’ہر سیاہ فام انھیں وینس یا سیرینا ولیمز لگتی ہے‘

Taylor Townsend

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عالمی درجہ بندی میں ٹیلر ٹاؤنسینڈ 73 ویں نمبر پر ہتں

امریکی ٹینس کھلاڑی ٹیلر ٹاؤنسینڈ نے کہا ہے کہ انھیں اکثر کوئی دوسرا سیاہ فام کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔

24 برس کی امریکی کھلاڑی نے یہ بات تعصب کے خلاف بننے والی ایک آگاہی پھیلانے والی ویڈیو میں کہی۔

'ٹینس یوناٹڈ' کے نام سے بننے والی اس ویڈیو میں انھوں نے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائڈ کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں پر تفصیلی گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیے

'جو بھی کسی سیاہ فام کو دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ وینس ہے یا سیرینا ولیمز ہے یا پھر سلوئین سٹیفنز ہے۔ لوگ مجھ سے بحث کرتے ہیں کہ میں کوکو گاف ہوں، میں کوکو گاف نہیں ہوں لیکن ہم سب ایک جیسے نظر آتے ہیں اور ایک ہی جسامت کے ہیں۔'

جارج فلائڈ کی موت کے بعد پورے امریکہ میں زبردست مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔

رواں برس 25 مئی کو امریکہ میں سیاہ فام نہتے شہری جارج فلائیڈ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سفید فام پولیس افسر نے انھیں زمین پر دبوچا ہوا ہے اور وہ ان کی گردن کو تقریباً نو منٹ تک اپنے گھٹنے سے دباتے رہے۔

پولیس افسر ڈیرک شوون کو برطرف کر دیا گیا تھا اور ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر تین پولیس اہلکاروں پر بھی اس قتل میں مدد کرنے اور قتل کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات عائد کیےگئے ہیں۔

16 برس کی کوکو گاف جو ٹینس کی دنیا میں ابھرتی کھلاڑی ہیں، نے نسلی تعصب کے خلاف 'بلیک لائیوز میئٹر' مظاہرے میں میں شامل ہوئیں اور ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'فوراً تبدیلی چاہتی ہیں۔'

ان کے ہم وطن اور مردوں کی ٹینس درجہ بندی میں اکیاسی نمبر پر رہنے والے کھلاڑی فرانس ٹیافو نے اپنے انسٹاگرام پر کوکو گاف، نائومی اوساکا اور سیرینا ولیمز کی ویڈیوز پوسٹ کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

فرانس، اپنے انسٹافرام پر پوسٹ کی گئی ایک اور ویڈیو میں اپنی گرل فرینڈ ایان برومفیلڈ کے ساتھ اپنے ٹینس ریکٹ نیچے رکھ کر اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس ویڈیو کا مقصد سیاہ فام امریکیوں کے بے جا قتل کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔

ٹاؤنسینڈ کہتی ہیں کہ اگر کوئی دوسرا کھلاڑی ٹورنامنٹ کھیلنے جاتا ہے تو انھیں روکا نہیں جاتا لیکن جب میں جاتی ہوں تو میری شناختی دستاویزات مانگی جاتی ہیں اور میرے کوچ کے بھی ہمارے بیگ کی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے 'یہ اضافی سکیورٹی اور اضافی تدابیر اس لیے لی جاتی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنائے جاسکے کہ میں واقعی ایک کھلاڑی ہوں۔ حقیقت ہے، یہ ہر بار ہمارے ساتھ ہوتا ہے، ہر ہفتے، ہر ٹورنامنٹ میں، چاہے وہ امریکہ ہو یا امریکہ سے باہر۔ اور یہ بدلے گا نہیں، مجھے امید ہے کہ ان مظاہروں سے لوگوں میں آگاہی بڑھے گی۔'

جارج فلائڈ کی موت کے بعد امریکہ اوردیگر ممالک میں بھی نسل پرستی کے خلاف بڑے مظاہرے کیے گئے۔ برطانیہ میں وسطی لندن میں متعدد افراد پارلیمنٹ سکوائر میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث مظاہرے نہ کرنے کی تنبیہ کے باوجود اکھٹے ہوئے۔

اس کے علاوہ آ سٹریلیا، جرمنی، سپین اور فرانس میں بھی نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کیے گئے۔