سابق کرکٹرز کا حکومت اور کرکٹ بورڈ سے میچ فکسنگ کے خلاف سخت قانون سازی کا مطالبہ

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
عمر اکمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے کرپشن میں ملوث ہونے کے متواتر واقعات کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹرز شعیب اختر اور رمیز راجہ نے میچ فکسنگ کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بارے میں جلد از جلد قانون سازی کی جائے تا کہ کرپٹ کھلاڑیوں کو ملکی قوانین کے تحت سخت سزائیں دی جاسکیں۔

شعیب اختر اور رمیز راجہ کا یہ ردعمل ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بیٹسمین عمراکمل پر مشکوک افراد کی جانب سے رابطے کی اطلاع کرکٹ بورڈ کو نہ دینے کی پاداش میں تین سال کی پابندی عائد کی ہے جبکہ دوسری جانب میچ فکسنگ میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سابق کپتان سلیم ملک کرکٹ میں واپسی کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے خلاف سخت قدم اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔

وہ ان لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں رہے ہیں کہ انھوں نے اس اہم معاملے پر اب تک کیا کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شعیب اختر نے سوال کیا کہ ’آخر پاکستان میں میچ فکسنگ کو ایک جرم قرار دیتے ہوئے اس بارے میں کوئی قانون کیوں نہیں بنایا گیا؟یہاں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس میں کرپٹ کرکٹر کو جیل بھیج دیا جائے اوراس کی جائیداد ضبط کر لی جائے۔ اس سے لوگوں میں خوف پیدا ہو گا اور وہ کوئی بھی غلط حرکت کرنے سے پہلے سوچیں گے۔‘

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ لوگ اب پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کرکٹ میں کرپشن کے سدباب کے لیے قانون سازی کرے اس سلسلے میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں جتنا جلد ممکن ہو سکے کرکٹ میں کرپشن سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے۔

شائقین کرپٹ کرکٹرز کی حمایت بالکل نہ کریں

شعیب اختر کی طرح سابق کپتان رمیز راجہ بھی میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کو مجرمانہ فعل قرار دے کر اس کے خلاف قانون بنانے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا پے کہ اس قانون کے ذریعے ملک کا وقار داغدار کرنے والے کرپٹ کرکٹرز کو سخت سزائیں دی جانی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حکومت کے ساتھ مل کر قانون سازی کرے تا کہ اگر اب کوئی بھی کرکٹر فکسنگ میں ملوث پایا جائے تو اسے ملکی قوانین کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جا سکے۔

رمیز راجہ نے عمر اکمل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی نئے کرکٹر نہیں ہیں وہ ایک عرصے سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے ہیں اورانھیں تمام باتوں کا اچھی طرح علم ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ٹیلنٹ کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگ عمر اکمل کو دی گئی تین سالہ پابندی کو سخت سمجھتے ہیں جبکہ مشکوک افراد اور بکیز کی جانب سے کیے گئے رابطوں کی رپورٹ نہ کرنا اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا میچ فکسنگ کرنا ہے۔‘

رمیز راجہ نے اپنے انٹرویو میں پاکستانی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایسے کرپٹ کرکٹرز کی ہرگز حمایت نہ کریں کیونکہ جب بھی پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوتی ہے تو یہ کرپٹ کھلاڑی اپنے شائقین کے ذریعے دباؤ ڈالنا شروع کردیتے ہیں اور ٹیم میں اپنی واپسی کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ شائقین کو اچھی طرح اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایسے کرکٹرز کی وجہ سے پاکستان کی کرکٹ بہت زیادہ نقصان اٹھا چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جون 2008 میں محمد آصف کو آئی پی ایل میں شرکت کے بعد انڈیا سے آتے ہوئے دبئی ایئرپورٹ پر بٹوے سے مبینہ طور پر افیون برآمد ہونے پر حراست میں لیا گیا

کرپٹ کرکٹرز کو ملک کی نمائندگی کا حق نہیں

سابق وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ کرکٹ کرپشن کے بارے میں ان کی سوچ بالکل واضح ہے کہ اگر کسی کرکٹر نے کرپشن میں اپنی سزا مکمل بھی کرلی ہے تب بھی اسے دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کا حق نہیں ملنا چاہیے۔

’ایسے کرکٹرز صرف فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں کیونکہ کرکٹ ان کا ذریعہ معاش ہے جسے چھینا نہیں جا سکتا۔‘

شعیب اختر کے خلاف قانونی کارروائی

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر اور قانون دان تفضل حیدر رضوی نے کہا ہے کہ سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے منگل کی شب ٹی وی شو میں ان کے بارے میں مبینہ طور پر نامناسب الفاظ استعمال کیے اور اسی طرح کے ریمارکس سوشل میڈیا پر بھی دیے تھے۔

اس کے ردعمل میں تفضل حیدر رضوی نے شعیب کو قانونی نوٹس بھیجا ہے اور ان کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت درخواست بھی دائر کر دی ہے۔

تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شعیب اختر 15 روز میں اپنا بیان واپس لیں، ان سے غیر مشروط معافی مانگیں اور دس کروڑ روپے ہرجانہ ادا کریں۔ ان کے مطابق وہ یہ رقم لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیکل سینٹر کو عطیہ کر دیں گے۔

تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر نے نہ صرف دو مختلف ٹی وی پروگراموں میں ان کے خلاف نامناسب گفتگو کی ہے بلکہ یہی بات اپنے یوٹیوب چینل پر بھی دوہرائی اور یہ تمام مواد فیس بک پراپنے صفحے پر بھی اپ لوڈ کیا۔