کم روشنی سے متاثرہ ٹیسٹ: کیا گلابی گیند مسئلے کا حل ہے؟

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
waqar

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

وقاریونس کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں گلابی گیند سے صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا ہے جبکہ دنیا بھر میں ابھی بھی گلابی گیند کے ساتھ ٹیسٹ میچ تجرباتی بنیادوں پر کھیلے جارہے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا خیال ہے کہ کم روشنی سے متاثرہ ٹیسٹ میچ میں گلابی گیند کا استعمال ممکن ہے لیکن یہ دیکھنا ہو گا کہ انگلینڈ کے موسمی حالات میں اس کا استعمال کیسے ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ساؤتھمپٹن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر وقار یونس جب ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا کے سامنے آئے تو ان سے کیے گئے زیادہ تر سوالات کا تعلق بارش اور خراب موسم سے تھا کہ اس مسئلے کا حل آخر کیا ہے؟

گلابی گیند انگلینڈ میں کتنی کامیاب؟

وقاریونس کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں گلابی گیند سے صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا ہے جبکہ دنیا بھر میں ابھی بھی گلابی گیند کے ساتھ ٹیسٹ میچ تجرباتی بنیادوں پر کھیلے جارہے ہیں لہذا دیکھنا یہ ہو گا کہ اگر مالی اعتبار سے کوئی نقصان نہ ہو اور شائقین کے نقطہ نظر سے یہ اگر اچھی رہتی ہے تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان پہلی بار گلابی گیند سے کھیلے گا

ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہو گی کہ اس میں کس برانڈ کی گیند استعمال کی جائے گی کیونکہ وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ڈیوک پنک بال کا انگلینڈ میں استعمال کیسا رہے گا؟

’ہم آسٹریلیا میں دیکھ چکے ہیں کہ جب لائٹس روشن ہوتی ہیں تو گیند مووو کرتی ہے جس کی وجہ سے حکمت عملی تبدیل کرنی پڑتی ہے تاہم ذاتی طور پر میں گلابی گیند کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کے حق میں ہیں۔ یہ ایک اچھا خیال ہے۔‘

ٹیسٹ میچ میں اضافی دن

پاکستان کے بولنگ کوچ وقاریونس بارش اور خراب موسم سے متاثر ہونے والے ٹیسٹ میچ میں اضافی دن کے حق میں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ٹیسٹ کرکٹ کی روایتی خوبصورتی پانچ دن کی کرکٹ میں ہے، چھ روز کی کرکٹ پچ کے لیے زیادہ ہو جائے گی۔ پانچ دن کے کھیل میں ہی پچ اپنا انداز بدل چکی ہوتی ہے جیسا کہ دوسرے ٹیسٹ کی پچ تھی جس پر دو دن کھیل نہیں ہوا لیکن آخری دن اس کا انداز بہت بدل چکا تھا۔جہان تک موسم کی دخل اندازی کا تعلق ہے تو یہ کرکٹ میں معمول کی بات ہے۔‘

وقاریونس کا کہنا ہے کہ وہ ٹیسٹ میچ کے قواعد وضوابط میں بہت کم تبدیلیوں کے حق میں ہیں کیونکہ یہی اصل کرکٹ ہے۔

’فرسٹریشن ضرور لیکن موسم سے نہیں لڑسکتے`

وقاریونس کا کہنا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں خراب موسم کی بار بار مداخلت سے انھیں مایوسی ضرور ہوئی ہے لیکن موسم سے کوئی بھی لڑ نہیں سکتا اور جب آپ انگلینڈ میں کھیل رہے ہوں تو آپ کو اس طرح کے موسم کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔

آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کا غور

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ساؤتھمپٹن میں برابر ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران موسم کی خرابی اور اس ضمن میں امپائرز اور میچ ریفری کی صورتحال سے نمٹنے اور فیصلے کرنے کے بارے میں سوالات سامنے آئے ہیں جن کا تعلق بارش رکنے کے بعد کھیل دوبارہ شروع کرنے میں تاخیر سے ہے۔

آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی انگلینڈ میں ہونے والے ٹیسٹ میچوں میں خراب موسم کی بار بار رکاوٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں مرتب کیے گئے قواعد وضوابط کا ازسرنو جائزہ لینے والی ہے۔

اس سلسلے میں اس کے سامنے گلابی گیند کے استعمال کی تجویز بھی ہے کہ اگر روشنی خراب ہو جاتی ہے تو کھیل گلابی گیند کے ساتھ ممکن ہو سکے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ بھی اپنی پلیئنگ کنڈیشنز کا دوبارہ جائزہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔