سرفراز احمد کا شکوہ اور سوشل میڈیا صارفین کا ردِعمل

سرفراز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر سرفراز احمد پر کافی عرصے سے سوشل میڈیا صارفین سے لے کر کرکٹ کے تجزیہ نگار تک تقریباً سبھی تنقید کرتے آ رہے ہیں اور اس مسلسل تنقید پر بالآخر سابق کپتان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو ہی گیا اور انھوں نے خاموشی توڑ دی۔

کچھ دیر قبل کی گئی ٹویٹ میں سرفراز احمد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’اتنا چھبنے لگا ہوں سب کو چھرا تو نہیں

جانی جتنا بتاتے وہ میرے بارے میں اتنا برا بھی نہیں ہوں‘

،تصویر کا ذریعہ@SarfarazA_54

دراصل ہوا کچھ یوں کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سرفراز احمد کی جانب سے معین علی و سٹمپ کرنا مِس ہو گیا۔۔۔ اس کے بعد معین علی نے ایسی دھواں دھار بیٹنگ کی کہ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلتے نکلتے بچا۔ وہ تو بھلا ہو وہاب ریاض کا جنھوں نے انھیں پویلین کی راہ دکھا دی اور پاکستان جیت سے ہمکنار ہوا۔

معین علی کا سٹمپ مِس ہو جانے پر سوشل میڈیا صارفین اور کرکٹ سے وابستہ تجزیہ کاروں کی جانب سے سابق کپتان پر خوب تنقید کی گئی۔ طرح طرح کے میمز بنائے گئے اور ایسی ایسی ہتک آمیز باتیں کہی گئیں جنھیں یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

یاد رہے پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے دوران یہ پہلا ٹی ٹوئنٹی تھا جس میں سرفراز احمد کو ٹیم کا حصہ تو بنایا گیا لیکن انھیں بیٹنگ کا موقع نہ مل سکا۔ اس سے قبل وہ ٹیسٹ میچز کا حصہ بھی نہیں تھے اور اس دوران کبھی انھیں ’واٹر بوائے‘ کہا گیا تو کبھی وہ جمائیاں لیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایک صارف نے تو ان کی جمائیوں کا ذکر کرتے یہ تک لکھ ڈالا تھا: ’سرفراز احمد وہ پہلے کھلاڑی ہیں جو کھیل کے تینوں فارمیٹس میں جمائیاں لیتے نظر آئے۔‘

اس کے علاوہ پہلے ٹیسٹ کے دوران سرفراز احمد کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جو اس وقت کھینچی گئی جب سابق کپتان بیٹسمین کے لیے پانی اور جوتے لے کر میدان میں گئے تھے۔

اس تصویر پر کچھ لوگوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ سابق کپتان ہونے کے ناتے سرفراز احمد کو عزت دینی چاہیے تھی اور یہ کام کسی جونیئر کھلاڑی سے کروایا جاتا تو بہتر ہوتا۔

دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر ہونے والی پریس کانفرنس میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق سے بھی اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی قسم کی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ سرفراز احمد نہ صرف ایک زبردست کھلاڑی ہے بلکہ وہ ایک اچھا انسان بھی ہے اور یہ ایک ٹیم گیم ہے۔‘

مصباح کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب ایسی صورتحال ہو کہ آپ کے باہر بیٹھے کھلاڑیوں نے باری باری جا کر پریکٹس بھی کرنی ہے تو ایسے میں جو بھی کھلاڑی دستیاب ہوگا وہی اپنے ساتھیوں کی مدد کرے گا لہذا اس میں کسی کی بے عزتی یا تضحیک کی بات نہیں ہے۔ سب سرفراز احمد کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

خود پر کی جانے والی مسلسل تنقید کے جواب میں سرفراز احمد کے شاعرانہ شکوے پر سوشل میڈیا صارفین کا ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

جہاں کئی افراد سرفراز احمد کی سابقہ کارکردگی کا ذکر کرتے ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں وہیں کئی ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ سرفراز احمد کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے اور خود پر کی جانے والی تنقید کا جواب اپنی پرفارمنس سے دینا چاہیے۔

میر نامی صارف لکھتے ہیں ’سرفراز آپ ایک اچھے انسان ہیں اور آپ ایک اچھے کھلاڑی تھے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب آپ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھیں۔‘

زرہ نامی صارف نے ان کی چمپئین ٹرافی والی تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا ’آپ نے ہمیں چمپیئن بنوایا، وہ خوشی ہم بھولے ہیں نہ بھولیں گے۔ آپ ہمارے ہیرو ہیں اور ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘

ایمان نور نامی صارف کہتی ہیں ’سرفراز بھائی کوئی بات نہیں۔ اچھا اور برا وقت زندگی میں آتا جاتا رہتا ہے۔ آپ محنت اور کوشش جاری رکھیں باقی الله پہ چھوڑ دیں۔‘

کاشف امین نامی صارف نے لکھا ’سرفراز بھائی آپ تو دل پہ ہی لے گئے، یہاں سب چڑھتے سورج کے پجاری ہیں، 2015 ورلڈ کپ میں سب لوگ آپ کے لیے اتنا ہی خوش تھے جتنا آج رضوان کے لیے ہو رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا ’یہ تو اچھی بات ہے کہ ٹیم میں وکٹ کیپنگ کے لیے مقابلہ شروع ہو گیا ہے۔ آپ محنت کریں اور ٹیم میں جگہ حاصل کرلیں۔‘

ثمینہ نامی صارف سرفراز سے کہتی نظر آئیں کہ ’ایسا بالکل نہیں ہے، کوئی بھی آپ سے نفرت نہیں کرتا، ہاں لیکن جب آپ نے بہتر کھیل نہیں پیش کیا ہو صرف اسی موقع پر کچھ افراد آپ پر تنقید کرتے ہیں۔‘

وقاص نامی صارف کا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں ’بھائی سب پرفارمنس کی بات ہے۔۔ اگر ریکارڈ دیکھا جائے تو دھونی کا بھی زوال آگیا تھا‘

عمر نامی صارف نے لکھا ’بات پرفارمنس کی ہے۔ پلیز سیاست چھوڑیں، فٹنس اور پرفارمنس پر ساری توجہ دیں پھر بات بنے گی۔‘

اس موقع پر کئی صارفین سرفراز کی جمائیوں کا بھی ذکر کرتے نظر آئے۔

اور تو اور ایک صارف تو انھیں یہ بھی کہتے نظر آئے کہ ’غم نہ کر پیارے یہ دنیا ہی مطلبی ہے۔ آپ چھوڑیں کرکٹ آئیں گلی میں بنٹے کھیلتے ہیں۔‘

سابقہ کپتان کے شکوے پر طفیل بھٹی نے بھی اپنا تخلیق کردہ ایک شعر لکھا:

’اے میرے کپتان

تو کیوں ہے پریشان

تو تو ہے میرے دیس کی شان

(بس میچ ہاریا نہ کر)‘

سرفراز کی طرح کئی دل جلے صارفین انھیں ’غم آوور‘ میں خوش آمدید کہتے نظر آئے۔۔۔ ارے کیا کہا آپ کو ’غم آورر‘ کا نہیں معلوم؟