پاکستان کی کرکٹ کے ’متنازع‘ کھلاڑیوں میں کون کون شامل؟

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
شعیب اختر، عمر اکمل، محمد آصف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ ضروری نہیں ہے کہ ٹیلنٹ صرف موقع نہ ملنے اور نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے ہی ضائع ہوجائے۔ کئی بار ٹیلنٹ خود اپنے ہاتھوں بھی تباہ ہوتا ہے۔

ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ کھلاڑیوں نے اپنے کریئر کو مشکل میں ڈالنے کا سامان خود پیدا کیا حالانکہ ان کے باصلاحیت ہونے کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں تھا۔

سعید احمد

سعید احمد کو پاکستان کا پہلا متنازع ٹیسٹ کرکٹر کہا جا سکتا ہے۔ سعید احمد نے ایک سٹائلش بیٹسمین سے تبلیغی جماعت کے رکن تک کئی روپ بدلے لیکن وہ اپنے کھیل سے کہیں زیادہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں۔

سعید احمد نے سنہ 1957 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنے کریئر کی ابتدا کی تھی۔ یہ سیریز حنیف محمد اور سرگیری سوبرز کی ٹرپل سنچریوں کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہے لیکن سعید احمد نے اس سیریز کو ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے بنائے گئے 508 رنز کی وجہ سے یادگار بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سعید احمد نے سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے پاکستانی بیٹسمین ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

یہ وہ دور تھا جب سعید احمد کو حنیف محمد کے بعد سب سے قابل اعتماد بیٹسمین قرار دیا جارہا تھا لیکن آف فیلڈ سرگرمیوں، کپتانوں اور کرکٹ بورڈ سے متعدد مواقعوں پر اختلافات نے ان کے کیریئر کو بری طرح متاثر کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سعید احمد نے سنہ 1957 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنے کریئر کی ابتدا کی تھی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سنہ 1964 کے دورہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے موقع پر وہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ ٹیم کے منیجر میاں محمد سعید نے انھیں وطن واپس بھیجنے کی پوری تیاری کر لی تھی لیکن ایک وزیر کی مداخلت پر وہ اپنے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کر سکے۔

سنہ 1968 کی سیریز کے دوران انھوں نے حنیف محمد کے ساتھ مبینہ طور پر تصویر کھنچوانے سے انکار کر دیا۔ یہ معاملہ اس قدر بڑھا کہ انھیں میڈیا کو باقاعدہ معافی نامہ جاری کرنا پڑا۔

سعید احمد نے تین ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی لیکن جب انھیں ہٹا کر انتخاب عالم کو کپتان مقرر کیا گیا تو وہ اس فیصلے سے اس قدر خفا ہوئے کہ سلیکشن کمیٹی سے الجھ پڑے جس کے سربراہ عبدالحفیظ کاردار تھے۔

ان پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی گئی جو بعد میں معافی مانگنے پر اٹھالی گئی۔

سنہ 1971 کے دورہ انگلینڈ کے موقع پر وہ اچانک ٹیم کو چھوڑ کر دوسرے شہر جا پہنچے، اس وقت وہ پاکستانی ٹیم کے سب سے سینئر ممبر تھے۔

سعید احمد کے کیریئر کا اختتام سنہ 1972 کے دورہ آسٹریلیا میں اس وقت ہوا جب ٹیم منیجمنٹ نے ان سے اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کردیا اور جواز پیش کیا کہ وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں لیکن بعد میں اطلاعات آئیں کہ وہ مبینہ طور پر نائٹ کلب میں پائے گئے تھے جس پر ٹیم منیجمنٹ نے انھیں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر عبدالحفیظ کاردار بھی اس وقت آسٹریلیا میں ہی تھے۔ سعید احمد نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔

ٹیم انھیں آسٹریلیا چھوڑ کر نیوزی لینڈ روانہ ہو گئی اور سعید احمد اس وقت کے ایک وفاقی وزیر سے دوستی کی وجہ سے پاکستان پہنچ پائے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دوستی کی وجہ سے ان پر عائد پابندی بھی اٹھا لی گئی جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے لگائی تھی۔

سابق کپتان انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ سعید احمد ایک مشکل شخص تھے جو بہت جلدی جذباتی ہو جاتے تھے اورغصے میں آجاتے تھے۔

یونس احمد

یونس احمد کا کیریئر بھی اپنے بڑے بھائی سعید احمد کی طرح متنازع واقعات کی وجہ سے متاثر رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یونس احمد کا کریئر بھی اپنے بڑے بھائی سعید احمد کی طرح متنازع واقعات کی وجہ سے متاثر رہا

انھوں نے سنہ 1969 میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا لیکن دو ٹیسٹ کھیلنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کی واپسی سنہ 1987 کے انڈین دورے میں جاوید میانداد کے کہنے پر ہوئی لیکن اس دورے کے اختتام پر یونس احمد نے کپتان عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کر دیے۔

یونس احمد اس واقعے کے علاوہ بھی کئی دیگر واقعات کی وجہ سے متنازع رہے۔ انھوں نے اپنی ہی کاؤنٹی وورسٹرشائر کی شکست پر سو پاؤنڈ کی شرط لگائی جس پر کاؤنٹی نے انھیں برطرف کردیا۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی لیکن فیصلہ ان کے خلاف ہوا۔

یونس احمد اس وقت مشکل میں گرفتار ہوئے جب ان پر مبینہ طور پر بوگس کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ہوٹل کے بل کی ادائیگی کا الزام سامنے آیا جس پر کارڈیف کی عدالت نے ان پر ساڑھے سات سو پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کر دیا۔

قاسم عمر

قاسم عمر ایک نڈر بیٹسمین کے طور پر انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تھے جس کا ثبوت انھوں نے سنہ 1984 میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں سنچری بنا کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قاسم عمر پر سات برس کی پابندی عائد کی تھی

انھوں نے انڈیا اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں دو ڈبل سنچریاں بھی بنائیں لیکن انھوں نے اپنے انٹرویو سے سب کو چونکا دیا جس میں انھوں نے نہ صرف خود جان بوجھ کر وکٹ گنوانے کا انکشاف کیا بلکہ کئی دوسرے کرکٹرز کے بارے میں بھی الزامات عائد کیے کہ وہ نہ صرف میچ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہیں بلکہ اپنے کرکٹ بیگ اور بیٹنگ گلووز میں منشیات سمگل بھی کرتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قاسم عمر پر سات سال کی پابندی عائد کر دی تھی جس پر قاسم عمر کا کہنا تھا کہ بورڈ نے یہ قدم کپتان عمران خان کو خوش کرنے کے لیے اٹھایا ہے اور ان کا مؤقف سننے کی زحمت ہی نہیں کی گئی۔ یہ پابندی تین سال کی تاخیر سے سنہ 1995 میں اٹھائی گئی تھی۔

سرفراز نواز

سرفراز نواز سوئنگ بولنگ کے فن کے ُگرو تھے۔ یہ فن انھوں نے عمران خان اور دوسرے بولرز کو بھی سکھایا لیکن اپنے پورے کریئر میں وہ متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور رہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ ان بیانات کی وجہ سے ان پر سب سے زیادہ ہتک عزت کے دعوے عدالتوں میں دائر کیے گئے تو غلط نہ ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سرفراز نواز نے متعدد بار مختلف سابق ٹیسٹ کرکٹرز پر میچ فکسنگ اور کرکٹ بورڈ پر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے لیکن وہ کسی بھی مرحلے پر ثبوت پیش نہ کر سکے اور انھیں عدالتی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے۔

سرفراز نواز کپتانوں اور کرکٹ بورڈ کے لیے بھی متعدد بار مسائل کا سبب بنے۔ سنہ 1977 میں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے دوران کرکٹ بورڈ سے اختلافات کے نتیجے میں وہ سیریز چھوڑ کر انگلینڈ چلے گئے تھے۔

شعیب اختر

شعیب اختر اپنے دور میں دنیا کے تیز ترین فاسٹ بولر کے طور پر سامنے آئے لیکن اپنے پورے کریئر میں وہ فٹنس مسائل کے ساتھ ساتھ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے۔

سنہ 2003 میں سری لنکا میں کھیلی گئی سہ فریقی سیریز کے دوران بال ٹمپرنگ کرنے کی پاداش میں ان پر پابندی عائد کی گئی۔

سنہ 2006 میں شعیب اختر اور محمد آصف مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے چیمپینز ٹرافی کی ٹیم سے دستبردار ہوئے اور ان پر پابندی عائد کی گئی۔ جب ان دونوں پر عائد پابندی اٹھائی گئی تو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شعیب اختر اپنے دور میں دنیا کے تیز ترین فاسٹ بولر کے طور پر سامنے آئے لیکن اپنے پورے کریئر میں وہ فٹنس مسائل اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے

یہ دونوں فاسٹ بولر سنہ 2007 کے عالمی کپ کے لیے ٹیم کی روانگی کے عین موقع پر بھی ٹیم سے دستبردار کرائے گئے جس کی وجہ ان کے ڈوپنگ میں ملوث ہونے کا خدشہ تھا۔

شعیب اختر سنہ 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل محمد آصف کو ڈریسنگ روم میں بلا مارنے کے واقعے میں ملوث ہونے پر وطن واپس بھیجے گئے۔

شعیب اختر کا سب سے بڑا تنازع سنہ 2008 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین نسیم اشرف کے ساتھ پیش آیا جب شعیب اختر نے نسیم اشرف پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے جس پر انھوں نے شعیب اختر کے خلاف لاہور کی عدالت میں ہرجانے کا دعوی دائر کردیا۔

دونوں کے درمیان یہ معاملہ وفاقی وزیر رحمان ملک نے اپنی رہائش گاہ پر طے کرایا۔

شعیب اختر مختلف نوعیت کے بیانات کی وجہ سے بھی شہ سرخیوں میں رہنے کا فن جانتے تھے۔ انھوں نے سچن تندولکر کے بارے میں بیان دیا کہ وہ سنہ 2011 کے ورلڈ کپ کے موقع پر پاکستانی بولرز سے خوفزدہ تھے۔

ثمینہ پیرزادہ کو انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے اپنے اردگر میچ فکسرز کو پایا۔ ان کے اردگر بائیس کھلاڑی تھے۔ گیارہ حریف ٹیم کے اور دس ان کی ٹیم کے لیکن معلوم نہیں تھا کہ ان میں کون میچ فکسر ہے؟

انھوں نے انڈین کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جب وہ کھیل رہے تھے تو انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کن کے ساتھ بھاگ رہے ہیں کون پاکستان کے لیے کھیل رہا ہے اور کون نہیں کھیل رہا ہے۔

گزشتہ سال ورلڈ کپ کے موقع پر ان کے افغانستان کے کرکٹرز کے بارے میں بیان کا بہت چرچا رہا کہ اگر ان کرکٹرز کے اصل شناختی کارڈ دیکھے جائیں تو ان کی جائے پیدائش پشاور پتا چلے گی کیونکہ یہ لوگ پناہ گزین کیمپوں میں تھے۔

محمد آصف

ایک بہترین سوئنگ بولر کے طور پر پہچانے جانے والے محمد آصف سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہو کر تاریک راہوں میں گم ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جون 2008 میں محمد آصف کو آئی پی ایل میں شرکت کے بعد انڈیا سے آتے ہوئے دبئی ایئرپورٹ پر بٹوے سے مبینہ طور پر افیون برآمد ہونے پر حراست میں لیا گیا

سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے پہلے بھی محمد آصف متعدد تنازعات میں ملوث پائے گئے۔ سنہ 2006 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر ممنوعہ قوت بخش دوا کے استعمال پر ایک سال کی پابندی عائد کردی۔

سنہ 2007 کے عالمی کپ کے لیے ٹیم کی روانگی سے قبل انھیں ساتھی فاسٹ بولر شعیب اختر کے ساتھ ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا۔ اگرچہ اس کی وجہ ان کی فٹنس بتائی گئی لیکن بتایا جاتا ہے کہ اصل سبب یہ خدشہ تھا کہ ورلڈ کپ کے دوران ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ سکتا ہے۔

جون 2008 میں محمد آصف کو آئی پی ایل میں شرکت کے بعد انڈیا سے آتے ہوئے دبئی ایئرپورٹ پر بٹوے سے مبینہ طور پر افیون برآمد ہونے پر حراست میں لیا گیا۔

ان پر مستقبل میں متحدہ عرب امارات میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اسی دوران آئی پی ایل میں کھیلتے ہوئے مثبت ڈوپ ٹیسٹ آنے کی وجہ سے انھیں ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

محمد آصف کو اداکارہ وینا ملک کی جانب سے بھی عدالتی چارہ جوئی کا سامنا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عمراکمل کے بارے میں برینڈن مک کلم اور وقاریونس کی منفی رپورٹس بھی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں

عمراکمل

عمر اکمل نے جب بین الاقوامی کرکٹ شروع کی تھی تو مبصرین اور ماہرین نے انھیں انتہائی باصلاحیت بیٹسمین قرار دیا تھا لیکن بیٹنگ کی کارکردگی سے زیادہ تنازعات کی فہرست ان کی فائل کو بھرتی چلی گئی ہے۔

اس فائل میں ٹریفک وارڈن سے جھگڑے کا ذکر بھی ہے اور ڈانس پارٹی کے دوران حراست میں لیا جانا بھی شامل ہے۔ تھیٹر کی انتظامیہ سے تلخ کلامی بھی ہے اور اپنی فٹنس کے معاملے میں عدم دلچسپی بھی جس کی وجہ سے انھیں انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

عمراکمل کے بارے میں برینڈن مک کلم اور وقاریونس کی منفی رپورٹس بھی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں اور تازہ ترین واقعہ مشکوک افراد سے رابطے اور ان کی پیشکشوں سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو لاعلم رکھنا شامل ہے۔