پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ’پہلا ٹیسٹ جیت جاتے تو آج سیریز بھی جیتے ہوئے ہوتے‘، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کرکٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہرعلی اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو انھیں اولڈ ٹریفرڈ کے پہلے ٹیسٹ کی شکست کافی عرصے تک تکلیف دیتی رہے گی کیونکہ ایک جیتا ہوا ٹیسٹ ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کے بعد انھیں سیریز برابر کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

لیکن انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہارنے کے بعد اظہرعلی خامیوں سے زیادہ مثبت پہلو پر توجہ دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اس سیریز کے مثبت اثرات گنوانے لگ جائیں تو وہ بہت زیادہ ہیں۔

تاہم ساتھ ہی وہ ہر ناکام انفرادی کارکردگی کو اس کھلاڑی کے روشن مستقبل سے جوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی ٹیسٹ سیریز کے بارے میں مزید پڑھیے

'مقصد پورا نہ ہوسکا'

اظہرعلی کہتے ہیں پاکستانی ٹیم جس مقصد کے ساتھ انگلینڈ آئی تھی وہ مقصد پورا نہ ہوسکا۔

'ٹیم انگلینڈ میں سیریز برابر کرنے نہیں بلکہ جیتنے کا سوچ کر آئی تھی اور اس کا موقع ہمیں ملا لیکن اسے ہم نے ضائع کردیا۔مجھے سیریز ہارنے کا بہت زیادہ افسوس ہے۔ جو غلطیاں ہم سے سرزد ہوئیں ان سے اب سیکھنے کی کوشش کریں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters

بابراعظم اور نسیم شاہ کا غیرمعمولی پرفارمنس نہ دینا

انگلینڈ کے دورے سے قبل بابراعظم اور نسیم شاہ سے بے پناہ توقعات وابستہ کی گئی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ ان دونوں کی کارکرگی نتیجے پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگی تاہم بابراعظم ٹیسٹ سیریز کی پانچ اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں بناسکے جبکہ نسیم شاہ سیریز میں صرف تین وکٹیں ہی حاصل کرسکے۔

اظہرعلی کہتے ہیں 'بابر نے اس سیریز میں بہترین بیٹنگ کی ہے۔ اس سیریز میں زیادہ تر وقت کنڈیشنز بیٹنگ کے لیے آسان نہیں تھیں اس کے باوجود بابر نے پوری اتھارٹی کے ساتھ بیٹنگ کی۔ ٹیم کے لیے خوش آئند بات ہے کہ بابراعظم کی ٹیسٹ میں پرفارمنس اوپر آئی ہے۔ وہ ایک ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں اور زیادہ تر وقت وہ بولنگ پر حاوی رہے ہیں یقیناً بابر کو بھی اس بات کا احساس ہوا ہوگا کہ انھوں نے ساٹھ ستر رنز کو سو میں تبدیل کیوں نہیں کیا۔'

اظہرعلی تسلیم کرتے ہیں کہ فاسٹ بولر نسیم شاہ سیریز میں زیادہ وکٹیں نہ لے سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

' نسیم شاہ نے اس سیریز میں اپنے ٹیلنٹ کی جھلک ضرور دکھائی ہے لیکن وہ ابھی ناتجربہ کار ہیں اور اس سیریز سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ وہ تین چار سیریز سے ہمارے ساتھ ہیں اور اچھی بولنگ کررہے ہیں۔ان کے پاس سپیڈ ہے۔ بدقسمتی سے وہ اس طرح وکٹیں نہ لے سکے جس طرح ہم توقع کررہے تھے لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ مستقبل میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔'

'کپتان چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا'

اظہرعلی سے سوال کیا گیا کہ تیسرے ٹیسٹ کی سنچری سے قبل کیا کبھی ذہن میں آیا کہ رنز نہیں ہورہے ہیں تو کپتانی چھوڑدیں۔

اظہرعلی کہتے ہیں ان کی تمام تر توجہ سیریز پر رہی ہے۔

'جب پہلا ٹیسٹ ہارے تھے تو ہر چیز کپتان کے اوپر پڑگئی تھی لیکن اس وقت بھی یہی ذہن میں تھا کہ اپنی اور ٹیم کی پرفارمنس سے سیریز کے نتیجے کو بدلنا ہے۔کسی بھی وقت کپتانی چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ پہلا ٹیسٹ ہارنے پر سب کو دکھ تھا، خاص کر اس ٹیسٹ کا ایک سیشن جو ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا وہ ہم سے نکل گیا لیکن جب آپ کے ساتھ تجربہ کار ٹیم منیجمنٹ ہو تو وہ آپ کو حوصلہ دیتی ہے اور ہم سب دوسرے ٹیسٹ کے بارے میں فوکس تھے۔'

'ٹیم کا توازن'

اظہرعلی کہتے ہیں'ٹیم کا توازن میڈیم پیسر آل راؤنڈر سے قائم ہوتا ہے۔ ہمارے پاس فہیم اشرف موجود ہیں وہ محنت کررہے ہیں کہ ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنائیں۔شاداب خان نے پہلے ٹیسٹ میں بہت عمدہ بیٹنگ کی تھی اور انھیں اگلے ٹیسٹ میں باہر بٹھانا مشکل فیصلہ تھا لیکن کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے وہ فیصلہ کرنا پڑا۔ چھٹے نمبر پر رضوان کی کارکردگی بہت ہی شاندار رہی ہے اور وہ مین آف دی سیریز رہے لہذا یہ بات خوش آئند ہے کہ آپ رضوان کو چھٹے نمبر پر ایک مکمل بیٹسمین کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔'

'اسد شفیق کی مایوس کن فارم'

،تصویر کا ذریعہReuters

اظہرعلی کہتے ہیں'میری فارم بھی نہیں تھی لیکن ایک اننگز کے بعد چیزیں بہترلگتی ہیں۔ اسد کو سٹارٹ ملے مگر بدقسمتی سے اولڈ ٹریفرڈ میں وہ رن آؤٹ ہوگئے۔ وہ تجربہ کار بیٹسمین ہیں اور ہمیں انھیں بیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ بھی ایسے کھلاڑیوں کو سپورٹ کریں جو ماضی قریب میں اچھی کارکردگی دکھاتے آئے ہیں۔ اسد کو صرف ایک بڑی اننگز درکار ہے۔ وہ ایسے بیٹسمین ہیں جو انگلینڈ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں رنز بناچکے ہیں۔ بحیثیت کپتان مجھے اسد پر پورا بھروسہ ہے۔'