فخر زمان: ’ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو گیا تھا‘

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
فخر زمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فخر زمان کو تین سال قبل انگلینڈ کے دورے سے عروج ملا تھا جب انھوں نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف میچ وننگ سنچری سکور کی تھی لیکن اب جب وہ دوبارہ انگلینڈ جا رہے ہیں تو انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ یہ دورہ ان کے کریئر کو بنا بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے۔

فخر زمان کہتے ہیں ’انگلینڈ کے دورے پر کھیلے جانے والے تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز ان کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

’میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ یہی وہ تین دن ہیں جو میرے بین الاقوامی کیرئر کو دونوں طرف لے جاسکتے ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ میں ان میچوں میں اچھی کارکردگی دکھا کر ناکامی کے طویل سلسلے کو ختم کرسکوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہر کرکٹر کے کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ فخرزمان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں سنچری اور پھر زمبابوے کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی پہلی ڈبل سنچری کے بعد ان کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کا فقدان رہا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

خصوصاً ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں وہ بہت بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ دو سال قبل آسٹریلیا کے خلاف ہرارے میں 91 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد سے اب تک بارہ اننگز میں صرف 110 رنز بنا سکے ہیں جن میں ان کا سب سے بہترین انفرادی سکور 24 ہے اور چھ اننگز ایسی ہیں جن میں وہ ڈبل فگرز میں بھی نہیں جا سکے۔

متواتر ناکامی کی وجہ تیکنک کی خرابی ہے یا اعتماد کا متزلزل ہونا؟

’اگر میں دیانت داری سے بات کروں تو میں ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوگیا تھا۔ سابق کوچ مکی آرتھر نے مجھ سے کہا کہ مجھے ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے اور میں فری مائنڈ کے ساتھ کھیلوں لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اننگز کے شروع میں ٹائم لینا چھوڑ دیا اور پہلی گیند سے جارحانہ انداز اختیار کرنے کی غلطی کر بیٹھا۔‘

وہ کہتے ہیں ’بیٹسمین چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ اننگز کی ابتدا میں کچھ وقت لیتا ہے اور خراب گیند کا انتظار کرتا ہے۔ میں نے مقامی کوچز کے ساتھ اپنی ذہنی مہارت پر کام کیا ہے۔ انگلینڈ کے دورے میں یونس خان موجود ہوں گے اور مجھے امید ہے کہ میری کارکردگی مختلف نظر آئے گی۔‘

فخرزمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موجودہ بیٹنگ تکنیک سے خوش ہیں۔

’جب آپ بین الاقوامی سطح پر کھیل رہے ہوتے ہیں تو پھر تکنیک تبدیل نہیں ہوتی۔ میں جس تکنیک کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا ہوں میں اس سے خوش ہوں۔ میں اسے تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔ تھوڑی بہت ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو کرلی جاتی ہے۔‘

فخر زمان خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں ٹیسٹ کرکٹر کے طور پر پہچانا جائے۔

’میرا دیرینہ خواب یہی ہے کہ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلوں۔ لوگ میرے بارے میں کچھ بھی کہیں کہ میں ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی کا بیٹسمین ہوں لیکن میں خود ٹیسٹ کرکٹ کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ میں لمبی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں۔ انگلینڈ کے دورے کے لیے منتخب کردہ 29 کھلاڑی ٹیسٹ اور ٹی ٹوئننٹی دونوں فارمیٹس کے لیے دستیاب ہیں۔ اگرچہ ہمارے اوپنرز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن میں اس دورے میں ٹیسٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیاری کر رہا ہوں اور موقع ملنے کا منتظر ہوں، اگر موقع ملا تو میں سلیکٹرز کو مایوس نہیں کروں گا۔‘

یاد رہے کہ فخر زمان نے اب تک تین ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ انھوں نے اپنا اولین ٹیسٹ 2018 میں آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی میں کھیلا تھا جس کی پہلی اننگز میں انھوں نے 94 اور دوسری اننگز میں 66 رنز بنائے تھے لیکن اس کے بعد وہ جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں صرف 32 رنز بنا پائے تھے۔