وہاب ریاض : ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی صرف انگلینڈ کے دورے کے لیے ہے

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کرکٹ
،تصویر کا کیپشن

وہاب ریاض کہتے ہیں کہ گذشتہ سال انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا تھا

پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دوبارہ دستیابی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر دیا ہے لیکن ان کے مطابق یہ واپسی صرف انگلینڈ کے دورے کے لیے ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم جولائی میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی ہے اور اس دورے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 29 کھلاڑیوں پر مشتمل سکواڈ کا اعلان کر رکھا ہے۔

کووڈ-19 کی وجہ سے اس دورے میں کسی متبادل کھلاڑی کو انگلینڈ بلانے کی اجازت نہیں ہو گی لہٰذا تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے انھی 29 کھلاڑیوں میں سے ٹیم کا انتخاب ہو گا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ ’یہ دورہ غیر معمولی حالات میں ہونے والا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا اس دورے میں ضرورت پڑنے پر میں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے دستیاب ہوں تو میں نے فوراً ہاں میں جواب دے دیا کیونکہ میری پہلی ترجیح پاکستان کے لیے کھیلنا ہے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کے مطابق ’میرے لیے کسی طور بھی ممکن نہ تھا کہ میں انکار کرتا کیونکہ صورتحال مشکل ہے۔ میں اس وقت آسان راستہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ مشکل دورہ ہے اور ٹیم کو ہم تمام کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں، ہمیں پتا ہے کہ ہمیں کسی بھی فارمیٹ کے لیے کس طرح ڈھالنا ہے۔ میں اس کے لیے پوری طرح تیار ہوں‘۔

وہاب ریاض نے گذشتہ سال ستمبر میں ٹیسٹ کرکٹ سے غیرمعینہ مدت کے لیے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقاریونس ان کے فیصلے پر سخت برہم دکھائی دیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے انھوں نے ٹیم کو سخت نقصان پہنچایا۔

وہاب ریاض کہتے ہیں کہ گذشتہ سال انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا تھا۔

’میں 2016 سے 2019 تک ٹیسٹ کرکٹ وقفے وقفے سے کھیلا تھا۔ اس وقت میں نے یہ سوچا تھا کہ شاید میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے میں نے ٹیسٹ کرکٹ سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مصباح الحق اور وقاریونس کے کوچز بننے سے پہلے میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام سے بات کی تھی اور انھیں یہی بات بتائی تھی کہ میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہیں رہتا لہٰذا میں اس سے دور ہونا چاہتا ہوں تاکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر زیادہ توجہ دے سکوں۔

’اچھی بات یہ تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھ سے یہ کہا کہ میں مکمل ریٹائرمنٹ کے بجائے بریک اور ٹائم آف لے لوں۔ میں نے کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں لیا تھا۔ اب اسی ٹائم آف کی وجہ سے میں نے کم بیک کیا ہے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال مئی میں جس نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا اسے حاصل کرنے والوں میں وہاب ریاض شامل نہیں تھے حالانکہ گذشتہ سال وہ سینٹرل کنٹریکٹ کی بی کیٹگری میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے تھے۔

وہاب ریاض سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہ کیے جانے کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال مئی میں جس نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا اسے حاصل کرنے والوں میں وہاب ریاض شامل نہیں تھے

’سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل ہونے سے کرکٹر کو ایک طرح سے سکیورٹی ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے لیے کھیلے گا۔ بدقسمتی سے میں اس سال سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ نہیں ہوں لیکن اس کے باوجود میرے ذہن میں صرف یہی بات ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے اور اچھا پرفارم کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں آئندہ سال سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بن جاؤں گا۔ میرے نزدیک سب سے اہم چیز پرفارمنس ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ میں اب بھی بہت کرکٹ باقی ہے۔‘

وہاب ریاض کے ناقدین ان کے اعدادوشمار کو متاثرکن نہیں سمجھتے اور ان کا کہنا ہے کہ اتنا عرصہ کھیلنے کے باوجود وہ غیرمعمولی تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوں لیکن اس میں کئی عوامل کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا۔ پاکستانی کرکٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی فاسٹ بولنگ ہے اور یہاں پر کافی فاسٹ بولرز موجود ہیں جن کے درمیان مقابلہ کبھی بھی آسان نہیں رہا۔

’اگر آپ کو پاکستان کی طرف سے کھیلنا ہے تو پھر مستقل مزاجی سے پرفارمنس دینی ہو گی۔ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہم نے 2010 سے 2019 تک اپنی تمام تر انٹرنیشنل کرکٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلی ہے جہاں کی وکٹوں پر فاسٹ بولرز کو مدد نہیں ملتی اور سپنرز چھائے رہے ہیں جن میں سعید اجمل، عبدالرحمان اور دیگر سپنرز شامل ہیں۔‘

وہاب ریاض کے خیال میں گیند چمکانے کے نئے قانون سے بولرز کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

’کووڈ 19 کی وجہ سے گیند چمکانے کے لیے تھوک کے استعمال پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بولرز پسینے سے بھی گیند کو چمکا سکتے ہیں۔ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی سیریز سے بھی ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ بولرز گیند کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔‘