گیند چمکانے کا نیا قانون: بولرز کے لیے مسائل پیدا ہوں گے، سرفراز نواز، وسیم اکرم اور وقاریونس کی رائے

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
گیند

،تصویر کا ذریعہAFP

گیند چمکانے کے لیے تھوک کے استعمال پر پابندی سے فاسٹ بولرز کی کارکردگی کتنی متاثر ہوگی؟

یہ وہ سوال ہے جو اس وقت ان فاسٹ بولرز کے ذہنوں میں ہے جنہیں آنے والے دنوں میں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنی ہے۔

یاد رہے کہ آئی سی سی نے کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں گیند چمکانے کے لیے تھوک کے استعمال پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ تاہم گیند کو پسینے سے چمکانے کی اجازت ہوگی کیونکہ آئی سی سی نے طبّی ماہرین سے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق پسینے سے کورونا ایک دوسرے میں منتقل نہیں ہوتا۔

بین الاقوامی کرکٹ میں جب بھی عام روایتی سوئنگ یا ریورس سوئنگ کی بات آتی ہے ذہن میں سرفراز نواز، وسیم اکرم اور وقاریونس کے نام ذہن آتے ہیں۔ یہ وہ بولرز ہیں جنہوں نے سوئنگ کو ایک آرٹ کے طور پر دنیا سے تسلیم کروایا ہے۔

مزید پڑھیے

ان تینوں کی سوئنگ بولنگ پر غیرمعمولی دسترس کا اندازہ ان کے اعدادوشمار یعنی کرئیر ریکارڈ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں یہ تینوں بولرز مجموعی طور پر 1945 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان تینوں کی مجموعی وکٹوں کی تعداد 3003 ہے۔

سوئنگ بولنگ کے یہ تینوں باکمال بولرز اس بات پر متفق ہیں کہ اس عارضی قانون سے بولرز کی صلاحیتیں محدود ہوجائیں گی اور ان کے لیے زیادہ کامیاب ہونا مشکل ہوجائے گا۔

فاسٹ بولرز کا نقصان، بیٹسمینوں کا فائدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سرفراز نواز کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے تھوک سے گیند چمکانے پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اس سے فاسٹ بولرز کو بہت نقصان ہوگا کیونکہ گیند چمکانے سے ہی ریورس سوئنگ ہوتی ہے۔

اس نئی صورتحال میں ہمیں ریورس سوئنگ دیکھنے کو نہیں ملے گی اور یہ چیز بیٹسمینوں کے حق میں جائے گی۔ اگر بولرز عام سوئنگ کرنا نہیں جانتے تو پھر بھاری سکور والے میچز ہوں گے۔

سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ ریورس سوئنگ کا ایک طریقہ اور بھی ہے جس میں جب آپ ایک طرف سے گیند کو چمکاتے ہیں تو آپ جتنا زیادہ پیسنہ گیند پر لگائیں گے وہ تھوک سے زیادہ مؤثر ہوگا کیونکہ پیسنے میں تیل نما موئسچر ( نمی ) ہوتا ہے۔ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ تھوک کے مقابلے میں پیسنے سے گیند ایک طرف زیادہ بھاری ہوجاتی ہے۔ چمکائی ہوئی گیند کی ایک سائیڈ ہوا میں تیزی سے اسکڈ کرتی ہے۔

سرفراز نواز انگلینڈ میں اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ انگلینڈ کا موسم ایک جیسا نہیں رہتا جب بادل چھائے ہوتے ہیں تو ایسے میں گیند کو آف دی وکٹ موو کرانا پڑتا ہے کیونکہ اُس وقت گیند سوئنگ نہیں ہوتی۔

پاکستانی ٹیم میں شامل شاہین آفریدی اور محمد عباس کو انگلش کنڈیشنز کا اندازہ ہے۔

نسیم شاہ نئے ہیں۔ وہ اپنی باڈی سے زیادہ تیز گیند کرتے ہیں انہیں اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھنا ہوگا۔ وہ پرانی گیند سے زیادہ اچھی بولنگ کرتے ہیں کیونکہ انہیں ریورس سوئنگ کرنے کی عادت ہے تاہم انہیں ابھی یہ سیکھنا ہے کہ نئی گیند کے ساتھ کیسے روایتی سوئنگ کرنی ہے۔

انگلینڈ میں ڈرائی پچز کے امکانات اس لیے کم ہیں کہ اس سیزن میں ابھی تک کرکٹ نہیں ہوئی ہے اور وکٹیں تازہ ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شاہین شاہ آفریدی کو ہر طرح کی کنڈیشن اور ہر طرح کی پچ پر بولنگ کرنے آتی ہے۔ وہ نئی گیند پر بھی اتنے ہی اچھے ہیں جتنے پرانی گیند پر۔

محمد عباس کی رفتار میں اگرچہ کمی آئی ہے لیکن وہ اسٹمپس میں بولنگ کرتے ہیں اور انگلینڈ میں کامیاب رہے ہیں۔

محمد حسنین کے پاس اسپیڈ ہے۔ چونکہ موجودہ صورتحال میں گیند زیادہ پرانی نہیں ہوگی لہذا یہ ان بولرز کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا کہ وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں بولنگ کوچ وقاریونس کا کردار بھی بہت اہم ہوگا کہ وہ کس طرح اپنے بولرز کو اس نئی صورتحال میں تیار کرتے ہیں۔

زیادہ پسینہ لگانے سے سوئنگ نہیں ہوگی

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ سب کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ گیند چمکانے کے لیے تھوک کے استعمال پر پابندی عارضی ہے جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے عائد کی گئی ہے اور یہ فیصلہ بالکل درست ہے لیکن وہ بولر کی حیثیت سے یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر انگلینڈ میں سردی ہے اور پسینہ کم آرہا ہے کچھ کھلاڑیوں کو پیسینہ آتا ہے کچھ کونہیں آتا تو پھر کیا ہوگا؟

تھوک سے بولرز گیند چمکاتے ہیں اور آخر میں ہلکا سا پسینہ لگا کر اس چمک میں اضافہ کرتے ہیں۔

وسیم اکرم کہتے ہیں کہ انگلینڈ میں بولرز کو زیادہ مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہاں ڈیوک گیند استعمال ہوگی اور ڈیوک گیند پر پسینے سے ہی چمک رہے گی لیکن سیدھی وکٹوں پر پسینہ بھی کام نہیں آئے گا کیونکہ اس سے گیند گیلی ہوجائے گی۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ جب آپ ریورس سوئنگ کرتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہونا چاہیے کہ گیند پر کتنا پسینہ لگانا ہے۔ زیادہ لگانے سے گیند سوئنگ نہیں ہوگی۔

وسیم اکرم کے خیال میں ڈیوک اور کوکابورا گیند میں جو فرق ہے وہ یہ کہ ڈیوک گیند کی ِسیم ( سلائی ) تھوڑی چھوٹی اور تھوڑی اونچی ہے جبکہ کوکا بورا گیند کی سِیم ( سلائی ) سیدھی ہے ۔ جب سلائی سیدھی ہو تو گیند پڑ کر سیم نہیں ہوتی اور نرم پڑجاتی ہے۔ ڈیوک گیند سخت رہتی ہے اسی لیے بولرز اس سے بولنگ کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں پاکستانی بولرز کو بھی ڈیوک گیند سے بولنگ کرنے میں مزا آئے گا لیکن اینڈرسن اور براڈ جیسے ورلڈ کلاس بولرز کے سامنے پاکستانی بیٹسمینوں کا بہت بڑا امتحان ہوگا۔

بولرز کے لیے مسائل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے آئی سی سی کے اس نئے قانون سے بولرز کے لیے مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ ایک جانب گیند چمکانے کے لیے تھوک کے استعمال پر پابندی ہوگی اور دوسری جانب سردی میں کھیلتے وقت پسینہ نہیں آتا۔

وہ کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں آئی سی سی اور گیندیں تیار کرنے والے مینوفیکچررز کو اس بارے میں کچھ نہ کچھ سوچنا ہوگا کہ بولرز کے لیے کیا ہونا چاہیے اگر ایسا نہ ہوا تو بولرز کے لیے پریشانی بڑھ جائے گی کیونکہ اس وقت کرکٹ میں زیادہ فائدہ بیٹسمینوں کو ہوتا ہے۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولرز کی یہ عام سی عادت رہی ہے کہ وہ گیند چمکانے کے لیے تھوک کا استعمال کرتے ہیں اب اگر آئی سی سی نے اس سلسلے میں دو مرتبہ وارننگ اور پانچ رنز کی پنالٹی کی سزا رکھی ہے تو ہمیں یہ چیزیں دیکھنے میں آتی رہیں گی کیونکہ کیمرے کی آنکھ یہ سب کچھ پکڑے گی۔ یہ بالکل اسی طرح ہوگا جیسے بال ٹمپرنگ کے لیے کیمرے کھوج میں لگے رہتے تھے لیکن انہیں امید ہے کہ اس عارضی قانون کے سلسلے میں امپائرز اور میچ ریفریز نرمی کا مظاہرہ کریں گے۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ اس عارضی قانون سے برصغیر کے بولرز کو زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ یہاں کی کنڈیشنز بہت خشک ہوتی ہیں گرمی بھی بہت ہوتی ہے۔ وکٹ پر گھاس بھی نہیں ہوتی ہے اور اگر آپ گیند نہیں چمکائیں گے تو ریورس سوئنگ بالکل نہیں ہوگی عام سوئنگ ویسے ہی آٹھ دس اوورز کے بعد نہیں ہوتی ہے۔ جب تک گیند کو چمکایا نہ جائے وہ سوئنگ نہیں ہوتی۔