کراچی ٹیسٹ: فواد عالم سنچری بنا کر آؤٹ، پاکستان کی جنوبی افریقہ پر 88 رنز کی برتری

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
فواد عالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم لاکھ یہ بات بھلا دینا چاہیں کہ وہ دس سال تک بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہے ہیں لیکن ان کے پرستار ہوں یا میڈیا، انھیں بار بار یہ یاد دلاتا رہتے ہیں، مگر فواد عالم کسی کی طرف انگلی اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں سنچری بنانے کے بعد جب وہ ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے تو ان سے ایک بار پھر یہی سوال کیا گیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے خود کو دس سال تک باہر رکھنے کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں اور کیا آج کی سنچری کے بعد انھوں نے ان ذمہ داروں کو معاف کردیا ہے۔

میدان میں جنوبی افریقی فاسٹ بولرز کے باؤنسرز کھیلنے والے فواد عالم نے اس سوال کا برجستہ جواب کچھ یوں دیا ’باؤنسر نہ ماریں۔ میں کون ہوتا ہوں کسی کو معاف کرنے والا۔ معاف کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔‘

کراچی میں جاری دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں فواد عالم کی سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ کو پہلی اننگز میں 220 رنز پر آؤٹ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو حریف ٹیم پر 88 رنز کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

فواد عالم کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا ہے۔ ان کی ہمیشہ یہی سوچ رہی ہے کہ ان کے نصیب میں جو نہیں تھا وہ انھیں نہیں ملا اور اسی سوچ کے ساتھ وہ آگے بڑھتے رہے ہیں۔ ’میں یہ نہیں سوچتا کہ میرے دس سال ضائع ہوگئے۔ یہ کسی بھی انسان کو نہیں پتہ کہ اس کے نصیب میں کیا ملنا لکھا ہے۔ میرے نصیب میں جو کچھ لکھا ہے وہ مجھے ملنا ہے۔ میری سوچ یہی ہے کہ آپ کو جو مواقع مل رہے ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کروں۔ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’مشکل صورتحال تھی ٹیم کو ایک بڑی اننگز اور بڑی پارٹنرشپ کی ضرورت تھی۔ ستائیس پر چار وکٹیں گرنے کے بعد میں اظہر علی سے یہی بات کر رہا تھا کہ ہم جنوبی افریقہ کے سکور سے جتنا قریب ہوسکیں اچھا ہوگا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم نے جنوبی افریقہ پر پہلی اننگز مییں سبقت حاصل کرلی۔‘

فواد عالم ٹیم منیجمنٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق نے ہمیشہ انہیں حوصلہ دیا ہے حالانکہ انگلینڈ کے دورے میں ان سے سکور نہیں ہوا اور وہ ٹیم سے ڈراپ ہوسکتے تھے لیکن کوچ کو ان پر یقین تھا۔

وہ کہتے ہیں ’سی طرح انھیں نیوزی لینڈ میں بھی چانس دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ٹیم منیجمنٹ کی طرف سے انھیں بڑی سپورٹ مل رہی ہے اور اسی اعتماد کی وجہ سے وہ نیوزی لینڈ میں بھی ٹیسٹ سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

اس اننگز میں بھی جب وہ بیٹنگ کرنے کے لیے آئے تھے تو 37 رنز پر تین وکٹیں گرچکی تھیں اور کراچی ٹیسٹ میں بھی انھوں نے مشکل صورتحال میں سنچری سکور کی۔

وہ کہتے ہیں ’یہ اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ بے یقینی کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی مثبت چیزیں جو آپ کو کوچ اور منیجمنٹ کی طرف سے ملتی ہیں جس سے آپ کی کارکردگی میں نمایاں فرق آجاتا ہے۔‘

فواد عالم کا کہنا ہے کہ ’یونس خان لیجنڈ کرکٹر ہیں۔ میں ان کی کپتانی میں بھی کھیلا ہوں اور اب وہ بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے ٹیم کے ساتھ ہیں۔انھوں نے ہمیشہ اپنے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو بھرپور اعتماد دیا ہے۔ ان کے کام کرنے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ پہلے ہم کرکٹرز کی بات سنتے ہیں اور انہی باتوں کی روشنی میں وہ اپنا تجربہ ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ وہ یونس خان بن کر نہیں بلکہ ہماری طرح رہ کر سمجھاتے ہیں اور ہماری مشکل دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اظہر علی 51 رنز بنانے کے بعد ماہراج کی گیند پر آؤٹ ہوئے

'اب فواد کو صرف سنچریاں بنانے پر ٹیم سے نکالا جائے گا'

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین پاکستانی بلے باز فواد عالم کی سنچری پر ان کی تعریف کرتے دکھائی دیے۔

سابق کرکٹر ایئن بیشپ نے لکھا کہ 'فواد کو ہمیشہ رنز کرتا دیکھ کر میرا دل خوش ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

'جو 10 سال ان سے چھینے گئے وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ہم اب صرف ان لمحات کا جشن منا سکتے ہیں۔'

اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ ان کی تکنیک کو بظاہر پسند نہ کرنے والے لوگ بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

زاہد علی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ 'فواد کی تکنیک شاید عجیب لگتی ہو لیکن انھوں نے خود کو دوبارہ ثابت کیا ہے۔

’اچھی بات یہ ہے کہ انھوں نے تب سکور کیا جب ٹیم کو اس کی ضرورت تھی۔'

عبدالعزیز نے طنزیہ کہا کہ 'اب فواد کو اس لیے ڈراپ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ففٹی کی جگہ صرف سنچریاں بنا رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہTWITTER

یاد رہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں یہ فواد کی تیسری ٹیسٹ سنچری ہے جبکہ انھوں نے اب تک کوئی نصف سنچری نہیں بنائی۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ فواد کی 38ویں اور نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ان کی 11ویں سنچری ہے۔

پہلے ٹیسٹ میچ کی صورتحال

میچ میں دوسرے روز کے کھیل کے اختتام پر پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں اب تک آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 308 رنز بنا چکی ہے۔

فواد عالم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو چوکوں اور دو چھکوں کے ساتھ سنچری مکمل کی اور پھر 109 رنز کے سکور پر لونگی نگیڈی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

آل راؤنڈر فہیم اشرف نے 64 رنز کی باری کھیلی اور فواد کے ساتھ 102 رنز کی شراکت قائم کی جس نے ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔ لیکن پھر پہلے فواد اور چند گیندوں کے بعد فہیم آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

اس سے قبل اظہر علی 51 رنز جبکہ محمد رضوان 33 کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے ماہراج، نورکیا، نگیڈی اور ربادا سب نے دو، دو وکٹیں حاصل کی ہیں۔

اس وقت کریز پر حسن علی اور نعمان علی موجود ہیں۔

بدھ کی صبح جب دوسرے دن کے کھیل کا آغاز ہوا تو پاکستان نے 33 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ پر اپنی اننگز شروع کی تھی۔ منگل کے آخری سیشن میں پاکستان کی چار وکٹیں گِر چکی تھیں۔

میچ کے پہلے دن جب جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ان کے بلے بازوں کو کافی مشکلات رہیں اور پاکستانی بولرز ان پر حاوی رہے۔ مہمان ٹیم 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

مگر پھر پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا آغاز اچھا نہ تھا اور اس کے دونوں اوپنر 15 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے۔ آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز عابد علی تھے جو چار رنز بنا سکے جبکہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے عمران بٹ کے ٹیسٹ کریئر کی پہلی اننگز صرف نو رنز پر تمام ہوئی۔ یہ دونوں وکٹیں ربادا نے حاصل کیں۔

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

اوپنر عابد علی محض چار رنز بنا سکے

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں زخمی ہونے کی وجہ سے حصہ نہ لینے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم کا سکور بھی دوہرے ہندسوں تک نہ پہنچ سکا اور وہ سات رنز بنا کر کیشو مہاراج کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ یہ بابر اعظم کا بطور کپتان پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

چوتھی وکٹ نائٹ واچ مین شاہین شاہ آفریدی کی گری جو صرف چار گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور نورجے کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

میچ کے پہلے روز پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھائی اور مہمان ٹیم کو 70ویں اوور میں 220 رنز کے مجموعے پر پویلین بھیج دیا

اس سے قبل منگل کی صبح نیشنل سٹیڈیم میں 14 برس کے وقفے کے بعد پاکستان آنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھائی اور مہمان ٹیم کو 70ویں اوور میں 220 رنز کے مجموعے پر پویلین بھیج دیا۔

مہمان ٹیم کی جانب سے ڈین ایلگر کے علاوہ کوئی بھی بلے باز وکٹ پر جم نہ سکا۔ ایلگر نے 58 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ جارج لنڈے 35 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے سپنر یاسر شاہ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ شاہین آفریدی کے علاوہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے نعمان علی نے دو، دو وکٹیں لیں جبکہ ایک وکٹ حسن علی کو ملی۔

پاکستانی فیلڈرز نے پہلی اننگز میں عمدہ فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا اور جنوبی افریقہ کے دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں زخمی ہونے کی وجہ سے حصہ نہ لینے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم کا سکور بھی دوہرے ہندسوں تک نہ پہنچ سکا

مبصرین کے مطابق اس میچ میں سپنرز کی کارکردگی انتہائی اہم رہے گی اور دونوں ٹیموں کی جانب سے اس پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تجربہ کار یاسر شاہ اور اپنا پہلا میچ کھیل رہے نعمان علی کو بطور سپیشلسٹ سپنر شامل کیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی افریقہ کی طرف سے بھی دو سپنر کیشو مہاراج اور جارج لد ٹیم میں شامل ہیں۔

اس میچ میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کریئر کا آغاز ہوا ہے اور بلے باز عمران بٹ اور سپنر نعمان علی کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہیں۔

پاکستان کی ٹیم:

عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی

جنوبی افریقہ کی ٹیم:

ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو ماہراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور لونگی نگیڈی