ڈین جونز: سابق آسٹریلوی کرکٹر اور کراچی کنگز کے کوچ کا ممبئی میں انتقال

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ڈین جونز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کسی کے بھی جانے کی خبر افسوسناک ہوتی ہے لیکن کچھ کے ساتھ معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔

آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈین جونز بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جن کے انتقال پر سب چونک اٹھے کہ وہ انسٹھ برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ڈین جونز نے کرکٹ کی دنیا میں مختلف حیثیتوں میں بہت کچھ کیا۔ جب وہ آسٹریلوی کیپ سر پر سجا کر بین الاقوامی کرکٹ کھیلے تو ایک مستند بیٹسمین کی حیثیت سے اپنی اہمیت منوائی۔

جب وہ کمنٹیٹر کی حیثیت سے کمنٹری باکس میں آئے تو اپنے تبصروں اور تجزیوں سے کمنٹری میں جان ڈالی۔ یہی کچھ ان کی تحریروں میں بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آئی سی سی کی میڈیا بریفنگ میں وہ اگلی نشست پر بیٹھے کھیل سے متعلق اہم نوعیت کے تیکنیکی سوالات کرتے نظر آتے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کھیل سے متعلق تمام معلومات کو اپنے اندر سما لینے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔

جب انھوں نے کوچنگ کی راہ اختیار کی تو کھیل پر مکمل نظر اور گرفت کی وجہ سے وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوئے اور ان سے کھلاڑیوں نے بہت کچھ سیکھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کرکٹ کریئر

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ڈین جونز نے آسٹریلیا کی طرف سے 52 ٹیسٹ اور 164 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جن میں انھوں نے مجموعی طور پر9699 رنز بنائے جن میں 18 سنچریاں شامل تھیں۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی 55 سنچریاں شامل تھیں جن میں ایک ٹرپل سنچری بھی قابل ذکر ہے۔ شائقین ان کی وہ ڈبل سنچری آج تک نہیں بھولے ہیں جو انھوں نے سنہ 1986 میں انڈیا کے خلاف چنئی کے ٹیسٹ میں سکور کی تھی۔ شدید گرمی میں انھوں نے بیٹنگ کرتے ہوئے 210 رنز بنائے تھے۔

اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں 216 اور پاکستان کے خلاف اسی میدان میں ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں ان کے کریئر کا خاص حصہ ہیں۔

وہ 1987 کا عالمی کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ اس ورلڈ کپ میں انھوں نے اوپنرز جیف مارش اور ڈیوڈ بون کے بعد نمبر تین بیٹسمین کے طور پر قابل ذکر پرفارمنس دیتے ہوئے تین نصف سنچریوں کی مدد سے 314 رنز بنائے تھے۔

سنہ 1989 کی ایشیز سیریز میں بھی ان کی کارکردگی قابل ذکر رہی تھی جس کی وجہ سے وزڈن نے انھیں سال کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے وکٹوریہ کی طرف سے کھیل جاری رکھا تھا اور وہ انگلش کاؤنٹی ڈربی شائر کے کپتان بھی رہے۔ سنہ 1996 میں انھوں نے کاؤنٹی کی طرف سے کھیلتے ہوئے تیرہ سو سے زائد رنز بنائے تھے اور ڈربی شائر نے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

ہاشم آملا ’دہشت گرد‘

کمنٹری باکس میں ڈین جونز کے تبصروں اور تجزیوں کو ہمیشہ اہمیت دی گئی لیکن سنہ 2006 میں وہ اس وقت متنازع بن گئے جب انھوں نے جنوبی افریقہ کے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر ہاشم آملا کے لیے کمنٹری کے دوران دہشت گرد کا لفظ استعمال کردیا۔ ان کے ریمارکس پر ان کا معاہدہ ختم کر دیا گیا تھا اور انہیں اپنی اس حرکت پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

سرخ نوٹ بک والا کوچ

ڈین جونز کرکٹ کے حلقوں میں پروفیسر ڈینو کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ 2017 میں انہیں افغانستان نے عبوری کوچ مقرر کیا تھا۔

ڈین جونز نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے لیے بھی درخواست دی تھی لیکن بعد میں انھوں نے خفا ہو کر کہا تھا کہ وہ آئندہ کبھی بھی پاکستانی ٹیم کا کوچ بننے کے لیے درخواست نہیں دیں گے۔

ڈین جونز دو بار پاکستان سپر لیگ جیتنے والی ٹیم اسلام آباد یونائٹڈ کے کوچ رہے۔ گزشتہ سال وہ مکی آرتھر کی جگہ کراچی کنگز کے ہیڈ کوچ بنائے گئے تھے۔

ڈین جونز ہمیشہ ایک سرخ رنگ کی نوٹ بک کے ساتھ نظر آتے تھے جس میں وہ کھیل سے متعلق مختلف باتیں نوٹ کرتے رہتے تھے اور پھر اپنے کھلاڑیوں کو سمجھاتے تھے۔

انھیں اپنے کھلاڑیوں سے بہت محبت تھی یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کرکٹر آصف علی کی بیٹی جو کینسر میں مبتلا تھیں ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈین جونز پریس کانفرنس میں رو پڑے تھے۔

کھیل کی باریکیوں پر گہری نظر

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق اسلام آباد یونائٹڈ کے کپتان کی حیثیت سے ڈین جونز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ڈین جونز پاکستان کی کرکٹ اور پاکستانی کرکٹرز کے لیے بہت مخلص تھے۔ وہ ہر کھلاڑی کے بارے میں ان سے بات کرتے تھے۔ آسٹریلیا سے بھی وہ ان سے رابطے میں رہتے تھے کہ کس طرح ٹیم کامبی نیشن بننا ہے

مصباح کہتے ہیں ’وہ کھیل کی باریکیوں کو بہت اچھی طرح جانتے تھے اور کھیل سے جنون کی حد تک محبت رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا کیونکہ وہ ہر وقت آپ کو درست معلومات اور مشورے دیا کرتے تھے۔ انھوں نے ٹیم کا ماحول بہت دوستانہ اور خوشگوار رکھا ہوا تھا‘۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کو دنیا کے سامنے مثبت انداز میں پیش کرنے میں ڈین جونز نے سفیر کا کردار ادا کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

ڈین جونز کی موت کی خبر کی تصدیق ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا جس میں ان کے ساتھ کام کرنے والے، کھیلنے والے اور عام شائقین شامل تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈین جونز کے انتقال پر اپنی ٹویٹ میں افسوس کا اظہار کیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ٹیم مینیجر حسن چیمہ نے لکھا کہ ڈین جونز شاید وہ شخص تھے جن سے انھوں نے کرکٹ کے بارے میں سب سے زیادہ سیکھا۔

'وہ جدت پسند شخصیت کے حامل تھے اور ایسے انسان تھے جو ہر وقت سیکھنے کی خواہش رکھتے تھے۔ ایک بہت نفیس انسان اور پاکستان کرکٹ کے سچے دوست۔'

اسلام آباد یونائیٹڈ کے سابق سی او او شیعب نوید نے بھی ڈین جونز کے بارے میں لکھا کہ وہ ایک ایسے نادر شخص تھے جو نہ صرف کرکٹ کے کھیل کو سمجھتے تھے بلکہ اس سے منسلک کھیل اور کمرشل انڈسٹری کو بھی سمجھتے تھے۔

'ڈین جونز نے پی ایس ایل اور اسلام آباد یونائیٹڈ کو بھرپور طریقہ سے سہارا دیا، خاص طور پر ایسے موقع پر جب ہم اسے شروع کر رہے تھے اور اس کی سخت ضرورت تھے۔'

یو ٹیوب پر کرکٹ کی پرانی ویڈیوز کو جمع کرنے والے صارف راب موڈی نے بھی ڈین جونز کے ساتھ اپنی یادیں بتاتے ہوئے لکھا کہ چند ماہ قبل ڈین جونز نے ان سے رابطہ کیا کہ ان کی آسٹریلیا کے لیے کھیلی گئی پرانی اننگز کی فوٹیج بھیجیں۔

'میں اس پر بہت پر جوش تھا اور ساری رات جاگ کر انھیں تیار کیا اور انھیں بھیجا، اور وہ اتنے خوش تھے'۔

اسی طرح ایک اور قصہ سناتے ہوئے پاکستان میں ڈان اخبار سے منسلک صحافی اور فلم ساز حسن زیدی نے اپنی یادیں بتاتے ہوئے لکھا کہ انھیں ڈین جونز کی پہلی یادداشت اس وقت کی جب وہ کسی ٹیم کے خلاف کھیلتے ہوئے بولڈ ہو گئے اور آؤٹ ہونے کے بعد ان کا رد عمل اتنا یاد گار تھا کہ وہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔

حسن زیدی لکھتے ہیں کہ ان کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے تھے اور یہ ان کی شخصیت کا خاصہ تھی جو بعد میں ہم نے پی ایس ایل کے دوران بھی دیکھی۔