ایڈم زیمپا: آسٹریلیا کے سبزی خور کرکٹر جو اپنے ساتھ پورا کچن لے کر سفر کرتے ہیں!

  • سٹیون شملٹ
  • بی بی سی
Adam Zampa

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دو سال قبل ایک نوجوان آسٹریلوی کرکٹ ٹیم بال ٹیمپرنگ تنازع کے بعد اپنے پہلے دورے پر انگلینڈ آئی تھی اور وہاں وہ اپنے چھ کے چھ میچ ہار گئی۔

ایڈم زیمپا اس وقت بین الاقوامی کرکٹ سے اتنے دور تھے کہ وہ ایسیکس کے ساتھ کھیلنے کی تیاری کے لیے برینٹ وڈ کے ساتھ کلب کرکٹ کھیل رہے تھے۔

ایڈم کو پتا ہے کہ ان کے بین الاقوامی کیریئر میں 2018 کے موسمِ گرما کے سیزن کی کیا اہمیت ہے۔ وہ کہتے ہیں ’اس سال نے میرے لیے جو کچھ کیا میں اس کی جتنی اہمیت بتاؤں کم ہے۔‘

ایڈم چیچسٹر پرائوری پارک اور ایسٹ مولسے کے لیے بھی کھیلے اور انھوں نے برینٹ وڈ میں خوب نام کمایا۔ وہاں پر ان کے لیے ایک گانا بھی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ برینٹ وڈ کے کپتان (جن کے گھر پر ایڈم مقیم تھے)، وہ یاد کرتے ہیں کہ ایڈم کو وسکی کتنی پسند تھی اور اکثر وہ رات کو ایک ڈرنک پی لیا کرتے تھے۔

اور اب ایڈم کی یہی وسکی کی پسند آسٹریلیا کی بائو سیکیوئر ببل کو ممکن بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایڈم بتاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ دورے پر وسکی کی چند بوتلیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ ’اور اب دوسرے لڑکوں نے بھی یہ کرنا شروع کر دیا ہے۔‘

’ہمارا ایک وسکی کلب بن گیا ہے۔ شام کو ہر کوئی مختلف بوتلیں لے کر آتا ہے۔ کچھ لوگوں کو جاپانی وسکی پسند ہے۔ مجھے سکاٹش ہائی لینڈز پسند ہے۔ پیٹ کمنز اور مچل سٹارک کو بھی یہ پسند آنے لگی ہے اور کچھ اور لڑکوں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔‘

28 سالہ ایڈم کی بائیں کلائی پر ایک وسکی گلاس کا ٹیٹو ہے جو کہ انھوں نے فاسٹ بولر کین رچرڈسن کی شادی سے پہلے ویک اینڈ پر بنوایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انٹرنیٹ پر تو یہ افواہیں بھی ہیں کہ ایڈم زیمپا نے لندن کے معروف علاقے سوہو میں اداکار ٹام ہارڈی کے ساتھ بھی وسکی پی ہے۔ اس وقت وہ اس واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کر رہے مگر اس کے ذکر پر خوب ہنسے ضرور ہیں۔

انگلینڈ کا موجودہ دورہ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب ایڈم کا کوئی شوق ملنے ملانے کا بہانہ بن گیا ہو۔ دی ٹیسٹ نامی دستاویزی فلم جس میں آسٹریلوی ٹیم کا بال ٹیمپرنگ کا واقعہ دکھایا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایڈم کے خاص کافی بنانے کی وجہ سے ان کے کمرے کو دی لوو کیفے کہا جانے لگا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کیفے کے مہمانوں میں مارکس سٹوئنس، کین رچرڈسن، اور ایلکس کیری ہیں جو کہ سب میرے بڑے اچھے دوست ہیں۔ مگر ہر کسی کو دعوت ہے۔‘

ایڈم کہتے ہیں کہ ’دستاویزی فلم کا دی لوو کیفے والا حصہ باہر والوں کے لیے ایک اچھا طریقہ تھا یہ دیکھنے کے لیے ہم کرکٹ کے علاوہ کیا کرتے ہیں۔ جب یہ شروع میں فلم آئی تو لوگوں نے مجھے میسج کرنا شروع کر دیے کہ آپ کافی کہاں سے لیتے ہیں یا بناتے کیسے ہیں۔‘

اس میں لوگوں کی اتنی دلچسپی بنی کہ ایڈم نے اپنا خود کافی بنانے کا سامان متعارف کروا دیا جسے دی لوو بینڈل کہا جانے لگا۔

جیسے جیسے ان کے ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنے اپنے مزاج کی کافی پینا شروع کر دی تو لوو کیفے میں لوگوں کا آنا جانا کم ہونے لگا۔

ایڈم بتاتے ہیں پھر میرے کمرے میں کوئی نہیں آتا تھا کیونکہ ہر کسی کا اپنا سیٹ اپ تھا۔ میں پریکٹس کے لیے پہنچتا تو سب کے میرے لیے کافی سے متعلق بہت سے سوالات ہوتے تھے۔‘

مگر اس موقعے پر یہ بھی یاد کرنا ضروری ہے آسٹریلوی کھلاڑیوں نے ماضی میں کرکٹ کے میدان کے باہر کیسے کیسے شوق رکھے ہیں۔ ایک کہانی 1989 ایشز دورے کے بارے میں جب ڈیوڈ بون نے برطانیہ کی فلائٹ پر 52 کین بیئر کے پیے اور وہاں پہنچنے پر پائلٹ نے اس حوالے سے خصوصی اعلان کیا تھا۔

ایڈم کہتے ہیں ’مجھے نہیں معلوم کہ کیا ڈیوڈ بون کو ہم پر فخر ہوگا مگر اب وقت تبدیل ہوچکا ہے۔ صحت مند رہنا اور ذہنی طور پر حاضر رہنا بہت اہم ہے۔ بیئر پینے کا کلچر اب تبدیل ہو چکا ہے۔

مگر ماضی کے کھلاڑی ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ایڈم اس حوالے سے زیادہ پریشان نہیں ہیں۔

ان کی یہ عادات جیسے وہ ذمہ دارانہ ’کنزیومرازم‘ کہتے ان کی خوراک کے حوالے سے بھی ہے اور وہ مکمل طور پر سبزی خور ہیں۔ وہ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیٹا کے ایک اشتہار میں بھی آ چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں سبزی خور اس لیے نہیں بنا کہ میری پرفارمنس بہتر ہو۔ میں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ مجھے ماحول اور جانوروں دونوں کا خیال ہے۔ میرے لیے یہ کرنا آسان بھی ہے کیونکہ میں اس بارے میں بہت پرجوش ہوں۔‘

مگر ایک بین الاقوامی کرکٹر ہوتے ہوئے ویگن ہونا اتنا آسان نہیں ہے۔ ایڈم زیمپا اس حوالے سے تیاری کر کے آتے ہیں۔ وہ اپنا مائیکرو ویو اون بھی ساتھ لے کر آتے ہیں۔ میں شاید تین ٹی شرٹ اور دو پینٹیں لایا تاکہ میں اپنا کھانا اور آلات لا سکوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’لوگ میرے کمرے میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم تو پیکنگ بڑی اچھی کرتے ہو۔ تمھارے پاس تو سب کچھ ہے۔ میرا مائیکرویو، میری کافی، میرے الیگزر، میری نیوٹریشن یسٹ، پاکٹ میک، ویگن چیز، میسو سوپس، چائے، میرے پسندیدہ پی نٹ بٹر، اور میرے مگز۔۔۔ میں یہ سب کچھ لے کر آتا ہوں۔‘

’مجھے اس حوالے سے ساتھ ساتھ سیکھنا پڑا ہے۔ یہاں بائو سیکیوئر ببل میں میں نے جمے ہوئے کھانے آرڈر کیے ہیں جو کہ میں اپنے مائیکروویو میں گرم کر سکتا ہوں۔ آپ کو اس حوالے سے مختلف طریقے ڈھونڈنے ہوتے ہیں۔‘

ایک طرح تو ایڈم ماضی کے آسٹریلوی کھلاڑیوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر 1998 میں انڈیا کا دورہ کرنے والی ٹیم کو سینکڑوں بیکڈ بینز اور سپیگٹی کے کین بھیجے گئے جو شین وارن نے وصول کیے۔

ایڈم کہتے ہیں کہ ’میں خود کو کرکٹر کے طور پر نہیں دیکھتا۔ میں خود کو کافی مہذب انسان سمجھتا ہوں۔‘ ’میرے پاس زندگی کے بارے میں بہت سے خیالات ہیں۔ میں لوگوں سے کچھ مختلف انداز میں سوچتا ہوں۔‘