انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا: ایک کرکٹنگ کہانی جو برسوں زندہ رہے گی، سمیع چوہدری کا کالم

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
انڈین کرکٹ ٹیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اس دورے میں وہ لمحے بھی آئے کہ سوشل میڈیا پر انڈین ٹیم کو ایمرجنسی وارڈ سے تشبیہہ دی جاتی رہی کہ آئے روز کوئی نہ کوئی زخمی ہو رہا تھا

مہینہ بھر پہلے جب یہ سیریز شروع ہوئی تو انڈین ٹیم دنیا بھر میں زیرِ بحث آئی۔ گو امید یہ تھی کہ ایڈیلیڈ کی کنڈیشنز میں انڈیا بہت بہتر مقابلہ کرے گا اور پہلے دو دن امید بارآور ہوتی نظر بھی آئی مگر تیسرے دن وہ مقام آیا کہ یہ ٹیم دنیا بھر کے لئے ٹھٹھے کا سامان بن گئی۔

انڈین ٹیم اپنی ٹیسٹ تاریخ کے کم ترین مجموعے پر آؤٹ ہو گئی اور سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے ٹوئٹر پر پھبتی کسی کہ ’کہا تھا ناں بہت مار پڑے گی‘ اور ساتھ ہی سیریز کے حتمی نتیجے کی پیشگوئی بھی کر ڈالی۔

مائیکل وان کے ’غیر حتمی و غیر سرکاری‘ نتیجے کے مطابق آسٹریلیا چار صفر سے سیریز جیت رہا تھا اب جبکہ حتمی نتائج سامنے آ چکے ہیں تو انڈیا سیریز 2-1 سے اپنے نام کر چکا ہے۔

لیکن یہ ہندسے پوری کہانی کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ جس طرح سے یہ کہانی ندامت، ذلت، خوف، بے خوفی، یقین اور ہمت میں تہہ در تہہ کھلتی ہے، ہندسے تو کیا الفاظ بھی بیان سے قاصر ہوتے نظر آتے ہیں۔

کہاں اپنی تاریخ کے پست ترین مقام پر گر کر ہر ایک کے طعنے سہنا اور کہاں پھر اپنی ہی راکھ میں سے شعلہ بن کر اٹھنا اور ہر ناقد کو تالیاں بجانے پر مجبور کر دینا، یہ وہ کرکٹنگ کہانی ہے جو دہائیوں تک زندہ رہنے کی مستحق ہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے

اس دورے میں وہ لمحے بھی آئے کہ سوشل میڈیا پر انڈین ٹیم کو ایمرجنسی وارڈ سے تشبیہہ دی جاتی رہی کہ آئے روز کوئی نہ کوئی زخمی ہو رہا تھا۔ انجریز کا معاملہ پوری سیریز پر اس قدر حاوی رہا کہ مبصرین کو باقاعدہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

اسی دوران کوہلی کی عدم موجودگی کے سبب بیٹنگ لائن کی کمیابی کا خدشہ بھی سر پر منڈلا رہا تھا۔ اجنکیا ریحانے اگرچہ انڈیا سے زیادہ غیر ملکی کنڈیشنز کے اچھے بلے باز ہیں مگر یہ سوال اپنی جگہ تھا کہ کپتانی کا دباؤ ان کی فارم پر کیا اثر ڈالے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

چتیشور پجارا اپنی وکٹ بچاتے ہوئے اپنا جسم بچانے کی پرواہ تک نہیں کرتے

زمینی حقائق اس قدر تلخ تھے کہ گابا تک پہنچتے پہنچتے انڈین ٹیم کے چھ فرسٹ چوائس بولرز زخمی ہو چکے تھے اور بچے کھچے وسائل صرف اس قدر تھے کہ بمشکل گیارہ کھلاڑی پورے کیے گئے۔

انڈیا کی اس جیت کی نمایاں ترین بات چتیشور پجارا کی مزاحمت رہی جو اپنے کردار میں اس قدر ڈھل چکے ہیں کہ وکٹ پر دیوار بن جاتے ہیں اور اپنی وکٹ بچاتے ہوئے اپنا جسم بچانے کی پرواہ تک نہیں کرتے۔

یہ کرکٹرز کی وہ کلاس ہے جو اب کمیاب ہوتی جا رہی ہے۔ آسٹریلوی کنڈیشنز میں نئے بال کی تباہ کاری کا راہ روکنا ہی سب سے ہمت طلب کام ہے۔

پجارا کی یہ صلاحیت دوسرے اینڈ پر نوجوان کھلاڑیوں کو سٹروک کھیلنے کی آزادی بھی دیتی ہے۔

انڈیا کے لئے خوش بختی یہ بھی ہے کہ اس سیریز کا کوئی ایک ہیرو نہیں۔ جس جس کو ذمہ داری دی گئی، اس نے اپنے حصے کا بوجھ جی بھر اٹھایا۔

جس طرح شبمان گل نے بے خوف کرکٹ کھیلی، جیسے رویندرا جدیجا نے ایک یادگار اننگز کھیلی، جیسے ایشون نے آسٹریلوی کنڈیشنز میں ایشین سپنرز کے ریکارڈ کے برعکس کھیل پیش کیا اور یہی نہیں، جب ٹاپ آرڈر گرنے لگا تو لوئر آرڈر نے بھی پارٹنرشپس لگا کر خوب مزاحمت دکھائی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

تحمل اور جارحیت کے اس متوازن امتزاج کی بدولت یہ میچ آخری دن کے آخری گھنٹے میں داخل ہوا

محمد سراج ہوں، واشنگٹن سندر ہوں کہ نترجن ہوں یا شاردل ٹھاکر، جس جس پر بار آیا اس نے پرواہ نہیں کی کہ سینئر بولرز موجود نہیں ہیں، بس اپنے حصے کا کام پورا کیا اور یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ ناتجربہ کار ایشین فاسٹ بولرز کے لئے آسٹریلوی کنڈیشنز میں لینتھ کو سمجھنا کتنا دشوار ہوتا ہے۔

گابا ٹیسٹ میں جب آدھی ادھوری ٹیم بمشکل گیارہ کھلاڑی پورے کر کے میدان میں اتری تو اس کے پیچھے بھی کئی طعنے تھے۔ جب انڈین ٹیم نے سخت قرنطینہ پروٹوکولز کے سبب کوئنزلینڈ جانے میں ہچکچاہٹ دکھائی تو آسٹریلوی میڈیا ٹوٹ پڑا کہ یہ گابا کے باؤنس کے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

اگرچہ اتنی بڑی سیریز کے نتیجے کو کسی ایک لمحے سے جوڑ دینا کچھ مناسب نہیں لگتا مگر شاید یہ طنز کے نشتر ہی تھے جو اس الیون کے دل پر نقش ہو گئے اور ساری کشتیاں جلا کر یہ ٹیم بے خوف کرکٹ کھیلنے اتری۔

گابا کی اس وکٹ پر اس آسٹریلوی اٹیک کے سامنے، چوتھی اننگز میں 250 رنز بھی کر لئے جائیں تو بڑی بات ہے۔ انڈین ڈریسنگ روم نے مگر بہت شاندار اپروچ اپنائی اور وکٹ کے دونوں اینڈز پر الگ الگ رویہ دکھایا، ایک جانب وقت گزاری کے لئے بیٹنگ کی گئی تو دوسرے اینڈ سے اٹیک کیا گیا۔

تحمل اور جارحیت کے اس متوازن امتزاج کی بدولت یہ میچ آخری دن کے آخری گھنٹے میں داخل ہوا اور وہاں رشابھ پنت نے وہ اننگز کھیلی جو ان کے بقول ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

ہو سکتا ہے یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے پر انڈین بلے باز اپنے خول میں چلے جاتے اور ڈرا کی کوشش کرتے کیونکہ ڈرا بھی یہاں جیت سے کم نہیں تھا مگر پنت کی مثبت پسند کرکٹ نے اس میچ کو ایسے معجزے میں بدل دیا کہ اس کے قصے انڈین کرکٹرز کی اگلی دو نسلوں تک خون گرماتے رہیں گے۔