پاکستان کرکٹ ٹیم: وہاب ریاض وہ بولر نہیں جنھیں بھلا دیا جائے

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
وہاب ریاض

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے موثر بولنگ سپیل سے خود کو اس وقت یاد کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جب لوگ انھیں بھولنا شروع کر رہے ہوتے ہیں اور ناقدین ان پر تنقید کے لیے خود کو تیار کر رہے ہوتے ہیں۔

وہاب ریاض اپنے کیریئر میں ایسی کوئی زبردست پرفارمنس دیتے نظر نہیں آئے جو انھیں دنیا کے صف اول کے فاسٹ بولرز میں لاکھڑا کرے۔

ان کے بعد آنے والے فاسٹ بولر محمد عامر بھی وکٹوں کے معاملے میں ان سے آگے نکل گئے لیکن کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ایسے میچز موجود ضرور ہیں جن پر وہاب ریاض کی چھاپ واضح طور پر نظر آتی ہے۔

وہاب ریاض کا بین الاقوامی کیریئر اُتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ کبھی مکی آرتھر ان کے بارے میں یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ وہاب ریاض نے پاکستان کو کبھی کوئی میچ نہیں جتوایا، کبھی انضمام الحق ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی مصباح الحق اور وقار یونس ان پر برہم نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایک وقت وہ بھی تھا جب وہاب ریاض تینوں فارمیٹس میں پاکستانی بولنگ کی ضرورت تھے لیکن پھر وہ وقت بھی آ گیا جب انھوں نے خود کو محدود اوورز کی کرکٹ تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تو سینٹرل کنٹریکٹ بھی ہاتھ سے نکل گیا۔

لیکن وہاب ریاض کے ذہن میں صرف یہی بات ہے کہ جب بھی گیند ان کے ہاتھ میں آئے انھیں پرفارم کرنا ہے۔

انھیں یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس فاسٹ بولنگ کے بہت آپشنز موجود ہیں اور تمام بولرز میں زبردست مقابلہ ہے۔ وہاب ریاض کی حالیہ کارکردگی دیکھی جائے تو وہ اس چیلنج کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دیتے ہیں۔

وہاب ریاض انگلینڈ کے دورے میں اس منصوبہ بندی کے تحت شامل کیے گئے تھے کہ ضرورت پڑنے پر ان کے ہاتھ میں سرخ گیند بھی تھما کر انھیں ٹیسٹ میچ کے لیے میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ٹیم منیجمنٹ نے ٹیسٹ سیریز میں ان کی ضرورت محسوس نہیں کی اور پھر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی انھیں دورے کے آخری دن میدان میں اترنے کا موقع ملا۔

لیکن انھوں نے اپنی زبردست بولنگ سے پاکستانی ٹیم کو دورے کی واحد جیت سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کرڈالا۔

حارث رؤف کے لیے زیادہ رنز بچانے کی سوچ

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں معین علی بولرز کے قابو میں نہیں آ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

وہاب ریاض نے کرس جورڈن کو رن آؤٹ کیا تھا

جب وہاب ریاض انگلینڈ کی اننگز کا 19واں اوور کرانے آئے تو میزبان ٹیم کو جیت کے لیے 20 رنز درکار تھے۔ وہاب ریاض نے اوور کا آغاز وائیڈ گیند سے کیا لیکن اگلی ہی گیند پر انھوں نے کرس جورڈن کو رن آؤٹ کر دیا۔ اس میچ کا ٹرننگ پوائنٹ پانچویں گیند تھی جس پر وہاب نے معین علی کو ایک تیز باؤنسر سے غلطی پر مجبور کیا اور وہ انہی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

وہاب ریاض بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’جب میں 19واں اوور کرنے آیا تو میرے ذہن میں صرف یہی بات تھی کہ کم سے کم رنز دوں۔

’میں چھ یا سات رنز پر یہ اوور ختم کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ آخری اوور میں حارث رؤف کو زیادہ سے زیادہ رنز مل جائیں تاکہ وہ ان کا دفاع کرسکیں۔ ایک تجربہ کار بولر ہونے کے ناتے میں نے صورتحال کے مطابق بولنگ کی اور اس پلان پر عمل کیا جو بولنگ یونٹ نے بنایا تھا۔′

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وہاب ریاض نے مشکل صورتحال میں مؤثر بولنگ کی ہے۔ ماضی میں متعدد بار وہ اس طرح کی بولنگ کرچکے ہیں۔

سنہ 2016 میں انگلینڈ کے خلاف مین آف دی میچ

،تصویر کا ذریعہReuters

سنہ 2016 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے گئے واحد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی نووکٹوں کی جیت میں وہاب ریاض کی بولنگ نے فیصلہ کُن کردار ادا کیا تھا۔

انگلینڈ کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سات وکٹوں پر 137 رنز بنا سکی تھی۔ وہاب ریاض نے کپتان اوین مورگن، جوس بٹلر اور ڈیوڈ ولی کی وکٹیں صرف اٹھارہ رنز کے عوض حاصل کیں اور ’مین آف دی میچ‘ قرار پائے تھے۔

سنہ 2016 میں ولیمسن اور منرو کی اہم وکٹیں

،تصویر کا ذریعہAFP

نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان نے 16 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہاب ریاض نے 34 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں کپتان ولیمسن اور کالن منرو کی اہم وکٹیں شامل تھیں جنھوں نے بالترتیب 70 اور 56 رنز سکور کیے تھے۔

کالن منرو صرف دس اوورز میں اپنی ٹیم کا سکور 86 تک لے گئے تھے جبکہ اننگز کا آخری اوور شروع ہونے پر ولیمسن کریز پر تھے اور نیوزی لینڈ کو جیتنے کے لیے 20 رنز درکار تھے۔ لیکن وہاب نے ولیمسن اور پھر ٹرینٹ بولٹ کو اس اوور میں آؤٹ کیا تھا۔

سنہ 2015 کے ورلڈ کپ میں نصف سنچری اور چار وکٹیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی ٹیم انڈیا اور ویسٹ انڈیز سے ہارنے کے بعد زمبابوے کے خلاف بھی شکست کے خطرے سے دوچار تھی۔ ایک موقع پر اس کی چھ وکٹیں صرف 155 رنز پر گِر چکی تھیں۔

ایسے میں وہاب ریاض کی بیٹنگ کام آئی تھی جنھوں نے کپتان مصباح الحق کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے قیمتی 47 رنز کا اضافہ کیا اور پھر سہیل خان کے ساتھ مزید 33 رنز بنا ڈالے۔

اپنی پہلی ون ڈے نصف سنچری کے بعد وہاب ریاض کا بولنگ میں بھی محمد عرفان کے ساتھ برابر کا حصہ رہا تھا۔ ان دونوں کی چار چار وکٹوں نے پاکستان کی 20 رنز کی جیت کو یقینی بنایا تھا۔ وہاب ریاض مین آف دی میچ بنے تھے۔

شین واٹسن کے خلاف مشہور سپیل

،تصویر کا ذریعہAFP

اسی ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں اگرچہ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف چھ وکٹوں سے شکست ہوئی تھی لیکن لوگ ابھی تک وہاب ریاض کے اس بولنگ سپیل کو یاد کرتے ہیں جس میں ان کا سامنا شین واٹسن سے ہوا تھا۔

اس میچ میں وہاب ریاض نے ڈیوڈ وارنر اور کپتان مائیکل کلارک کی وکٹیں حاصل کی تھیں۔ وہ شین واٹسن کی وکٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے لیکن فائن لیگ پر راحت علی نے کیچ ڈراپ کردیا تھا۔

واٹسن کے خلاف وہاب ریاض کا جوش و خروش زوروں پر تھا۔ ان کے باؤنسرز اور شارٹ پچ گیندوں سے واٹسن خاصے پریشان رہے اور دونوں کےدرمیان جملوں اور اشاروں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔

اسی وجہ سے آئی سی سی میچ ریفری رنجن مدوگالے نے دونوں کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس تمام صورتحال کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ ویسٹ انڈین کے سابق بلے باز برائن لارا نے اس جرمانے کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا اور یہ پیشکش کی تھی کہ وہ وہاب ریاض کا جرمانہ ادا کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔

سنہ 2019 کے ورلڈ کپ میں ٹوٹی انگلی سے چھکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہاب ریاض ورلڈ کپ کے اعلان کردہ ابتدائی سکواڈ میں شامل نہیں تھے لیکن بعد میں وہ اور محمد عامر ٹیم کا حصہ بنے تھے۔ اس ورلڈ کپ میں وہاب ریاض نے گیارہ وکٹیں حاصل کیں۔

افغانستان کے خلاف ہیڈنگلے میں کھیلے گئے میچ کی سکور شیٹ میں وہاب ریاض کی دو وکٹیں اور 15 رنز ناٹ آؤٹ نظر آتے ہیں لیکن درحقیت یہ 15 رنز اتنے ہی قیمتی تھے جتنے مین آف دی میچ عماد وسیم کے 49 ناٹ آؤٹ جنھوں نے پاکستان کو تین وکٹوں سے جتوایا تھا۔

228 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی ساتویں وکٹ 47ویں اوور میں گری تو سکور 206 رنز تھا۔

اس موقع پر وہاب ریاض جو دائیں ہاتھ کی ٹوٹی انگلی کے ساتھ میچ کھیل رہے تھے صرف 9 گیندوں پر مشتمل 15 رنز کی مختصر سی اننگز میں اپنا کام دکھا گئے۔ اس اننگز میں ان کا ورلڈ کلاس سپنر راشد خان کی گیندوں پر کور پر چوکا اور مڈ وکٹ پر چھکا کون بھول سکتا ہے۔