ابھی تک وہ ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں میں ناکام رہنے کے بعد پی ایس ایل میں بھی وہ بجھے بجھے سے ہیں۔ ابتک چھ اننگز میں صرف 20 رنز ان کا سب سے بڑا اسکور رہا ہے۔

احسان علی نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے ٹی ٹوئنٹی کریئر کا آغاز 36 رنز کے ساتھ کیا لیکن اگلے ہی میچ میں صفر پر آؤٹ ہوئے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے انھیں دو بار بیٹنگ کا موقع ملا ہے لیکن دونوں بار وہ ناکام ثابت ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPCB

سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ وکٹ کیپر محمد رضوان پاکستانی ٹیم میں سرفراز احمد کی جگہ شامل کیے گئے ہیں لیکن پی ایس ایل میں ان کی جگہ کراچی کنگز کی ٹیم میں نہیں بن رہی ہے اور انہیں صرف ایک میچ میں کھلانے کے بعد بنچ پر بٹھادیا گیا ہے اور ان کی جگہ والٹن کو موقع دیا گیا ہے۔

محمد رضوان کی پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں بھی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔ آسٹریلیا کےخلاف پہلے میچ میں 31 رنز بنانے کے بعد 14، صفر اور پانچ ناٹ آؤٹ کے معمولی اسکور کسی طور بھی ان کی سلیکشن کو درست ثابت نہیں کرتے۔

پاکستانی بیٹسمینوں کی یہ کارکردگی اس لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز اور پھر ایشیا کپ کھیلنا ہے لیکن سب سے بڑا چیلنج ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہوگا۔

کیا پی ایس ایل میں کرکٹرز کی اتارچڑھاؤ والی کارکردگی کی بنیاد پر ایک متوازن ٹیم تشکیل پاسکے گی؟