کیا انڈین کرکٹرز پاکستانی کھلاڑیوں سے ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہیں؟

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
رشبا پنت

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

انڈین ٹیم کے نوجوان وکٹ کیپر رشبا پنت نے مشکل صورتحال میں بیٹنگ کر کے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا

کہتے ہیں کہ جیت خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ جیت ُچھپی ہوئی کئی خوبیوں کو اجاگر بھی کرتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال آسٹریلیا اور بھارت کا برسبین ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم کی جیت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ذہنی طور پر مضبوطی حریف کے حوصلے پست کردیتی ہے۔

بھارتی ٹیم کی اس جیت کے تناظر میں ہونے والی بحث میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کی کارکردگی بھی شامل ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا بھارتی کرکٹرز پاکستانی کھلاڑیوں کے مقابلے میں ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہیں؟

اسی بحث میں یہ موازنہ بھی شامل ہے کہ بھارتی ٹیم ایک وراٹ کوہلی کی غیرموجودگی کو ذہن سے نکال کر میدان میں اتری اور سرخرو ہوئی لیکن پاکستانی ٹیم نے بابراعظم کے نہ ہونے کا اتنا اثر لے لیا کہ پہلے ٹیسٹ میں صف اول کے بیٹسمینوں کی ناکامی کے بعد ٹیل اینڈرز میچ بچانے کی کوشش کرتے نظر آئے اور دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی مستند بیٹسمینوں کے ہوتے ہوئے سب سے بڑا اسکور جو محض 37 رنز تھا وہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے لیفٹ آرم اسپنر کا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی بیٹسمینوں کے بارے میں یہ شکایت بڑی پرانی ہے کہ وہ ملک سے باہر انڈرپریشر نہیں کھیل پاتے۔ کبھی اسے تکنیک کا معاملہ سمجھا جاتا ہے تو کبھی اسے اعتماد کی کمی کہا جاتا ہے۔

نئے کرکٹرز کو اعتماد دینے کی ضرورت

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان کہتے ہیںʹ آئیڈیل بات تو یہی ہے کہ جب کوئی کرکٹر انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تو اس نے کافی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رکھی ہو۔ ذہنی طور پر پختگی وقت کے ساتھ ساتھ آتی ہے۔ کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے بھارتی ٹیم کی مثال ہے جو 36رنز پر آؤٹ ہوئی لیکن اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ سیریز کی فاتح بنی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کے بیٹنگ کوچ یونس خان اپنے دور میں مشکل صورتحال میں عمدہ کھیل پیش کرنے کی وجہ سے جانے جاتے تھے

یونس خان کہتے ہیںʹ ہمارے بہت سے کرکٹرز ایسے ہیں جو ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے سے ٹیسٹ کرکٹ میں آئے ہیں۔انہیں سیٹ ہونے میں وقت درکار ہے۔ یہ کوچنگ اسٹاف کا فرض ہے کہ وہ نئے کرکٹرز کو یہ یقین دلائے کہ آپ ایک سیریز کے لیے سلیکٹ نہیں ہوئے ہیں کیونکہ نئے کھلاڑی یہی سوچتے ہیں کہ اگر ان سے پرفارمنس نہیں ہوئی تو وہ ٹیم سے باہر ہو جائیں گے۔ اگر انہیں اعتماد دے دیا جائے تو اس سے انہیں اپنی صلاحیتیں ُ کھل کر دکھانے کا موقع ملے گا اور وہ ذہنی طور پر دباؤ کا شکار نہیں ہونگے۔‘

مستقل بنیاد پر ماہر نفسیات

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کی ذہنی صلاحیت بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرتا رہا ہے لیکن تجریہ کار حسن چیمہ کہتے ہیں کہ یہ کام مختصر مدت کے لیے نہیں بلکہ مستقل بنیاد پر ہونا چاہیے ۔

”صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی آپ کو ماہر نفسیات ٹیموں کے ساتھ نظر آئیں گے۔پاکستانی کرکٹ میں بھی اس کی ضرورت ہے لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک دورے یا ایک سیریز کے لیے ماہر نفسیات رکھ لیا۔ یہ تقرری مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیے کہ وہ بورڈ میں بیٹھا ہو اور کھلاڑی اس سے اپنے مسائل بیان کرسکیں۔"

حسن چیمہ کہتے ہیں ” دنیا بھر میں سینئر کھلاڑی یا منیجر کوچز اپنے کھلاڑیوں کو اعتماد دے رہے ہوتے ہیں ۔پاکستانی کرکٹ میں عمران خان جاوید میانداد اور وسیم اکرم کو اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے کام لینا آتا تھا۔ بحیثیت کپتان مصباح الحق نے بھی ایسا ہی کیا ۔ اس ضمن میں سابق کوچ باب وولمر کی مثال سب کے سامنے ہے جن کی ہر کرکٹر کھل کر تعریف کرتا ہے۔"

حسن چیمہ کا کہنا ہے”کھلاڑی اسی وقت بنتا ہے جب اس کے پاس تکنیک، ذہنی طور پر مضبوطی، کیریکٹر اور تجربہ سب کچھ ہو۔ کسی ایک چیز کا ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اگر آپ بھارت یا دوسری بڑی ٹیموں پر نظر ڈالیں تو وہ انہی کرکٹرز کو ٹارگٹ کرتی ہیں جن میں صرف ٹیلنٹ ہی نہ ہو بلکہ ان کی شخصیت بھی ایسی ہو جسے نکھارا جاسکے بہتر بنایا جاسکے ʹ ۔

مضبوط اعصاب کے کھلاڑی اب کہاں ہیں؟

پاکستانی کرکٹ میں ایسے کئی کھلاڑی موجود رہے ہیں جنہیں انڈر پریشر کھیلنے میں مزا آتا تھا۔ حنیف محمد، آصف اقبال، جاوید میانداد، انضمام الحق اور حالیہ برسوں میں مصباح الحق اور یونس خان نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی تو اب کھلاڑیوں کا اعتماد دباؤ کی صورتحال میں متزلزل کیوں ہوجاتا ہے؟۔

اپنے دور میں مین آف کرائسس کے طور پر مشہور سابق ٹیسٹ کرکٹر آصف اقبال کہتے ہیں” کرکٹ میں ذہنی طور پر مضبوطی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہ صرف کھیلوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اہم کردار انسان کی عام زندگی میں بھی ہے۔مینٹل ٹفنس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا ذہن نظم وضبط کے مطابق ہو جسے آپ آسان اور مشکل ہر طرح کی صورتحال میں بروئے کار لاسکیں ۔ جب غیر برطانوی کرکٹرز کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے آئے تو انہیں صحیح معنوں میں پروفیشنلز کا پتہ چلا ۔"

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

شبمین گل نے اپنی پہلی سیریز میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

آصف اقبال اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں ”میں تکنیک کے اعتبار سے بہت بڑا بیٹسمین نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ جب میں پہلی بار 1967میں انگلینڈ کے دورے پر گیا تو میری اپنی ٹیم کے کچھ سینئر کھلاڑیوں نے میری تکنیک کا بڑا مذاق اڑایا تھا کہ اس میں خامیاں ہیں اور میں دس رنز بھی نہیں بناسکوں گا لیکن اس دورے میں میری کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ میں نے کتنے رنز بنائے اور دوسروں نے کتنے اسکور کیے۔"

آصف اقبال کہتے ہیں ʹ بات تکنیک کی نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آپ کنڈیشنز سے خود کو کیسے ہم آہنگ کرتے ہیں اور یہ آپ کا خود کا کام ہوتا ہے۔میں پہلے بھی یہ بات کہہ چکا ہوں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں آنے کے بعد کھلاڑی کی تکنیک پر کام نہیں ہوتا اور نہ ہی کوچنگ ہوتی ہے۔"

کیا راہول دراوڈ کے پاس جادو کی چھڑی ہے ؟

اگر ہم بھارتی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس کے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں جو نام سامنے آتا ہے وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر راہول دراوڈ کا ہے جو انڈین جونیئر ٹیم سے وابستہ رہے ہیں۔

بھارت کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار پردیپ میگزین دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار نیاز فاروقی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں "راہول دراوڈ کو کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور انہیں پرکھنا آتا ہے جیسے واشنگٹن سندر ، جن کے بارے میں دراوڈ نے دو سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس کھلاڑی پر نظر رکھنی چاہئے اس میں ٹیلنٹ موجود ہے۔آج بھارت کے تمام ہی نوجوان کرکٹرز راہول دراوڈ کی کوششوں اور مدد کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں سراہتے ہیں ۔"

پردیپ میگزین کہتے ہیں ʹ دراوڈ جیسے پروفیشنل شخص کے وسیع تجربے سے کرکٹرز بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ چونکہ دراوڈ خود دباؤ میں اعتماد سے کھیلتے رہے ہیں اس لیے ان کی ہر بات کو دوسرے کرکٹرز بھی سنجیدگی سے سنتے ہیں اور ایسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارتی کرکٹ میں فرسٹ کلاس کرکٹ بھی ہے تاہم انڈر 19 اور اے ٹیم کے بین الاقوامی دوروں نے کھلاڑیوں کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔آج جتنے بھی کرکٹرز انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں یہ سب انڈر 19اور اے ٹیم کے سسٹم سے ہی نکل کر سامنے آئے ہیں ʹ۔

آئی پی ایل سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت ملی ہے

پردیپ میگزین کہتے ہیں”آئی پی ایل ایک انٹرنیشنل ایونٹ کا روپ دھار چکی ہے۔ اگرچہ دیگر ممالک میں بھی فرنچائز کرکٹ ہورہی ہے لیکن آئی پی ایل بہت زیادہ پریشر ٹورنامنٹ ہے جس میں دنیا کے بہترین کھلاڑی کھیلتے ہیں اور بھارتی کرکٹرز کو ان کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ آئی پی ایل نے بھارتی کھلاڑیوں کو یہ سکھایا ہے کہ دباؤ میں بے ہوش نہیں ہونا ہے۔ بھارتی کرکٹرز کو پریشر میں کھیلنے کا جو تجربہ آئی پی ایل سے ملتا ہے وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کے کام آ رہا ہے جس کی تازہ ترین مثال آسٹریلوی دورے کی جیت ہے۔"

اندرونی سیاست کے باوجود مضبوط ڈھانچہ

بھارت کے ایک اور سینئر صحافی ایاز میمن بھارتی کرکٹ کے مضبوط ڈھانچے کو کامیابی کا بنیادی سبب قراردیتے ہیں۔

ایازمیمن بی بی سی کے نیاز فاروقی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیںʹ بھارتی کرکٹ بورڈ میں متعدد خامیاں ہیں مثلاً اندرونی سیاست لیکن اس کے باوجود کرکٹ کا دائرہ پورے انڈیا میں پھیلا ہوا ہے۔ پنجاب پہلے ہاکی کا مرکز تھا اب وہاں کرکٹ ہے۔ آج نئے کھلاڑیوں کو کھیلنے کے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔ اگر ایک رکشہ والے کا بیٹا محمد سراج ہیرو بن جاتا ہے تو سوچیے کہ کتنے اور رکشے والوں کے بچے بھی یہ سوچیں گے وہ بھی اسی طرح کھیل کر ہیرو بن سکتے ہیں ʹ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

آسٹریلیا کے دورے میں انڈین بیٹسمینوں کی عمدہ کارکردگی میں راہول دراوڈ کا بہت اہم کردار ہے

ایاز میمن کا کہنا ہے ʹ کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل سطح پر کھیلنے کا ایکسپوژر مل رہا ہے۔ یہ نوجوان کرکٹرز فرسٹ کلاس کرکٹ۔ انڈر 19اور اے ٹیم سے ہوتے ہوئے آرہے ہیں۔ آئی پی ایل کی شکل میں ایک بڑا پلیٹ فارم موجود ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کے لیے راہول دراوڈ کی شکل میں انتہائی تجربہ کار مینٹور بھی موجود ہیں جنہیں بخوبی معلوم ہے کہ جدید کرکٹ کے کیا تقاضے ہیں اور نئے کھلاڑیوں کی کس طرح رہنمائی کی جاسکتی ہے ʹ۔

ایاز میمن کے خیال میں بھارتی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلی بولنگ کی وجہ سے آئی ہے اب اس کے پاس کئی فاسٹ بولرز ہیں جو وکٹیں لے سکتے ہیں۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔

ایاز میمن پاکستانی کرکٹرز کی صلاحیتوں کے معترف ہیں لیکن کہتے ہیں کہ کپتان تواتر سے تبدیل ہوتے ہیں ۔ عدم تحفظ کا احساس نظر آتا ہے۔کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ میں اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں محمد عامر کے بیانات سامنے آئے ہیں کہ وہ موجودہ منیجمنٹ کی موجودگی میں نہیں کھیلیں گے۔ ٹیم کی کارکردگی میں بھی مستقل مزاجی نہیں ہے۔