سمیع چوہدری کا کالم: اظہر علی کو مصباح کے سائے سے نکلنا ہو گا!

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
اظہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کسی دانا نے کہا تھا کہ بڑے درختوں کے سائے تلے صرف جھاڑیاں اُگتی ہیں۔ اگر تناور درخت بننا ہے تو کسی کے سائے تلے پلنے کی بجائے اپنا سایہ خود بنانا ہو گا۔

کیا اظہر علی بھی مصباح کے سائے تلے پلتے پلتے جھاڑی بننے کی جانب گامزن ہیں؟

سیریز کی شکست کے بعد اظہر علی کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں صرف ایک سیشن کے خراب کھیل نے سیریز ان کی پہنچ سے دور کر دی۔ یہ وہی سیشن تھا جہاں کرس ووکس اور بٹلر نے چھٹی وکٹ کی بہترین پارٹنر شپ لگائی اور میچ پاکستان کے منہ سے کھینچ کر لے گئے۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ اظہر علی کی ٹیم نے اس سیشن میں کیا ’خراب کھیل‘ پیش کیا اور ایسے کون سے تزویراتی سقم رہے کہ اظہر علی کی قائدانہ صلاحیتوں پہ سوالیہ نشانات کے انبار کھڑے ہو گئے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پہلے پہل تو اظہر علی کی پلاننگ کرس ووکس کے معاملے میں ناقص نکلی۔ انگلش وکٹوں پہ سیمرز عموماً فُل لینتھ کو ٹارگٹ کرتے ہیں تاکہ بلے باز ڈرائیو کرنے کی کوشش کرے اور گیند کی سیم موومنٹ کو ماپنے میں تخمینے کی غلطی کرے اور سلپ فیلڈرز اپنا کام دکھائیں۔

لیکن یہاں اظہر علی کے اٹیک سے چُوک یہ ہوئی کہ وہ پرانے گیند کے ساتھ بھی ووکس جیسے بلے باز کو فُل لینتھ دے کر ڈرائیو کروانے کے لالچ میں رہے جو کہ پرانے گیند کی شکستہ سیم کے ساتھ سعیٔ لا حاصل ثابت ہوئی۔

ثانیاً اس روز اس سیشن میں وکٹ کا مزاج اچانک کچھ ایسے ہو گیا تھا کہ بلے بازوں کے لیے زندگی سہل ہو گئی۔

ایسے حالات میں فیلڈنگ کپتان کی پہلی ترجیح رنز کے واضح رستے مسدود کرنے پہ ہونی چاہیے جب کہ بولرز وکٹیں لینے کی بجائے صرف بلے باز کو کریز میں دھکیلنے پہ غور کریں تو کھیل میں توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ دونوں پہلو خاصے کمزور نظر آئے۔ اظہر علی فیلڈ پھیلا کر بھی وکٹ لینے کی کوشش کرتے نظر آئے جبکہ بولرز چھوٹے ٹارگٹ کے دفاع میں بھی محض وکٹ لینے کی خاطر مسلسل رنز ہدیہ کرتے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حالانکہ اگر یہیں اظہر علی کی بجائے مصباح خود فیلڈنگ کپتان ہوتے تو اپنی تمام تر توانائیاں رنز کے بہاؤ کو توڑنے پہ مرکوز کرتے اور بعید نہ تھا کہ میچ جیت بھی جاتے۔

2016 کی انگلش سیریز میں بھی کچھ ایسی ہی سٹریٹیجی تھی کہ مصباح سیریز ڈرا کر آئے تھے۔

کچھ روز پہلے انھی صفحات پہ ہمارے ساتھی عبدالرشید شکور نے بہت دلچسپ نکتہ اٹھایا کہ پاکستان کے پیس اٹیک کی ناتجربہ کاری کو ٹیم مینیجمنٹ ہمیشہ ’ایکسائٹنگ‘ اور پرجوش جیسی اصطلاحات میں ملفوف کرکے کمزوری چھپانے کی کوشش کرتی ہے لیکن ایسا کب تک چل سکتا ہے۔

بعینہٖ اظہر علی کی اوورسیز شکستوں کے ریکارڈ پہ بھی مبصرین کے بعض حلقوں کی جانب سے کچھ ایسی ہی تاویلات پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ایسا کب تک چل سکتا ہے؟

اظہر علی نے اپنے کرئیر کی پہلی سیریز کے بعد ساری کرکٹ مصباح کی قیادت میں کھیلی تاوقتیکہ مصباح ریٹائر ہوئے اور قیادت خود انھیں ملی جو کوئی بھی ٹیسٹ میچ کھیلنے سے پہلے ہی واپس بھی چلی گئی۔ مگر اس میں دو رائے نہیں کہ مصباح کے نائب کپتان کی حیثیت سے اظہر بے شمار فتوحات کا حصہ رہے۔

بطور بلے باز ابھی اظہر علی میں بہت ٹیسٹ کرکٹ باقی ہے۔ وہ بآسانی سو میچ کھیل سکتے ہیں اور اگر آتش برقرار رکھیں تو اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ یونس خان کے بعد وہ دوسرے پاکستانی ہوں جو دس ہزار ٹیسٹ رنز کا سنگِ میل عبور کر جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن بطور کپتان اظہر علی کے اکاؤنٹ میں کچھ حوصلہ افزا ہندسے نہیں ہیں۔ ہوم گراؤنڈز پہ ان کا ریکارڈ خوب ہے مگر آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ کے تناظر میں دیکھیں تو لارڈز کا فائنل کھیلنے کے لیے انھیں ہر طرح کی کنڈیشنز میں میچ جیتنا ہوں گے۔

اب اس سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے پاس طویل چھٹیاں ہیں۔ سال کے اواخر میں اسے نیوزی لینڈ کے دورے پہ جانا ہو گا اور وہاں کنڈیشنز انگلش وکٹوں سے بھی زیادہ دشوار ہوں گی، صرف سیم ہی نہیں، گرین ٹاپ وکٹوں کے اضافی باؤنس کا بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔

تب تک اظہر علی کے پاس سوچنے کے لیے بہت وقت ہے۔ اظہر علی کی ایک بڑی خوبی ان کی مثبت پسندی اور عملیت پسندی ہے۔ یہ تو اب تک واضح ہو چکا کہ اظہر علی، مصباح کے جیسے کپتان نہیں بن سکتے۔ مگر یہ ابھی طے ہونا باقی ہے کہ اظہر علی اپنے جیسے کپتان بھی بن سکتے ہیں یا نہیں۔

اظہر کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تنقید کا جواب ہمیشہ بلے سے دیتے ہیں اور آخری ٹیسٹ میچ کی بظاہر بے معنی سینچری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سینچری نے میچ بھی ڈرا کروا دیا اور اظہر علی پہ بڑھتے دباؤ کو بھی کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اظہر علی اس وقت کو کیسے بروئے کار لاتے ہیں۔