مانچسٹر ٹیسٹ: ’سوشل میڈیا کو چھوڑدیں، اپنی غلطیوں کا تجزیہ ہم خود کریں گے‘

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہرعلی اس وقت سخت مشکل میں ہیں۔ ایک جانب ان کی کپتانی میں ٹیم کو شکست ہوئی ہے اور دوسری جانب ان کی اپنی بیٹنگ فارم اچھی نہیں ہے لیکن وہ اس بات پر مصر ہیں کہ وہ دونوں شعبوں کو الگ الگ طور پر دیکھتے ہیں۔

اپنی کپتانی پر سوشل میڈیا میں ہونے والی تنقید کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کو چھوڑدیں ۔ہم اپنی غلطیوں کا تجزیہ خود کرلیں گے۔

واضح رہے کہ اظہرعلی کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اب تک سات میں سے چار ٹیسٹ میچ ہارچکی ہے۔ دو جیتے ہیں اور ایک ڈرا ہوا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ان سات ٹیسٹ میچوں میں اظہرعلی مایوس کن بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کی مدد سے صرف 327 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ایک وقت میں ایک کے بارے میں سوچنا

پہلے ٹیسٹ کے اختتام پر جب اظہرعلی وڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس میں آئے تو ان سے کیے گئے زیادہ تر سوالات کا تعلق ان کی کپتانی اور اپنی مایوس کن بیٹنگ کارکردگی سے تھا۔

اظہرعلی کہتے ہیں کہ دس سال کرکٹ کھیلنے کے بعد انھیں اس بات کا ضرور اندازہ ہوگیا ہے کہ کس وقت انھیں کیا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ بیٹنگ کررہے ہوتے ہیں تو اسوقت وہ بیٹسمین کی حیثیت سے سوچ رہے ہوتے ہیں اور جب وہ کپتانی کررہے ہوتے ہیں تو اسوقت وہ اپنی بیٹنگ کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے ہیں۔

وہ چاہے صفر پر آؤٹ ہوں یا سنچری بنائیں وہ ایک ہی طرح سے کپتانی کرتے ہیں اور فیصلے کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شان مسعود سے مقابلہ

اظہرعلی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ آپ کو کپتان ہونا چاہیے یا شان مسعود کو اور اگرآپ کو کپتانی سے ہٹایا جاتا ہے تو کیا آپ ان کی کپتانی میں خوشی خوشی کھیلیں گے؟

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کی توجہ اس سیریز پر مرکوز ہے۔

'سوشل میڈیا پر کئ چیزیں چلتی ہیں۔ سوشل میڈیا کو آپ چھوڑدیں۔ کہاں غلطیاں ہوئی ہیں، اس کا تجزیہ ہم خود کریں گے۔ پاکستان کی نمائندگی کرنا ہر کھلاڑی کے لیے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ کپتانی کون کرتا ہے اس پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا اور ابھی کی توجہ اس بات پر ہے کہ کس طرح یہ سیریز جیتی جائے۔'

میچ کا ٹرننگ پوائنٹ

اظہرعلی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ میچ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن تیسرے دن چائے کے وقفے کے بعد سات وکٹیں گرنا اور پھر کرس ووکس اور جوز بٹلر کی پارٹنرشپ کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ چائے کے وقفے کے بعد سات وکٹیں گرنے سے پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو گیم سے باہر کر دینے کا موقع گنوادیا۔

اظہرعلی 277 رنز کے ہدف کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم انگلینڈ پر حاوی تھی۔ اس نے انگلینڈ کی پانچ وکٹیں حاصل کرلی تھیں لیکن جوز بٹلر اور کرس ووکس کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی جنھوں نے میچ ہم سے چھین لیا۔

'دوسری اہم بات یہ کہ پاکستان کی دوسری اننگز میں ایک بھی اچھی پارٹنرشپ قائم نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ٹیم تین سو سے زیادہ کا اسکور نہ کرپائی۔'

شاداب خان کے سلیکشن پر سوالیہ نشان؟

اظہرعلی شاداب خان کے سلیکشن کو بالکل درست قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلی اننگز میں شاداب خان نے شان مسعود کے ساتھ سنچری پارٹنرشپ قائم کی جس کی ٹیم کو ضرورت تھی۔

بولنگ میں بھی انھوں نے پہلی اننگز میں دو وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں شاداب خان کو کم بولنگ اس لیے دی کیونکہ فاسٹ بولرز ایک اینڈ سے اچھی بولنگ کررہے تھےاور دوسرے اینڈ سے یاسر شاہ پر بھروسہ کیے رکھا۔

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو پانچویں بولرکی کمی ہمیشہ سے محسوس ہوتی رہی ہے ۔

اس کنڈیشنز میں ٹیم منیجمنٹ نے یہی سوچا کہ چونکہ شاداب خان بیٹنگ بھی اچھی کرلیتے ہیں لہذا انھیں اسپن آل راؤنڈر کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔