یونس خان دورۂ انگلینڈ کے لیے پاکستانی ٹیم کے نئے بیٹنگ کوچ، مشتاق احمد سپن بولنگ کوچ مقرر

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یونس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ دونوں کوچز کی تقرری کرتے ہوئے ان کی انگلینڈ میں غیرمعمولی کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز یونس خان کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کردیا ہے۔

اسی دورے کے لیے سپن بولنگ کوچ کے طور پر سابق لیگ سپنر مشتاق احمد کی تقرری بھی کی گئی ہے۔

پاکستانی ٹیم کو آئندہ ماہ انگلینڈ کا دورہ کرنا ہے جہاں اسے تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنی ہے تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ دورہ پاکستانی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایک طویل دورہ ہے جس میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ عام تعداد سے زیادہ کرکٹرز دورے پر بھیج سکتا ہے لہذا ہیڈ کوچ مصباح الحق اور فاسٹ بولنگ کوچ وقاریونس کو ضروری وسائل کی فراہمی میں مدد دینے اور بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے بیٹنگ اور سپن بولنگ کوچ کی تقرری کی گئی ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ دونوں کوچز کی تقرری کرتے ہوئے ان کی انگلینڈ میں غیرمعمولی کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اس فیصلے پر یونس خان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اپنے ملک کی نمائندگی سے زیادہ اعزاز کی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی اور انھیں خوشی ہے کہ انھیں ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ انگلینڈ کے مشکل دورے میں اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دے سکیں۔

یونس خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں۔ وہ مصباح الحق، وقاریونس اور مشتاق احمد کے ساتھ ملکر کوشش کریں گے کہ ان باصلاحیت کرکٹرز کو بہتر انداز میں مقابلے کے لیے تیار کرسکیں اور ان کی رہنمائی کر سکیں۔

یونس خان نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی معلومات اور تجربے کو دوسروں تک پہنچانے میں کبھی نہیں جھجھکے اور یہ خاص دورہ انھیں بھرپور موقع فراہم کرے گا کہ وہ کھیل کی ضروری معلومات کھلاڑیوں کو منتقل کر سکیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انگلینڈ کی مخصوص کنڈیشنز میں تیکنیک اور نظم وضبط بہت اہمیت رکھتے ہیں اگر پاکستانی ٹیم کی تیاری صحیح رہی تو اس دورے میں اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

یونس خان ورلڈ کلاس بیٹسمین مگر جذباتی انسان

یونس خان نے 118 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے جن میں انھوں نے 10099 رنز بنائے ہیں۔

وہ ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار سے زائد رنز بنانے والے واحد پاکستانی بیٹسمین ہیں جبکہ انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 34 سنچریاں بھی سکور کی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ انھیں پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 139 کیچ لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یونس خان کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 2009 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی جیتا تھا تاہم بطور ٹیسٹ کپتان ان کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی۔

انھوں نے نو ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی جن میں سے ایک جیتا، تین میں شکست ہوئی ہے جبکہ پانچ بےنتیجہ رہے۔

یونس خان کا بین الاقوامی کریئر خاصا ہنگامہ خیز رہا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ کھرے لیکن انتہائی جذباتی انسان ہیں۔

انھوں نے 2006 میں پاکستانی ٹیم کی قیادت صرف اس وجہ سے چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا کہ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے انھیں ملاقات کے لیے چند منٹ انتظار کو کہا تھا۔

2009 میں یونس خان پر سینیٹ کی سپورٹس سے متعلق کمیٹی نے جب مبینہ طور پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا تو انھوں نے اس وقت بھی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا حالانکہ کمیٹی کے سامنے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے ان کا بھرپور دفاع کیا تھا۔

اسی سال نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ہوم سیریز کے موقع پر بھی انھوں نے کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جب ٹیم کے کئی کھلاڑی ان کے مبینہ سخت رویے کی وجہ سے ان کی کپتانی میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

جہاں تک کوچنگ کی بات ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو سال قبل یونس خان کو پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی پیشکش کی تھی لیکن اختیارات اور معاوضے پر فریقین کے درمیان اختلاف کی وجہ سے وہ یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکے تھے۔

2018 میں ہی یونس خان اس وقت بھی خبروں میں آئے تھے جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیول تھری کوچنگ کورس میں شرکت کے دوران انھوں نے مناسب کمرہ نہ ملنے پر احتجاج کیا تھا۔

یونس خان جب اس کورس میں شرکت کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی آئے تو انھیں علم ہوا تھا کہ اکیڈمی میں ان کے لیے کمرہ نہیں رکھا گیا اور انھیں اکیڈمی کے ڈائریکٹر مدثر نذر کے کمرے میں ٹھہرایا گیا ہے تو انھوں نے سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹر پر نشر کی جانے والی ویڈیو کے ذریعے احتجاج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@hamzabutt61

یونس کی تقرری پر مداح خوش

حمزہ بٹ نامی صارف نے یونس خان کے ریکارڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ بالاخر مصباح خان اور پی سی بی نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا 'شعیب اختر نے پی سی بی پر تنقید کی، لیکن بعد میں بورڈ نے انھیں ٹیم کے ساتھ سیشن کے لیے بلایا، یونس خان نے پی سی بی پر تنقید کی، لیکن اب انھیں بیٹنگ کوچ بنایا جا رہا ہے۔ وسیم خان نے اپنی انا کو بس کے نیچے پھینکتے ہوئے صحیح فیصلہ کیا ہے۔‘

سرحد پار سے ایک صارف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ پی سی بی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ یونس خان کس قدر تجربہ کار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مشتاق ماضی میں پاکستانی ٹیم کے کوچنگ سٹاف کا حصہ بھی رہ چکے ہیں

کوچنگ مشتاق کے لیے نئی چیز نہیں

یونس خان کے برعکس مشتاق احمد کے لیے قومی ٹیم کی کو کوچنگ نئی چیز نہیں۔

وہ پاکستان اور پاکستان سے باہر کوچنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی قومی اکیڈمی سے ہیڈ کوچ کے طور پر وابستہ رہنے کے علاوہ قومی ٹیم کے ساتھ سپن بولنگ کی ذمہ پہلے بھی نبھا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے سپن بولنگ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔

وہ انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ 2003 میں انہوں نے کاؤنٹی سیزن میں 103 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ان کی شاندار بولنگ کی وجہ سے سسیکس کاؤنٹی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار کاؤنٹی چیمپئن شپ جیتی تھی۔ 2006 کے سیزن میں بھی انھوں نے غیر معمولی کارکردگی دہراتے ہوئے102 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

مصباح الحق کی توقعات

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کو توقع ہے کہ یونس خان اور مشتاق احمد کا تجربہ انگلینڈ کے دورے میں ٹیم کے کام آئے گا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ جب کپتان بنے تھے تو اس مشکل وقت میں انھیں یونس خان کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ ’اب جب وہ دوبارہ ٹیم کا حصہ بنے ہیں تو انہیں امید ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی طرح ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

’ان کی ٹیم میں موجودگی سے نوجوان کرکٹرز کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا اور انھیں اس عظیم کرکٹر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی ٹیم کے لیے انگلینڈ کا دورہ بہت بڑا چیلنج ہے اور اس دورے میں یونس خان کے ساتھ ساتھ تجربہ کارمشتاق احمد کی موجودگی سے پاکستانی ٹیم کو اپنے مقاصد پورے کرنے میں مدد ملے گی۔