پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: اگر ذرا سا بھی ڈرامہ نہ ہو تو جیت کا کیا مزا؟

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار
کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سفر وہی یادگار ہوتے ہیں جہاں منزل سیدھی سادی نہیں، ٹیڑھی میڑھی، دشوار گزار راہوں سے گزر کر ملے۔ جیت وہی مزیدار ہوتی ہے جو سنسنی اور بے چینی کے اضطراب کے بعد نصیب ہو۔ اگر ذرا سا بھی ڈرامہ نہ ہو تو فتح کا ذائقہ پھیکا پڑ جاتا ہے۔

یہ ہدف ایسا تو نہیں تھا کہ بابر اعظم کی سنچری اور امام الحق کی ففٹی کے بعد بھی لوئر آرڈر پہ بھاری پڑ جاتا لیکن پانچویں نمبر پہ تجربے کی غیر موجودگی اور چھٹے نمبر پہ بے یقینی نے اس سہل سفر کو بھی مشکل بنا ڈالا۔

جنوبی افریقہ میں خزاں کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ عموماً یہاں ان دنوں میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی جاتی بلکہ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے شیڈول اور انڈین کرکٹ بورڈ کی خواہشات کا احترام کیا جاتا ہے۔

اسی لیے یہ اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا کہ اس موسم میں یہاں پچز کا برتاؤ کیسا رہے گا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

لیکن بابر اعظم نے پچ کا رویہ خوب سمجھا اور ٹاس جیت کر بالکل بجا فیصلہ کیا کہ پہلے بولنگ کی جائے کیونکہ وکٹ میں نمی موجود تھی اور گیند سیم ہونے کے امکانات بھی بہت تھے۔

انھی عوامل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین نے درست لینتھ پہ بولنگ کی اور جنوبی افریقی اوپنر ڈی کاک کی جارحیت کے آگے بند باندھے رکھا۔ جب ڈی کاک نے اپنے بازو کھولنے کی کوشش بھی کی تو بات زیادہ چل نہیں پائی اور پہلے پاور پلے میں ہی پاکستان نے میچ پہ گرفت مضبوط کر لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین نے درست لینتھ پہ بولنگ کی اور جنوبی افریقی اوپنر ڈی کاک کی جارحیت کے آگے بند باندھے رکھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یہ وکٹ ایسی نہیں تھی کہ کوئی بھی بلے باز فوری اپنے قدم جما پاتا۔ سیم اور باؤنس تو تھا مگر بحیثیتِ مجموعی یہ وکٹ روایتی جنوبی افریقی پچز کی نسبت قدرے سست رو تھی۔ اسی سست روی نے جنوبی افریقہ کی بے مغز جارحیت کو لاحاصل کر چھوڑا۔

میزبان ٹیم کے نئے کپتان ٹیمبا باووما بھی اسی سست روی کا شکار ٹھہرے اور ایک آہستہ آتی ہوئی گیند پہ کیچ دے بیٹھے۔ باووما کو گمان تھا کہ وکٹ کی پیس ان کی ٹائمنگ کے لیے کافی ہو گی مگر ان کی توقعات انھی کے آڑے آ گئیں۔

اگر ڈیوڈ ملر اور راسی وان ڈر ڈوسن بھی ایسی ہی 'جارحیت' کا مظاہرہ کرتے تو امکان تھا کہ میچ اپنے مقررہ وقت سے کہیں پہلے ختم ہو جاتا مگر اس پارٹنرشپ نے میچ میں جان ڈال دی اور ایک مسابقتی مجموعہ سکور بورڈ پہ جڑ دیا۔

مگر یہ مسابقتی مجموعہ بابر اعظم کی توقعات کے عین مطابق تھا کہ جنھوں نے تو ٹاس پہ بھی یہی کہا تھا کہ جنوبی افریقی اننگز کو 275 رنز تک محدود کرنے کی کوشش کریں گے۔

بیچ کے چند اوورز چھوڑ کر، پاکستان نے پوری اننگز میں بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ لیکن چند ایک ایسے کمزور پہلو البتہ ضرور ہیں جن پہ ابھی وقار یونس کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اگر ڈیوڈ ملر اور راسی وان ڈر ڈوسن بھی ایسی ہی 'جارحیت' کا مظاہرہ کرتے تو امکان تھا کہ میچ اپنے مقررہ وقت سے کہیں پہلے ختم ہو جاتا

لیکن پاکستان کے لیے زیادہ پریشان کن چیز اس کا لوئر مڈل آرڈر ہے جہاں آصف علی ابھی تک اپنا جواز نہیں لا پائے۔

تھنک ٹینک کے لیے لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ آصف علی شاداب خان سے پہلے کیوں بیٹنگ کر رہے ہیں۔

شاداب خان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اننگز کو لمبا لے کر چل سکتے ہیں اور وقت آنے پہ گیند کو باؤنڈری کی سیر بھی کروا سکتے ہیں جبکہ آصف علی کی بیٹنگ صرف آخری اوورز میں کارگر ثابت ہوتی ہے اور اننگز کو لمبا لے کر چلنے والی صلاحیت تاحال ان کے کرئیر میں نظر نہیں آئی۔

اگرچہ انگلیاں اٹھانے والے امام الحق پہ تنقید تو بہت کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ون ڈے کرکٹ میں ہر ٹیم کو اپنے ٹاپ آرڈر میں کوئی نہ کوئی ایسا کھلاڑی چاہیے ہی ہوتا ہے جو ایک اینڈ کو سنبھال کر رکھے اور ساتھ آنے والوں کو اننگز بڑھانے میں مدد کرے۔

اسی حکمتِ عملی نے بابر اعظم کی اننگز کو بڑھاوا دیا اور وہ نہایت دلکش سٹروکس پہ مبنی اپنے کرئیر کی تیرہویں ایک روزہ سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔

اس سنچری نے پاکستانی اننگز کا رخ متعین کیا اور میچ میں پاکستان کا پلڑا بھاری کر دیا۔

گو کہ نورکیہ کے زبردست سپیل نے بابر اعظم کو آؤٹ کرنے کے بعد پاکستانی اننگز کو پٹڑی سے اتارنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تب تک خاصی دیر ہو چکی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

نورکیہ کے زبردست سپیل نے بابر اعظم کو آؤٹ کرنے کے بعد پاکستانی اننگز کو پٹڑی سے اتارنے کی ہر ممکن کوشش کی

تب صرف اس ڈرامے کا ہی امکان بچا تھا جو پاکستانی لوئر آرڈر نے رچایا اور کھینچ تان کے میچ کو آخری گیند تک لے گیا۔

وگرنہ اس وکٹ پہ یہ مجموعہ کوئی ایسا پہاڑ نہیں تھا کہ بھوت بن کر پاکستانی ڈریسنگ روم پہ سوار ہو جاتا۔

بلاشبہ پاکستان کے بیٹنگ آرڈر میں مزید بہتری کی خاصی گنجائش ہے مگر فی الوقت اس فتح کا ذائقہ ایسا خوش کن ہے کہ اگلے میچز کے لیے اعتماد کو کئی گنا بڑھا دے گا۔